صحيح البخاري
كتاب القدر— کتاب: تقدیر کے بیان میں
بَابُ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَى اللَّهُ: باب: جسے اللہ دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ : اكْتُبْ إِلَيَّ مَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ ، فَأَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ خَلْفَ الصَّلَاةِ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " ، وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدَةُ ، أَنَّ وَرَّادًا ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا ، ثُمَّ وَفَدْتُ بَعْدُ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، فَسَمِعْتُهُ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ .´ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وردا نے بیان کیا کہ` معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے ۔ چنانچہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو لکھوایا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم لا مانع لما أعطيت ، ولا معطي لما منعت ، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اے اللہ ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی ۔ اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وردا نے خبر دی ، پھر اس کے بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدہ بن ابی لبابہ کی سند ذکر کرنے سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ عبدہ کا سماع وراد سے ثابت ہوا کیوں کہ اگلی روایت میں اس سماع کی صراحت نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز کے بعد پڑھنے کا اہتمام کیا کرتے تھے کیونکہ ان میں کمال توحید اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی وسعت کا ذکر ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تقدیر پر ایمان لانے کے اثرات کو بیان کرنے کے لیے روایت کیا ہے کہ اس سے مومن کا عقیدہ راسخ اور پختہ ہو جاتا ہے کہ عطا کرنے یا روک لینے کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اسے دور نہیں کر سکتا اور اگر وہ آپ سے کوئی بھلائی کرنا چاہے تو کوئی اسے ٹالنے والا نہیں۔
وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے، اس سے نوازتا ہے۔
‘‘ (یونس: 107/10)
راسخ اور پختہ عقیدے کے نتیجے میں خودداری، جراءت مندی اور دلیری پیدا ہوتی ہے۔
جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ تمام چیزیں تقدیر الٰہی سے ہیں اسے پچھلی باتوں پر رنج اور مستقبل کا فکر دامن گیر نہیں ہوتا۔
واللہ المستعان
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد خلافت میں ان کو شام کا گورنر بنا دیا تھا خلافت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں بھی یہ شام کے حاکم رہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں یہ شام کے مستقل حاکم بن گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت حسن نے41ھ میں امر خلافت ان کے سپرد کر دیا۔
یہ شام کے چالیس سال تک حاکم رہے۔
80برس کی عمر میں بعارضہ لقوہ ماہ رجب میں وفات پائی۔
بڑے ہی دانش مند سیاست دان۔
مرد آہنی تھے۔
ان کے دورحکومت میں اسلام کو دوردراز تک پھیلنے کے بہت سے مواقع ملے۔
(1)
دراصل حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تھا کہ مجھے وہ احادیث لکھ کر بھیجیں جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں تو انہوں نے جواب میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی۔
(صحیح البخاري، الزکاة، حدیث: 1477) (2)
ابن بطال نے لکھا ہے کہ ان احادیث میں ہر نماز کے بعد ذکر الٰہی کی ترغیب ہے اور یہ عمل اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے برابر ہے، نیز امام اوزاعی سے سوال ہوا کہ نماز کے بعد ذکر الٰہی بہتر ہے یا تلاوت قرآن تو انہوں نے فرمایا: تلاوت قرآن سے بہتر تو کوئی عمل نہیں مگر سلف صالحین کا طریقہ نماز کے بعد ذکر و اذکار کا ہی تھا۔
(فتح الباري: 162/11)
1۔
حضرت وراد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کاتب تھے۔
ان کابیان ہے کہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک وفد کےساتھ گیاتو میں نےدیکھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو بکثرت یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔
(صحیح البخاري، القدر، حدیث: 6615)
2۔
اس حدیث میں کثرت ِسوال کی ممانعت ہے۔
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوامخواہ سوالات کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مقصد عملی زندگی سنوارنا نہیں بلکہ اپنی شیخی بگھارنا اور خودستائی کرنا ہوتا ہے۔
کچھ لوگ بال کی کھال اُتارنے کے شوقین ہوتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، بامقصد سوالات پوچھنے کی ممانعت نہیں کیونکہ قرآن کریم کا حکم ہے: ’’اگر تمھیں علم نہیں تو اہل علم سے سوال کرو۔
‘‘ (النحل: 43)
(1)
قیل و قال سے مراد ایسی لچر اور فضول گفتگو جس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔
بندۂ مومن کو ایسی فضول باتوں سے زبان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام تعلیم تھی کہ بلا ضرورت اور بے فائدہ باتیں کرنے سے زبان کو روکا جائے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے: ’’انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں اور بے فائدہ کاموں سے بچے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 3976) (2)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت اور بے فائدہ گفتگو نہ کرنا اور لغو و فضول مشاغل سے خود کو محفوظ رکھنا انسان کے اچھے اسلام کی علامت اور اس کے ایمان کی خوبی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ انسان لغویات سے خود کو محفوظ رکھے۔
(1)
حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ حضرت معاویہ ؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے، انہوں نے اپنے گورنر کو خط لکھا کہ مجھے وہ وظیفہ لکھ کر ارسال کرو جسے رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد پڑھتے ہوں تو انہوں نے مذکورہ وظیفہ لکھ کر بھیجا تھا۔
طبرانی کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: (يحيي و يميت وهو حي لا يموت بيده الخير)
’’وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔
وہ ایسا زندۂ جاوید ہے کہ اسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کے ہاتھ خیروبرکت ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 429/2)
امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ اگر حدیث میں کوئی مشکل لفظ آ جائے اور اسی طرح کا لفظ قرآن میں بھی آتا ہو تو قرآنی لفظ کا معنی بتانے کے لیے مفسرین کا حوالہ دیتے ہیں، اس مقام پر حسن بصری سے لفظ جد کی وضاحت کی ہے کہ اس کے معنی بے نیازی کے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا﴾ (الجن3: 72)
’’اور یہ کہ بہت بلند ہے شان ہمارے رب کی‘‘ اکثر روایات میں یہ تفسیری بیان ذکر نہیں ہوا۔
(فتح الباري: 430/2) (2)
حضرت معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’اے معاذ! اللہ کی قسم، میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔
‘‘ میں نے کہا: میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں۔
پھر آپ نے فرمایا: ’’تو میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ ہر فرض نماز کے بعد یہ ضرور پڑھا کرو: "رب أعني علی ذكرك و شكرك و حسن عبادتك" ’’اے میرے رب! ذکر کرنے، شکر کرنے اور اچھی عبادت کرنے میں میری مدد کر۔
‘‘ (سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 1304)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی “ پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ” نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
➋ کسی کو حدیث لکھ کر بھیجنا اور اسے آگے بیان کرنا درست ہے۔
➌ ایک آدمی کی خبر بھی حجت ہے جبکہ وہ ثقہ ہو۔
➍ ”تیرے مقابلے میں“ یعنی اگر تو پکڑنا چاہے تو کسی کی حیثیت یا اس کا مال اسے کوئی فائدہ دے سکتا ہے، نہ بچا سکتا ہے۔ یا تیرے ہاں کسی مال والے کو اس کا مال فائدہ نہیں ہوتا۔
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض کے اختتام پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں۔ فرمانروائی اسی کی ہے اور حمد و ثنا اسی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ تو عطا فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو روک لے اسے عطا کرنے والا کوئی نہیں اور کسی صاحب نصیبہ کو تیرے بغیر بغیر کوئی نصیبہ نہیں دیتا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 253»
«أخرجه البخاري، الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، حديث:844، ومسلم، المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة، حديث:593.»
تشریح: 1. اس حدیث میں منقول دعا اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ وحدہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں کہ جس کی طرف حاجات اور ضروریات کی تکمیل کے لیے رجوع کیا جا سکے۔
دنیا و مافیہا اور آسمانوں کی ہر ایک چیز اس کی مخلوق ہے اور مخلوق اپنے خالق کی ہر وقت محتاج ہے۔
وہ قادر مطلق ہے‘ کسی کو کچھ دینے اور نہ دینے کے جملہ اختیارات بلا شرکت غیرے اسی کے قبضہ ٔقدرت میں ہیں۔
اس کی سرکار میں دنیوی جاہ و حشمت اور عزت و سلطنت اس کے فضل اور رحمت کے سوا ذرہ بھر بھی کارگر اور منافع بخش ثابت نہیں ہو سکتیں۔
2. یہ دعا فرض نماز سے فارغ ہو کر پڑھنی مستحب ہے۔
اور تشہد پڑھنے کے بعد‘ سلام پھیرنے سے پہلے‘ یعنی نماز کے اندر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
اس حدیث میں نماز کے بعد میں وارد شدہ اذکار میں سے ایک دعا کا ذکر ہے۔ یہ دعائیں ہر مسلمان کو ترجمہ کے ساتھ یاد ہونی چاہئیں تا کہ انھیں نماز کے بعد پڑھا جائے۔ نیز اس مبارک دعا میں عقیدہ کا بہت اہم مسئلہ بھی بیان ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اس کا کوئی شریک نہیں کل کائنات کا وہی بادشاہ ہے اور ہر قسم کی تعریف بھی اس کے لیے ہے۔ وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی مشکل کشا ہے اور وہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔ جب نمازی ہرفرض نماز کے بعد اس دعا کو پڑھے گا تو اس کا عقیدہ کتنا مضبوط ہوگا۔ افسوس کہ مسلمانوں کو یہ دعائیں یاد نہیں اگر کسی کو یاد بھی ہے اسے ترجمہ نہیں آتا۔