صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ حَدِّ الْمَرِيضِ أَنْ يَشْهَدَ الْجَمَاعَةَ: باب: بیمار کو کس حد تک جماعت میں آنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي ، فَأَذِنَّ لَهُ فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ الْأَرْضَ ، وَكَانَ بَيْنَ الْعَبَّاسِ وَرَجُلٍ آخَرَ " ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ ، فَقَالَ لِي : وَهَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " .´ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی معمر سے ، انہوں نے زہری سے ، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے اس کی اجازت لی کہ بیماری کے دن میرے گھر میں گزاریں ۔ انہوں نے اس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم زمین پر لکیر کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص کے بیچ میں تھے ( یعنی دونوں حضرات کا سہارا لیے ہوئے تھے ) عبیداللہ راوی نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی ، تو آپ نے فرمایا اس شخص کو بھی جانتے ہو ، جن کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا نے نہیں لیا ۔ میں نے کہا کہ نہیں ! آپ نے فرمایا کہ وہ دوسرے آدمی علی رضی اللہ عنہ تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے سہارے مسجد میں تشریف لے گئے۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: و مناسبۃ ذلک من الحدیث خروجہ صلی اللہ علیہ وسلم متوکنا علی غیرہ من شدۃ الضعف فکانہ یشیر الی انہ من بلغ الی تلک الحال لا یستحب لہ تکلف الخروج للجماعۃ الا اذا وجد من یتوکاءعلیہ (فتح الباری)
یعنی حدیث سے اس کی مناسبت بایں طور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لانا شدت ضعف کے باوجود دوسرے کے سہارے ممکن ہوا۔
گویا یہ ا س طرف اشارہ ہے کہ جس مریض کا حال یہاں تک پہنچ جائے اس کے لیے جماعت میں حاضری کا تکلف مناسب نہیں۔
ہاں اگر وہ کوئی ایسا آدمی پالے جو اسے سہارا دے کر پہنچا سکے تو مناسب ہے۔
حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں دیکھ لیا تھا کہ امت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا شخص اس وقت نہیں ہے۔
اس لیے آپ نے بار بار تاکید فرما کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کو مصلے پر بڑھایا۔
خلافت صدیقی کی حقانیت پر اس سے زیادہ واضح اور دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ جب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سلسلے میں کچھ معذرت پیش کی اور اشارہ کیا کہ محترم والد ماجد بے حد رقیق القلب ہیں۔
وہ مصلے پر جا کر رونا شروع کردیں گے لہٰذا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم فرمائیے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا ایسا خیال بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر والد ماجد مصلے پر تشریف لائے اور بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عوام حضرت والد ماجد کے متعلق قسم قسم کی بدگمانیاں پیدا کریں گے۔
اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیوں جیسی ہو سب کو خاموش کردیا۔
جیسا کہ زلیخا کی سہیلیوں کا حال تھا کہ ظاہر میں کچھ کہتی تھیں اور دل میں کچھ اور ہی تھا۔
یہی حال تمہارا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں۔
مثلاً (1)
ایسے شخص کی اس کے سامنے تعریف کرنا جس کی طرف سے امن ہو کہ وہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوگا۔
(2)
اپنی بیویوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔
(3)
چھوٹے آدمی کو حق حاصل ہے کہ کسی اہم امر میں اپنے بڑوں کی طرف مراجعت کرے۔
(4)
کسی عمومی مسئلہ پر باہمی مشورہ کرنا۔
(5)
بڑوں کا ادب بہرحال بجا لانا جیسا کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔
(6)
نماز میں بکثرت رونا۔
(7)
بعض اوقات محض اشارے کا بولنے کے قائم مقام ہو جانا۔
(8)
نماز باجماعت کی تاکید شدید وغیرہ وغیرہ۔
(فتح الباری)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بریرہ اور حضرت نوبہ رضی اللہ عنہ کا سہارا لے کر نکلے۔
امام نوی رحمہ اللہ نے تطبیق اس طرح بیان کی ہے کہ آپ گھر سے مسجد تک ان دو صحابیات کے درمیان آئے ہوں گے اور اس کے بعد مصلی تک حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوں گے۔
اسی طرح کچھ روایات میں حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کے نام بھی ذکر ہوئے ہیں۔
امام نوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے تعدد واقعات پر محمول کیا جائے گا۔
(فتح الباری: 2/201)
واضح رہے کہ حضرت علی،حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہم کو باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سہارا دینے کا اعزاز حاصل ہوتا رہا جبکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ عمر میں بڑے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہونے کا اعزاز بھی رکھتے تھے،اس لیے انھیں متعدد بار آپ کا دست مبارک پکڑنے کا موقع ملا۔
غالبا یہی وجہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے ان کا نام تو صراحت سے لیا اور دیگر سہارا دینے والوں کا نام مبہم رکھا کیونکہ دوسرا آدمی ہر مرتبہ بدلتا رہتا تھا۔
(عمدۃ القاری: 1/268) (2)
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رونے سے نماز نہیں ٹوٹتی،خواہ بکثرت ہی کیو ں نہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رقت قلبی اور کثرت گریہ سے واقف تھے اس کے باوجود آپ نے انھیں منصب امامت سے سرفراض فرمایا اور رونے سے منع بھی نہیں فرمایا۔
(فتح الباری: 2/203) (3)
اس حدیث میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفۂ بلا فصل ہونے کی واضح دلیل ہے کیونکہ نماز کے لیے امامت جوکہ امامت صغریٰ ہے، امامت کبریٰ، یعنی خلافت کے اہم وظائف میں سے ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ منصب عطا کرکے منصب خلافت کی تفویض کا واضح اشارہ دیا ہے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی بادشاہ بوقت وفات اپنی اولاد میں سے کسی ایک کو تخت پر بٹھا دے۔
باقی رہا یہ اعتراض کہ اگر امامت صغریٰ میں امامت کبریٰ کی طرف واضح اشارہ تھا تو خلافت کے متعلق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف کیون ہوا؟اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے غم میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اس قدر پریشان تھے کہ اس وقت بڑے بڑے معاملات ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے اور ایسا ہونا ایک فطری امر تھا۔
(حاشیۃ السندی: 1/122) w
(1)
یہ عنوان پہلے باب کا تکملہ ہے کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حکم کا ذکر تھا، جس کی حاضرین کو سزا دی گئی حتی کہ روزے دار کو بھی معاف نہیں کیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کے باوجود آپ کے منہ میں دوائی ڈال دی گئی۔
(2)
اس عنوان کے تحت اس کے برعکس واقعہ بیان ہوا ہے کہ حاضرین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ پر سات مشکیں پانی بہایا تو آپ نے اس کا انکار نہیں کیا۔
اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جب مریض کے ہوش و حواس قائم ہوں تو اسے کوئی ایسی چیز استعمال کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے جس سے اس نے روک دیا ہو اور جس چیز کے متعلق وہ حکم دے اس کے بجا لانے میں ٹال مٹول نہیں کرنی چاہیے۔
(فتح الباري: 206/10)
1۔
دوران مرض میں رسول اللہ ﷺ نے امہات المومنین سے فرمایا: ’’میں تمھارے گھروں میں آنے جانے کی ہمت رکھتا اپنی خوشی سے مجھے اجازت دے دیں۔
‘‘ نیز آپ فرمایا کرتے تھے۔
’’میں کل کہاں ہوں گا؟‘‘ آپ حضرت عائشہ ؓ کے گھر آنے کی خواہش رکھتے تھے۔
چنانچہ حضرت میمونہ ؓ کے گھر سے جب حضرت عائشہ ؓ کے گھر تشریف لائے تو سوموار کا دن تھا۔
2۔
آپ کو لانے والے کئی حضرات تھے۔
ایک جانب تو حضرت عباس ؓ تھے دوسری جانب کبھی حضرت علی ؓ، حضرت اسامہ ؓ، حضرت ثوبان ؓ اور کبھی حضرت فضل ؓ ہوتے۔
بعض اوقات گھر کے اندر ایک جانب حضرت بریرہ اور حضرت نوبہ ہوتی تھیں۔
چونکہ دوسری جانب کوئی متعین آدمی نہ تھا اس لیے آپ نے کسی کا نام نہیں لیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت عباس ؓ کا نام بزرگی کے طور پر لیا ہو۔
3۔
رسول اللہ ﷺ نے سات مشکیزے بہانے کا حکم دیا کیونکہ سات کے عدد میں خصوصیت ہے چنانچہ حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ سات کے عدد کو زہر اور جادو کے اثر کو زائل کرنے میں خاص دخل ہے، اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے سات مشکیزوں کا پانی منگوایا۔
(فتح الباري: 177/8)
جیسے ایک حدیث میں ہے کہ آپ سری نماز میں بھی اس طرح سے قرات کرتے تھے کہ ایک آدھ آیت ہم کو سنا دیتے یعنی پڑھتے پڑھتے ایک آدھ آیت ذرا ہلکی آواز سے پڑھ دیتے کہ مقتدی اس کو سن لیتے۔
(مولانا وحید الزماں مرحوم)
ترجمۃ الباب کے بارے میں حافظ ابن حجر ؒ فرماتے ہیں: هذہ الترجمة قطعة من الحدیث الآتي في الباب و المراد بها أن الائتمام یقتضي متابعة المأموم لإمامه الخ (فتح)
یعنی یہ باب حدیث ہی کا ایک ٹکڑا ہے جو آگے مذکور ہے۔
مرا دیہ ہے کہ اقتدا کرنے کا اقتضاءہی یہ ہے کہ مقتدی اپنے امام کی نماز میں پیروی کرے اس پر سبقت نہ کرے۔
مگر دلیل شرعی سے کچھ ثابت ہو تو وہ امر دیگر ہے۔
جیسا کہ یہاں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔
(1)
یہ حدیث اس اجمال کی تفصیل ہے جسے امام بخاری ؒ نے ترجمۃ الباب کے تحت پہلے ذکر کیا ہے۔
اس حدیث میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں نماز پڑھنے لگے۔
یہی ٹکڑا امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان کے مطابق ہے، یعنی امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔
(عمدة القاري: 300/4) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام راتب جب بیمار ہوجائے اور جماعت نہ کراسکتا ہوتو اسے چاہیے کہ کسی کو اپنا نائب مقرر کردے، بیٹھ کر نماز پڑھانے سے یہ بہتر ہے, کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا نائب مقرر فرمایا اور انھیں بیٹھ کر نماز نہیں پڑھائی۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹھ کر صرف ایک دفعہ مقتدی صحابہ کو نماز پڑھائی تھی۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم کہ معذور امام بیٹھ کر نماز پڑھا سکتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا بیٹھ کر امامت کے فرائض سر انجام دینا آپ کا خاصہ ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی آدمی بیٹھ کر نماز نہ پڑھائے۔
یہ موقف صحیح نہیں کیونکہ پیش کردہ حدیث مرسل ہے جو ائمہ حدیث کے نزدیک قابل حجت نہیں ہوتی۔
(فتح الباري: 227/2)