صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ: باب: جنت و جہنم کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ كَبْوًا ، فَيَقُولُ اللَّهُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَيَأْتِيهَا ، فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى ، فَيَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَجَدْتُهَا مَلْأَى ، فَيَقُولُ : اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا أَوْ إِنَّ لَكَ مِثْلَ عَشَرَةِ أَمْثَالِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : تَسْخَرُ مِنِّي أَوْ تَضْحَكُ مِنِّي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، وَكَانَ يَقُولُ : ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً " .´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا ۔ ایک شخص جہنم سے گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، وہ جنت کے پاس آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے ۔ چنانچہ وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا ، اللہ تعالیٰ پھر اس سے کہے گا کہ جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ وہ پھر آئے گا لیکن اسے ایسا معلوم ہو گا کہ جنت بھری ہوئی ہے وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب ! میں نے جنت کو بھرا ہوا پایا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ تمہیں دنیا اور اس سے دس گنا دیا جاتا ہے یا ( اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ) تمہیں دنیا کے دس گنا دیا جاتا ہے ۔ وہ شخص کہے گا تو میرا مذاق بناتا ہے حالانکہ تو شہنشاہ ہے ۔ میں نے دیکھا کہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے آگے کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جنت کا سب سے کم درجے والا شخص ہو گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا . . .»
”. . . عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خوب جانتا ہوں کہ اہل جہنم میں سے کون سب سے آخر میں وہاں سے نکلے گا اور اہل جنت میں کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/بَابُ صِفَةِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:: 6571]
[117۔ البخاري فى: 81 كتاب الرقاق: 51 باب صفة الجنة والنار 6571، مسلم 186، ابن ماجه 2595]
لغوی توضیح:
«كَبْوًا» گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے۔
«مَلْأي» بھری ہوئی۔
«تَسْخَرُ» تو مذاق کرتا ہے۔
حافظ نے کہا کہ یہ کلام بھی دوسری روایت سے نکلتا ہے جسے امام مسلم نے ابوسعید سے نکالا۔
(وحیدی)
بندے کو بار بار جنت میں جگہ خالی نہ ہونے کا احساس اس لیے دلایا گیا کہ جب وہ جنت میں جائے تو اسے زیادہ خوشی ہو۔
بہرحال جہنم سے نکلنے والے گناہ گار اپنے اپنے درجے کے مطابق جہنم سے نکالے جائیں گے۔
کم گناہوں والے پہلے اور زیادہ گناہوں والے آخر میں نکالے جائیں گے۔
کم سے کم درجے والے جنتی کو بھی کسی بادشاہ کی سلطنت سے دس گنا زیادہ جگہ ملے گی۔
اسی طرح کا واقعہ پل صراط سے گزرنے والے آخری شخص سے متعلق ہے کہ وہ پل صراط سے گزرتے ہوئے کبھی چلے گا اور کبھی گرے گا، کبھی اسے جہنم کی آگ جھلسا دے گی، آخر کار جب پل صراط سے گزر جائے گا تو اسے مخاطب ہو کر کہے گا بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دے دی۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 463 (187)