حدیث نمبر: 6702
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَى رَجُلًا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ ، فَقَطَعَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ، ان سے ابن جریج نے ، ان سے سلیمان احول نے ، ان سے طاؤس نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کعبہ کا طواف لگام یا اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کاٹ دیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6702
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1620 | صحيح البخاري: 1621 | صحيح البخاري: 6703 | سنن ابي داود: 3302 | سنن نسائي: 2923 | سنن نسائي: 3842

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6703 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6703. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، نبی ﷺ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک ایک انسان کو کھینچ رہا تھا جس کی ناک میں رسی تھی۔ نبی ﷺ نے اپنے دست مبارک سے وہ کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ اپنے ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6703]
حدیث حاشیہ: غالباً وہ شخص نابینا بوڑھا رہا ہوگا۔
یہ تکلیف بالاتفاق ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6703 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6703 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6703. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، نبی ﷺ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک ایک انسان کو کھینچ رہا تھا جس کی ناک میں رسی تھی۔ نبی ﷺ نے اپنے دست مبارک سے وہ کاٹ دی، پھر حکم دیا کہ اپنے ہاتھ سے اس کی رہنمائی کرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6703]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے تو آپ نے ایک انسان کو دیکھا جس کا ہاتھ دوسرے انسان کے ساتھ رسی وغیرہ سے بندھا ہوا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رسی کاٹ دی اور فرمایا: ’’اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1620) (2)
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے نذر مانی تھی کہ اس انداز سے بیت اللہ کا طواف کرے گا جیسا کہ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
(سنن النسائي، الأیمان والنذور، حدیث: 3841، و فتح الباري: 718/11)
بہرحال ایسی نذر کو پورا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں جس سے خواہ مخواہ خود کو تکلیف میں ڈالنا مقصود ہو۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6703 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1620 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1620. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔ اس دوران میں آپ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جس نے اپنا ہاتھ تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز کے ذریعے سے دوسرے شخص سے باندھ رکھا تھا۔ نبی ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا، پھر فرمایا: ’’ہاتھ پکڑ کر اسے لے چلو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1620]
حدیث حاشیہ: شاید وہ اندھا ہوگا مگر طبرانی کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باپ بیٹے تھے۔
یعنی طلق بن شبراور ایک رسی سے دونوں بندھے ہوئے تھے۔
آپ نے حال پوچھا تو شبر کہنے لگا کہ میں حلف کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ میرا مال اور میری اولاد دلادے گا تو میں بندھا ہوا حج کروں گا۔
آنحضرت ﷺ نے وہ رسی کاٹ دی اور فرمایا دونوں حج کرو مگر یہ باندھنا شیطانی کام ہے۔
حدیث سے یہ نکلا کہ طواف میں کلام کرنا درست ہے کیونکہ آپ نے عین طواف میں فرمایا کہ ہاتھ پکڑ کرلے چل (وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1620 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1620 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1620. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ کعبہ کا طواف کررہے تھے۔ اس دوران میں آپ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جس نے اپنا ہاتھ تسمے یا دھاگے یا کسی اور چیز کے ذریعے سے دوسرے شخص سے باندھ رکھا تھا۔ نبی ﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا، پھر فرمایا: ’’ہاتھ پکڑ کر اسے لے چلو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1620]
حدیث حاشیہ:
(1)
طواف اگرچہ نماز کی طرح ہے، تاہم اس میں گفتگو کرنا جائز ہے۔
لیکن وہ گفتگو بامقصد ہو، فضول اور لچر قسم کی نہ ہو۔
(2)
حدیث میں اگرچہ کسی خاص غرض سے گفتگو کرنے کا ذکر ہے لیکن امام بخاری ؒ نے مطلق گفتگو کا باب باندھا ہے۔
شاید ان کا اس حدیث کی طرف اشارہ مقصود ہو جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بیت اللہ کا طواف کرنا نماز کی طرح ہے، البتہ اس میں اللہ تعالیٰ نے گفتگو کو جائز قرار دیا ہے، لہذا دوران طواف میں جو گفتگو کرے وہ کسی کی خیرخواہی پر ہی مبنی ہو۔
‘‘ (جامع الترمذي، الحج، حدیث: 960)
بہتر ہے کہ دوران طواف میں اللہ کا ذکر اور قرآن کریم کی تلاوت کی جائے، گفتگو سے حتی الوسع اجتناب کیا جائے۔
(فتح الباري: 609/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1620 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1621 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1621. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک شخص کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ رسی یا کسی اور چیز سے بندھا ہواتھا۔ آپ نے اسے کاٹ دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1621]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ ایک آدمی دوسرے شخص کو دوران طواف میں اس کی ناک میں نکیل ڈال کر کھینچ رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی رسی کو کاٹ کر فرمایا: ’’اسے ہاتھ سے پکڑ کر چلو۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأیمان والنذور، حدیث: 6703) (2)
ممکن ہے کہ اس شخص نے نذر مانی ہو کہ میں اس انداز سے حج کروں گا۔
دور جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اس طرح حج کرنے سے انسان اللہ کا مقرب بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس عمل کو باطل قرار دیا۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر دوران طواف کوئی برا کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے سے طواف میں کوئی نقص نہیں ہو گا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1621 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3302 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´معصیت کی نذر نہ پوری کرنے پر کفارہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3302]
فوائد ومسائل:
کسی کا نکیل ڈال کرچلنا یا اسے چلانا انسانی شرف کی توہین ہے۔
اسلامی شریعت اور اس قسم کی جہالتوں سے انسانوں کو آزاد کرنے کےلئے آئے ہیں۔
(وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ) (الأعراف:157) اور آپ(ﷺ) ان لوگوں پرجو بوجھ اور طوق تھے ان کو اتارتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3302 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2923 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´طواف کے درمیان باتیں کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جائے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2923]
اردو حاشہ: (1) طواف عبادت ہے بلکہ اسے نماز بھی کہا گیا ہے کیونکہ طواف بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مشروع کیا گیا ہے، لہٰذا اس میں فالتو کلام نہیں ہونا چاہیے بلکہ اللہ کا ذکر اور دعا ہو، البتہ کوئی ضروری یا علمی بات کی جا سکتی ہے جیسا کہ اس حدیث میں ناواقف کو مسئلہ بتایا گیا ہے۔
(2) نکیل ڈال کر نکیل ڈال کر چلنا چلانا بھی زہد اور عبادت کا ایک حصہ سمجھ لیا گیا تھا، مگر نکیل جانور کو ڈالی جاتی ہے، انسان کو نہیں کیونکہ وہ سننے، سمجھنے اور عمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے زبان سے سمجھایا جائے یا ہاتھ سے پکڑ کر چلایا جائے۔ انسانوں کے لیے جانوروں کی مشابہت فطرت انسانیہ کے خلاف ہے۔ اسلام جو کہ دین فطرت ہے، ایسے برے کام کو عبادت کے نام پر کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ اس لیے آپ نے روکا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2923 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3842 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ایسی چیز کی نذر ماننا جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود نہ ہو۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو کعبے کا طواف کر رہا تھا، اور ایک آدمی اس کی ناک میں نکیل ڈال کر اسے کھینچ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا پھر حکم دیا کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے جائے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس (آدمی) کے پاس سے گزرے، وہ کعبے کا طواف کر رہا تھا اور اس نے ایک آدمی کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3842]
اردو حاشہ: گلے‘ ناک یا ہاتھ کو رسی باندھ کر آدمی کو کھینچنا جانوروں کے ساتھ تشبیہ ہے۔ ان کے عاقل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے گلے یا ناک وغیرہ میں رسی ڈالنی پڑتی ہے تاکہ انہیں قابو کیا جاسکے‘ جبکہ انسان عاقل ہے۔ اسے زبان یا زیادہ سے زیادہ ہاتھ سے سمجھایا جا سکتا ہے‘ لہٰذا رسی یا نکیل کی ضرورت نہیں بلکہ یہ جانوروں کے ساتھ مشابہت ہے اور انسانیت کی توہین ہے جسے دین فطرت کے آخری نبی کیسے گوارا فرما سکتے تھے؟ فِدَاہُ نَفْسِیْ وَرُوحِي وَأبِي وأمي ﷺ۔ دور جاہلیت میں لوگ ایسی نذریں مان لیا کرتے تھے۔ جن سے سوائے مشقت‘ تکلیف یا ذلت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ شریعتِ اسلامیہ نے ایسی تمام نذروں کو کالعدم قراردیا‘ یعنی نہ وہ مانی جائیں گی‘ اور نہ ان پر عمل کیا جائے گا‘ البتہ کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3842 سے ماخوذ ہے۔