صحيح البخاري
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ: باب: اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا پھر قسم کے بعد اس نے انگور کا پکا ہوا یا میٹھا پانی یا کوئی نشہ آور چیز یا انگور سے نچوڑا ہوا پانی پیا تو بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ یہ چیزیں ان کے رائے میں نبیذ نہیں ہیں۔
حَدَّثَنِي عَلِيٌّ ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَسَ ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ ، فَكَانَتِ الْعَرُوسُ خَادِمَهُمْ ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ : هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ ؟ قَالَ : " أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ " .´مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا ، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی ، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا ۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں ، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا ، تمہیں معلوم ہے ، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا ۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت سہل بن سعد ساعدی وفات نبوی کے وقت 15 سال کے تھے۔
91ھ میں مدینہ میں وفات پائی۔
مدینہ میں فوت ہونے والے یہ آخری صحابی ہیں۔
بعض اہل علم نے کھجوروں سے تیار کی ہوئی نبیذ کو مکروہ خیال کیا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان کی تردید میں یہ عنوان قائم کیا ہے۔
جن حضرات نے اسے ناپسند کیا ہے وہ اس امر پر محمول ہو گا کہ جس میں کافی تغیر آ چکا ہو اور نشہ آور ہونے کے قریب ہو۔
بہرحال کھجوروں کا نبیذ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ نشہ آور نہ ہو۔
اگرچہ حدیث میں اس کے نشہ آور ہونے یا نہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں، تاہم رات کے آغاز سے لے کر دوپہر دن تک اس میں کسی قسم کا جوش نہیں آتا اور نہ اس میں ترشی ہی پیدا ہوتی ہے، لہذا اس قسم کا مشروب پینے کی شرعاً اجازت ہے۔
(فتح الباري: 79/10)
(1)
حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کا نام مالک بن ربیعہ ہے جو ساعدہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔
بدری صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے آخر میں فوت ہوئے۔
ان کی بیوی کا نام سلامہ بنت وہب ہے۔
مذکورہ واقعہ نزول حجاب، یعنی پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔
(2)
دعوت ولیمہ قبول کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہاں کوئی غیر شرعی کام نہ ہوں، چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ایک دعوت میں گئے، وہاں انھوں نے جانداروں کی تصاویر دیکھیں تو واپس آ گئےاور شرکت نہ کی۔
(عمدة القاري: 133/14)
کھانے میں اور شربت بنانے میں اکثر اسی کا استعمال ہوتا تھا جیسا کہ حدیث ہذا سے ظاہر ہے۔
(1)
عنوان میں نقیع کے بعد شراب کا ذکر کیا گیا ہے جو فقہی اصطلاح میں عام کا خاص پر عطف ہے۔
(2)
مشروب کے لیے شرط ہے کہ اس میں نشہ نہ ہو کیونکہ نشہ آور کوئی بھی مشروب استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔
(3)
یاد رہے کہ نقیع وہ کھجوریں ہیں جو پانی میں ڈال دی جائیں تاکہ ان کی مٹھاس نکل آئے،جسے ہماری زبان میں کھجور کا جوس (نبیذ)
کہتے ہیں۔
(4)
عربوں کےہاں کھجور ایک مرغوب اور بکثرت ملنے والا میوہ ہے۔
کھانے میں اور شربت بنانے میں عرب اسی کو استعمال کرتے تھے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
والله اعلم
معلوم ہوا کہ دلہن بھی فرائض میزبانی ادا کر سکتی ہے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت پردے کے ساتھ عورت ایسے سارے کام کاج کر سکتی ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہوا کہ بوقت ضرورت دلہن بھی فرائض میزبانی ادا کر سکتی ہے اور پردے کے ساتھ وہ گھر میں کام کاج کر سکتی ہے۔
اس میں کوئی حرج نہیں۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے بیوی کا خاوند اور مہما نوں کی خدمت کرنا ثابت ہوتا ہے، خاوند کے علاوہ دوسرے لوگوں کی خدمت اس وقت جائز ہے جب کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور عورت بھی پردے کی پابندی کرے، نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے اس طرح کی خدمت لے سکتا ہے۔
والله اعلم (فتح الباري: 312/9)
(1)
کھجور کو پانی میں بھگو کر اسے مل چھان کر شربت بنانا نبیذ کہلاتا ہے۔
یہ ایک مقوی اور فرحت بخش مشروب ہے۔
عربی زبان میں اسے نقیع کہتے ہیں۔
جب اس میں ترشی پیدا ہو جائے اور جوش مارنے لگے تو اس کا پینا جائز نہیں۔
(2)
اس قسم کا نبیذ سردیوں میں تین دن تک اور گرمیوں میں صرف ایک دن تک قابل استعمال رہتا ہے، چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کا نبیذ بنایا جاتا تو آپ اسے اس دن، اگلے دن اور اس سے اگلے دن، یعنی تیسرے دن کی شام تک استعمال کرتے تھے، پھر آپ حکم دیتے کہ خادموں کو پلا دیا جائے یا اسے بہا دیا جائے۔
(صحیح مسلم، الأشربة، حدیث: 5226 (2004)
امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خادموں کو پلانے سے مقصود یہ ہوتا تھا کہ خراب ہونے سے پہلے پہلے اسے استعمال کر لیا جائے، اس کے بعد اسے استعمال نہ کیا جائے۔
(سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3713)
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1912]
فوائد و مسائل:
(1)
ولیمے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق اہتمام کرنا چاہیے۔
اگر کوئی شخص معمولی دعوت ہی کر سکتا ہو تو اس کو قرض لے کر پر تکلف دعوت کرنے کی ضرورت نہیں۔
(2)
ہرشخص کی دعوت قبول کرنی چاہیے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر۔
(3)
عورت مہمانوں کی خدمت کر سکتی ہے اگرچہ وہ محرم نہ ہوں بشرطیکہ شرعی پردے کا خیال رکھا جائے۔
(4)
کجھوروں کو پانی میں بھگو کر جو شربت بنایا جاتا ہے اسے نبیذ کہتے ہیں۔
اس میں نشہ نہیں ہوتا اس طرح کا شربت منقی پانی میں رات بھر بھگو کر بھی بنایا جاتا ہے۔
اگر اسے مناسب مدت سے زیادہ رکھا جائے تو اس میں نشہ پیدا ہو جاتا ہے، اس وقت اس کا پینا حرام ہے۔
اس کی علامت یہ ہے کہ شربت پر جھاگ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کا ذائقہ میٹھے کے بجائے کڑوا ہو جاتا ہے۔