صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ فَضْلِ الْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ: باب: عشاء کی نماز باجماعت کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُقِيمَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ، ثُمَّ آخُذَ شُعَلًا مِنْ نَارٍ فَأُحَرِّقَ عَلَى مَنْ لَا يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ بَعْدُ " .´ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے ( اور چل نہ سکتے ) تو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہو گیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے ، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جبھی توآپ نے ان لوگوں کے جلانے کا ارادہ کیا جو ان میں شریک نہ ہوں۔
مقصد باب یہی ہے اور باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
(1)
حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کے گھروں کو جلا دینے کا ارادہ فرمایا تھا وہ منافقین نہ تھے بلکہ ان کا تعلق اہل اسلام سے تھا۔
صرف انھیں ان کی سستی پر خبردار کیا گیا اور ان کے کردار کو ایک منافقانہ کردار قرار دے کر انھیں برے انجام سے ڈرایا گیا۔
ویسے تو منافقین پر تمام نمازیں گراں ہوتی ہیں جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ نماز کے لیے منافقین گراں بار اور سست طبیعت کے ساتھ آتے ہیں۔
(التوبة 9: 4)
لیکن عشاء اور فجر زیادہ گراں ہوتی ہیں، کیونکہ عشاء کے وقت کاروباری تھکاوٹ کی وجہ سے آرام اور سکون کرنا ہوتا ہے اور صبح کے وقت نیند کی وجہ سے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے۔
منافقین کے ہاں قربانی کے جذبات ناپید ہوتے ہیں، اس لیے ان پر یہ دونوں نمازیں بہت بھاری ہوتی ہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے عزم کو عملی شکل نہیں دی بلکہ ان کے اہل و عیال کا خیال آنے پر ارادہ ترک کردیا جیسا کہ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 797]
نیکی کے کاموں پر جسمانی راحت وآسائش کو ترجیح دینا ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
مومن اللہ کی رضا کے لیے نیکی کرتا ہے ثواب کی امید کی وجہ سے مشکل نیکی بھی اس کے لیے آسان ہوتی ہے۔
منافق ایمان سے محروم ہونے کی وجہ سے ثواب آخرت کا طلب گار نہیں ہوتا اسے مجبوراً نماز پڑھنی پڑتی ہے تاکہ اسے مسلمان سمجھا جائے لہٰذا نیکی کا کام اسے ایک بیگار کی طرح دشوار محسوس ہوتا ہے۔
عشاء اور فجر کی نمازوں میں چونکہ جسمانی طور پر مشقت ہے اور ان کے لیے نفس سے جہاد کرنا پڑتا ہے اس لیے منافق ان کو زیادہ دشوار محسوس کرتے ہیں۔
(2)
جو شخص پابندی سے اور شوق کے ساتھ یہ نمازیں ادا کرتا ہے وہ عملی طور پر ثابت کردیتا ہے کہ وہ نفاق سے بری ہے۔
(3)
جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس کا ثواب زیادہ ہوتا ہے بشرطیکہ وہ خلاف سنت نہ ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” منافقین پر سب سے ثقیل و بوجھل نمازیں، نماز عشاء اور نماز فجر ہیں اگر ان کو علم ہو جائے کہ ان دونوں میں حاضر ہونے کا کتنا (عظیم) اجر و ثواب ہے تو یہ لازما ان میں شامل ہوتے خواہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 316»
«أخرجه البخاري، الأذان، باب فضل العشاء في الجماعة، حديث:657، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
تشریح: ان نمازوں کو نہایت بوجھل اور بھاری کہا گیا ہے۔
عشاء تو اس لیے ثقیل ہے کہ اس وقت تھکے ماندے لوگ سو جانے کی کوشش کرتے ہیں یا اکیلے ہی نماز ادا کر کے سو جاتے ہیں، جماعت کو خاص اہمیت ہی نہیں دیتے اور فجر اس لیے گراں ہوتی ہے کہ شیطان نیند کے مارے ہوئے لوگوں کو اٹھنے ہی نہیں دیتا۔