صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابٌ في الْحَوْضِ: باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَا أَنَا قَائِمٌ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ ، فَقَالَ : هَلُمَّ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالَ : إِلَى النَّارِ ، وَاللَّهِ قُلْتُ : وَمَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى ، ثُمَّ إِذَا زُمْرَةٌ حَتَّى إِذَا عَرَفْتُهُمْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَيْنِي وَبَيْنِهِمْ ، فَقَالَ : هَلُمَّ ، قُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالَ : إِلَى النَّارِ ، وَاللَّهِ قُلْتُ : مَا شَأْنُهُمْ ؟ قَالَ : إِنَّهُمُ ارْتَدُّوا بَعْدَكَ عَلَى أَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرَى ، فَلَا أُرَاهُ يَخْلُصُ مِنْهُمْ إِلَّا مِثْلُ هَمَلِ النَّعَمِ " .´ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے ، کہا کہ مجھ سے ہلال نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں ( حوض پر ) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص ( فرشتہ ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ ۔ میں کہوں گا کہ کدھر ؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف ۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں ( دین سے ) واپس لوٹ گئے تھے ۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص ( فرشتہ ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں ؟ تو وہ کہے گا ، اللہ کی قسم ! جہنم کی طرف ۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان گروہوں میں سے ایک آدمی بھی نہیں بچے گا ۔ ان سب کو دوزخ میں لے جائیں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں جن لوگوں کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روک دیے جائیں گے، ان کی تعیین مشکل ہے کہ یہ کون لوگ ہوں گے اور کس طبقے سے ان کا تعلق ہو گا۔
ان کا معلوم کرنا ہمارے لیے ضروری نہیں۔
ہمارے لیے تو خاص سبق ہے کہ اگر ہم حوض کوثر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے خواہش مند ہیں تو مضبوطی کے ساتھ اس دین پر قائم رہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے لائے تھے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی ترمیم یا کمی بیشی نہ کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے نیک افراد سے بہت امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں جیسا کہ آپ نے فرمایا: ’’آخرت میں ہر نبی کا ایک حوض ہو گا اور وہ اس بات پر باہم فخر کریں گے کہ ان میں سے کس کے پاس زیادہ پینے والے آتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ ان سب میں سے میرے پاس آنے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔
‘‘ (جامع الترمذي، صفة القیامة، حدیث: 2443)
(1)
روایت میں اصحابی سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گئے تھے جن سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جہاد کیا تھا۔
یا ان سے مراد بعد میں آنے والے وہ نام نہاد مسلمان ہوں گے جنہوں نے دین میں نئی نئی بدعات نکال کر اس کا حلیہ بگاڑ دیا تھا کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بدعت سے کوسوں دور تھے۔
(2)
مجالس میلاد، مروجہ تیجہ، فاتحہ، ساتا، گیارہویں، چالیسواں، قل خوانی، قبر پرستی، عرس کرنے والے، تعزیہ پرست، اولیاء کی قبروں پر مزارات تعمیر کر کے انہیں مساجد کا درجہ دینے والے، مکار قسم کے پیر و مرشد اور خود ساختہ امام یہ سب حدیث کا مصداق ہیں۔
ظاہر میں یہ مسلمان نظر آتے ہیں لیکن اندر سے کفر و شرک اور بدعات و رسومات میں سرتاپا غرق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ایسے اہل بدعت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک سے جام کوثر نصیب نہیں کرے گا۔
(3)
مروجہ بدعات سے ہر حال میں بچنا مخلص مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ حوض کوثر کا پانی نصیب ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’میرے حوض کوثر پر زیادہ تعداد (صحابہ میں سے)
فقراء مہاجرین کی ہو گی، پراگندہ بالوں والے اور ان کے کپڑے بھی میلے کچیلے ہوں گے، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے ناز و نعمت والی عورتوں سے نکاح کیا ہو گا نہ ان کے لیے دروازے کھولے جاتے تھے۔
‘‘ (مسند أحمد: 132/2، 275/5، و سلسلة الأحادیث الصحیحة للألباني، حدیث: 1082)
کیوں کہ آنحضرت ﷺ نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا، اس امر پر کہ وہ جانوروں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا جو اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔
اگر وہ اپنے حوض کے پانی کا زیادہ حق دار نہ ہو تو وہ اقدام کیونکر کر سکتا ہے، نیز اس حدیث میں حوض کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی گئی ہے اور آپ اپنوں کو پلانے اور دوسروں کو بھگانے کے زیادہ حق دار ہیں۔
قیامت کے دن آپ اللہ کی طرف سے عطا کردہ اختیارات استعمال فرمائیں گے۔
(فتح الباري: 55/5)