صحيح البخاري
كتاب الأيمان والنذور— کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَقَةٌ مِنْ حَرِيرٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَدَاوَلُونَهَا بَيْنَهُمْ ، وَيَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهَا وَلِينِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْهَا ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنْهَا " ، لَمْ يَقُلْ شُعْبَةُ ، وَإِسْرَائِيلُ : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ .´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے ؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں ، یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں ۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ کا ذکر نہیں کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
لباس میں رومال کی حیثیت بہت کم تر خیال کی جاتی ہے کیونکہ اس سے ہاتھ صاف کیے جاتے ہیں یا چہرے کی گردوغبار دور کی جاتی ہے جنت میں گھٹیا کپڑے کی یہ حیثیت ہو گی کہ اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
جب یہ قدر و قیمت ایک ادنیٰ کپڑے کی ہے۔
تو جنت کے بہترین اور اعلیٰ کپڑوں کی خوبصورتی اور زیبا ئش تو ہمارے تصورات سے بالا ہے۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ریشمی کپڑے کو ہاتھ لگایا اور اس کی نرمی پر اپنی حیرت کا اظہار کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چھونے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، البتہ ان کی حیرت کا جواب دیا ہے۔
اس سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ ریشم پہننا حرام ہے اور اسے ہاتھ لگانا جائز ہے۔
(2)
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ انصار کے سردار تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خصوصی ذکر فرمایا کیونکہ ریشم کے کپڑے کو چھونے والے اور اس پر اپنی حیرت و تعجب کا اظہار کرنے والے انصار ہی تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف رومال کا ذکر کیا ہے کیونکہ اس سے عام طور پر پسینہ اور ہاتھ وغیرہ صاف کیے جاتے ہیں، اس کی طرف نگاہِ احترام نہیں اٹھتی۔
جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال قابل ستائش ہیں تو اس کے علاوہ دوسرا جنتی لباس بطریق اولیٰ قابل تعریف ہو گا۔
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3847]
وضاحت:
1؎:
دیگرلفظوں میں آپﷺ نے دنیا ہی میں سعد بن معاذ کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنا دی تھی رضی اللہ عنہ۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا تحفہ میں پیش کیا گیا، لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا یہ تمہارے لیے تعجب انگیز ہے؟ “، لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے کہیں بہتر ہوں گے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 157]
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نہ صرف جنتی ہیں بلکہ ان کو جنت کی اعلیٰ نعمتیں میسر ہوں گی۔
(2)
جنت کی نعمتوں میں ہر قسم کے کپڑے ہیں حتی کہ رومال بھی ہیں۔
(3)
دنیا کی قیمتی سے قیمتی چیز بھی جنت کی معمولی سی چیز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
(4)
ہدیہ قبول کرنا چاہیے اگرچہ مشرک ہی کا ہو۔
واضح رہے کہ یہ ہدیہ قبا تھی جسے والی دومۃ الجندل کے بھائی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا۔
(5)
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ انصاری صحابی ہیں۔
قبیلہ اوس کے سردار تھے۔
جنگ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہوا، غزوہ خندق میں انہیں تیر لگا، اس سے شہادت پائی۔