صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابٌ في الْحَوْضِ: باب: حوض کوثر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 6575
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " .مولانا داود راز
´مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تم سے پہلے ہی حوض پر موجود رہوں گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7049 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7049. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔ اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے۔ جب میں انہیں پانی دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے دور کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی (امتی) ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکال لی تھیں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7049]
حدیث حاشیہ: نئی باتوں سے بدعات مروجہ مراد ہیں جیسے تیجہ، فاتحہ، چہلم، تعزیہ پرستی، عرس، قوالی وغیرہ وغیرہ۔
اللہ سب بدعات سے بچائے۔
آمین۔
اللہ سب بدعات سے بچائے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7049 سے ماخوذ ہے۔