صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ هَلْ يُصَلِّي الإِمَامُ بِمَنْ حَضَرَ وَهَلْ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَطَرِ: باب: جو لوگ (بارش یا اور کسی آفت میں) مسجد میں آ جائیں تو کیا امام ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور برسات میں جمعہ کے دن خطبہ پڑھے یا نہیں؟
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا ، " فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ صَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسِ : أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى ، قَالَ : مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ .´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا ۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو ( صاف کر کے ) دھو دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں ۔ آل جارود کے ایک شخص ( عبدالحمید ) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
تو امام کو ایسا کرنے کی اجازت ہے۔
باب میں بارش کے عذر کا ذکر تھا اور حدیث ہذا میں ایک انصاری مرد کے موٹاپے کا عذر مذکور ہے۔
جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ شرعاً جو عذر معقول ہو ا س کی بنا پر جماعت سے پیچھے رہ جانا جائز ہے۔
مذکورہ تمام احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بحالت عذر اگر کچھ لوگ اسے رخصت خیال کرتے ہوئے مسجد میں حاضر نہ ہوں بلکہ گھروں میں نماز پڑھ لیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔
ہاں اگر وہ عزیمت پر عمل پیرا ہوکر مشقت اٹھاتے ہوئے برضاورغبت مسجد میں آجائیں تو امام کو چاہیے کہ وہ حاضرین کےلیے نماز باجماعت کا اہتمام کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موٹے آدمی کی عدم موجودگی میں بقیہ نمازیوں کے لیے نماز باجماعت کا اہتمام فرمایا۔ w