صحيح البخاري
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ: باب: ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لیے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ ، فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ " ، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ ، قَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ ، فَقُلْ : " إِنَّ اللَّهَ ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْمِلُكُمْ " .´مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا ( کیونکہ موجود نہیں ہیں ) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے ۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا ( یہ کہا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ"، وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ، قَالَ:" انْطَلِقْ إِلَى أَصْحَابِكَ، فَقُلْ:" إِنَّ اللَّهَ، أَوْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْمِلُكُمْ . . .»
”. . . ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری کے جانور مانگنے کے لیے بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہارے لیے کوئی سواری کا جانور نہیں دے سکتا (کیونکہ موجود نہیں ہیں) جب میں آپ کے سامنے آیا تو آپ کچھ خفگی میں تھے۔ پھر جب دوبارہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھیوں کے پاس جا اور کہہ کہ اللہ تعالیٰ نے یا (یہ کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے لیے سواری کا انتظام کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ: 6678]
باب اور حدیث میں مناسبت: ترجمۃ الباب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے اس بات کو ظاہر فرمایا کہ ملکیت سے قبل غصہ کی حالت میں قسم کھا لے تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟ اور اگر وہ چیز بعد میں ملکیت میں داخل ہو جائے تو پھر اس مسئلے کا کیا حل ہو گا؟ تحت الباب حدیث میں سواریاں دینے کی قسم کا ذکر فرمایا ہے، اس وقت جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی تو اس وقت سواریاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک میں نہ تھیں، جب ملک میں آئیں اس وقت دینے سے نہ قسم ٹوٹی اور نہ کفارہ لازم ہوا، اس حدیث سے غصہ کی حالت میں قسم کھا لینے کی بھی مثال ہو سکتی ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «و الذى يظهر أن البخاري قصد غير هذا و هو أن النبى صلى الله عليه وسلم حلف أن لا يحملهم فلما حملهم راجعوه فى يمينه فقال: ما أنا حملتكم ولكنا الله حملكم، فبين أن يمينه انما انعقدت فيما يملك فلو حملهم على ما يملك لحنت و كفّر.» (1)
”جو بات ظاہر ہے، وہ یہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قصد یہ نہیں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ انہیں سواریاں نہ دیں گے، پھر جب عطا کیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم یاد دلائی تو فرمایا: ”یہ میں نے تمہیں سوار نہیں کرایا، بلکہ اللہ تعالی نے سوار کرایا ہے“، تو بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملک سے ہے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ملک کی سواریوں پر انہیں سوار کرتے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حانث ہو جاتے اور کفارہ ادا کرتے۔“
ابن المنیر رحمہ اللہ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حلف اٹھایا تھا کہ میں آپ کو سواری نہیں دوں گا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری عطا فرمائی تو اپنے یمین میں ان کو لوٹایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سواریاں میں نے آپ کو نہیں دیں، بلکہ اللہ تعالی نے دی ہیں“، مزید ابن المنیر رحمہ اللہ اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں: «فلو حملهم على ما يملكه لكفّر، و لا خلاف فيما إذا حلف على شيئي و ليس فى ملكه انه لا يفعل فعلاً متعلقًا بذالك الشيئي مثل قوله: ”والله لا ركبت هذا البعير“ و لم يكن البعير فى ملكه، فلو ملكه و ركبه حنث و كفّر و ليس هذا من تعليق العتق على الملك.» (1)
”پس اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس پر سوار کرتے جس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کفارہ دیتے، کہتے ہیں کہ اس امر میں اختلاف نہیں ہے کہ جس نے کسی شئی کی قسم اٹھائی اور وہ اس کے ملک میں نہیں کہ وہ کوئی ایسا فعل نہ کرے گا جو اس شئی کے ساتھ معلق ہو، مثلا کہے کہ اگر تم اس اونٹ پر سوار ہوتے تو واللہ میں یہ کروں گا، اور وہ اونٹ اس کی ملک میں نہ ہو تو اگر وہ کبھی اس کا مالک ہوا پھر اس پر سوار ہوا تو حانث ہوا، اور یہ ملک ہر قسم کو معلق کرنے کے باب سے نہیں۔“
ان گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”یہ سواریاں اللہ تعالی نے تمہیں عطا کی ہیں“، اگر یہ سواریاں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ملک میں ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم کا کفارہ دیتے۔
اب باب اور حدیث میں مناسبت ظاہر ہے۔
دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے جو ترجمۃ الباب قائم فرمایا ہے، اس کے تین اجزاء ہیں، پہلا جزء «يمين» یعنی قسم، دوسرا جزء «في المعصية» یعنی نافرمانی، تیسرا جزء «في حالة الغضب» یعنی غصے میں قسم کھانا۔
ان تینوں اجزاء کو ثابت کرنے کے لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے تحت الباب تین احادیث کا انتخاب فرمایا ہے اور تینوں سے باب کا مطلب ظاہر ہوتا ہے۔
پہلی حدیث جو سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ سے نقل فرمائی ہے، اس میں باب سے مطابقت کچھ یوں ہے، علامہ عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «مطابقة للجزء الأول للترجمة و هو اليمين فيما لا يملك.» (2)
”پہلے جزء سے حدیث کی مناسبت اس قسم سے ہے جس کا وہ مالک نہ ہو۔“
دوسرے جزء کی مطابقت، دوسری حدیث سے یوں ہے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «مطابقة للجزء الثاني للترجمة فى قوله: ”و الله لا أنفق على مسطح شيئًا أبدًا“ و هو مطابق لترك اليمين فى المعصية.» (3)
”دوسرے جزء کی مناسبت دوسری حدیث کے ساتھ ان الفاظوں کے ساتھ ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: اللہ کی قسم! میں مسطح رضی اللہ عنہ پر اب کبھی خرچ نہیں کروں گا، یہ مطابقت ہے اس قسم کو ترک کرنے کی جو معاصیت پر قائم ہو۔“
تیسرے جزء کی مناسبت تیسری حدیث کے ساتھ ان الفاظوں میں ہے، علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «مطابقة للجزء الثالث من الترجمة فى قوله: فوافقته و هو غضبان، فاستحملناه فخلف أن لا يحملنا.» (1)
”تیسرے جزء کی مطابقت ان الفاظوں میں ہے: جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ غصہ میں تھے، پھر ہم نے آپ سے سواری کا جانور مانگا تو آپ نے قسم کھا لی کہ آپ ہمارے لیے اس کا انتظام نہیں کر سکتے۔“
باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری مکہ میں اسلام لائے، حبشہ کی طرف ہجرت کی اور اہل سفینہ کے ساتھ حبشہ سے واپس ہوئے۔
20ھ میں حضرت فاروق نے ان کو بصرہ کا حاکم بنا دیا۔
52ھ میں وفات پائی۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
اس حدیث سے تینوں اجزاء ثابت کیے جا سکتے ہیں، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قسم اٹھائی تو آپ اس وقت سواریوں کے مالک نہ تھے۔
٭ قسم اٹھاتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے کی حالت میں تھے۔
٭ سواری مہیا کرنا نیکی ہے۔
اس کے ترک پر آپ نے قسم اٹھائی۔
ایسے حالات میں اگر قسم اٹھا لی جائے تو واقع ہو جاتی ہے۔
اس کا خلاف کرنے پر کفارہ دینا ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے اس سے یہی سمجھا اور دوبارہ واپس آ کر معذرت کی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اگر میں کسی کام کے متعلق قسم اٹھا لوں، بعد میں مجھے اس کام کے اچھے ہونے کا پتا چلے تو میں وہ کام کر لیتا ہوں اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
(فتح الباري: 689/11)
اتفاق سے اس وقت سواریاں موجودنہ تھیں۔
لہٰذا آنحضر ت انے انکار فرما دیا۔
تھوڑی دیر بعد سواریاں مہیا ہوگئیں اور رسول پاک ﷺ نے ابوموسیٰ ؓ کو واپس بلوا کر پانچ چھ اونٹ ان کو دلوا دئیے۔
اب ابو موسیٰ ؓ کو یہ ڈر ہوا کہ میرے ساتھی مجھ کو جھوٹا نہ سمجھ بیٹھيں کہ ابھی تو اس نے یہ کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ سواری نہیں دے رہے ہیں اور ابھی سواریاں لے کر آگیا۔
اس لیے حضرت ابوموسیٰ ؓ نے ان سے یہ کہا کہ میرے ہمراہ چل کر میری بات کی تصدیق آنحضرت ﷺ سے کرلو تاکہ میری بات کا تم کو یقین ہوجائے۔
چنانچہ ابو موسیٰ ؓ کے اصرار شدید پر چھ آدمی خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے ابو موسیٰ ؓ کے بیان کی تصدیق کی۔
حضرت ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری ؓ مشہور مہاجر صحابی ہیں۔
جنہوں نے حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی اور یہ اہل سفینہ کے ساتھ مدینہ آئے تھے جبکہ رسول کریم ﷺ خیبر میں تھے۔
حضرت فاروق اعظم ؓ نے 20ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا اور خلافت عثمانی میں ان کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا گیا۔
جب ہی یہ مکہ آگئے تھے۔
52ھ میں مکہ ہی میں ان کا انتقال ہوا، رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
1۔
اس حدیث میں حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کا رسول اللہ ﷺ سے سواریاں طلب کرنے کا ذکر ہے، اتفاق سے اس وقت سواریاں موجود نہ تھیں لہذا رسول اللہ ﷺ نے انکار فرما دیا۔
تھوڑی دیر بعد سواریاں مہیا ہوگئیں اورآپ نے حضرت موسیٰ اشعری ؓ کو بلا کر چند سواریاں مہیا کر دیں۔
اب حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ میرے ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے یعنی ابھی تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سواریاں نہیں ہیں اوربھی سواریاں لے کر بھی آگئے۔
اس بنا پر انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میرے ہمراہ چل کر میری بات کی تصدیق کرلو تاکہ تمھیں میری بات کا یقین ہوجائے، چنانچہ ان کے اصرار پر چھ آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے بیان کی تصدیق کی۔
2۔
قدوم اشعریین کے باب میں پانچ اونٹوں کا ذکر تھا اور اس روایت میں چھ اونٹوں کاذکر ہے؟ ممکن ہے کہ واقعات متعدد ہوں۔
جب اشعری حضرات آئے تو انھیں پانچ اونٹ دیے اور غزوہ تبوک میں شمولیت کے لیے چھ اونٹ دیے کیونکہ اشعری حضرات سات ہجری میں آئے تھے جبکہ غزوہ تبوک نوہجری میں ہوا تھا، اس کےعلاوہ تھوڑی تعداد زیادہ کے منافی نہیں ہوتی۔
واللہ اعلم۔
اس لیے میں تمہیں سواریاں مہیا نہیں کروں گا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے سواریاں خریدنے کی صورت پیدا کر دی، تو آپ نے انہیں سواریاں مہیا کر دیں، لیکن چونکہ ابو موسیٰ اشعری یہ سمجھتے تھے، شاید آپﷺ اپنی قسم بھول گئے ہیں، اس لیے یہ ہمارے لیے باعث برکت نہیں ہوں گی، وہ چونکہ اپنی قوم کے نمائندہ تھے، اس لیے بعض دفعہ ذکر سب کا کیا گیا، اور بعض دفعہ صرف ان کی آمد کا تذکرہ کیا گیا، اور حقیقت کے اعتبار سے وہ اکیلے ہی آئے تھے، اس لیے انہیں آپ کے پہلے جواب پر ساتھیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے، دوبارہ ساتھ لے جانے کی ضرورت پیش آئی، چونکہ سواریاں آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مہیا کی تھیں، اپنی طرف سے مہیا نہیں کی تھیں، اس لیے آپﷺ نے فرمایا، میں نے تمہیں سوار نہیں کیا، اللہ نے سوار کیا ہے۔
اس اعتبار سے آپ کی قسم نہیں ٹوٹی، کیونکہ آپ نے اس بنا پر انکار کیا تھا، اور قسم اٹھائی تھی، کہ میرے پاس اس کا انتظام نہیں ہے، جب اللہ تعالیٰ نے انتظام کر دیا، تو آپﷺ نے سواریاں دے دیں، دوسرے لفظوں میں آپ نے اپنی ملکیت سے دینے سے انکار کیا تھا، بعد میں بیت المال کے خرچ پر مہیا کیں، اس لیے آپ کی قسم نہیں ٹوٹی، لیکن آپ نے مسئلہ کی وضاحت کی خاطر بتا دیا، اگر مجھے تمہیں سواریاں مہیا کرنے کی صورت میں اپنی قسم بھی توڑنی پڑتی، تو میں اپنی قسم توڑ دیتا، کیونکہ قسم کے کفارہ سے بچنے کے لیے بہتر کام ترک کرنا درست نہیں ہے، بلکہ بہتر کام کرنا چاہیے اور قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہیے، دوسرا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے یہ کام بھول کر نہیں کیا، بلکہ اس لیے کیا ہے کہ قسم پر قائم رہنے سے بہتر یہی تھا کہ میں قسم توڑ کر تمہیں سواریاں مہیا کرتا، اور میرا اصول یہی ہے کہ کام کرنا، قسم پر اڑنے سے بہتر ہو تو میں قسم پر نہیں اڑتا، اس کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کر دیتا ہوں۔