حدیث نمبر: 6569
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ ، إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ ، لِيَزْدَادَ شُكْرًا ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ ، أَحَدٌ إِلَّا أُرِيَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ ، لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جنت میں جو بھی داخل ہو گا اسے اس کا جہنم کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر نافرمانی کی ہوتی ( تو وہاں اسے جگہ ملتی ) تاکہ وہ اور زیادہ شکر کرے اور جو بھی جہنم میں داخل ہو گا اسے اس کا جنت کا ٹھکانا بھی دکھایا جائے گا کہ اگر اچھے عمل کئے ہوتے ( تو وہاں جگہ ملتی ) تاکہ اس کے لیے حسرت و افسوس کا باعث ہو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6569
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6569. حضرت ابو ہریرہ ؓ سےروایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جنت میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا مگر اسے دوزخ میں اس کی جگہ دکھائی جائے گی اگر وہ برائی کرتا تاکہ وہ زیادہ شکر کرے۔ اور کوئی بھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا مگرجنت میں اس کی جگہ اسے دکھائی جائے گی کہ اگر وہ اچھے عمل والا ہوتا (تو یہ اس کا مقام تھا) تاکہ اس کی حسرت وندامت میں مزید اضافہ ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6569]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس امر کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کے دو گھر ہیں: ایک گھر جنت میں اور ایک گھر جہنم میں۔
جب کوئی فوت ہو کر جہنم میں جاتا ہے تو اس کا جنت والا گھر وراثت میں اہل جنت کو مل جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ’’یہی لوگ وراثت پانے والے ہیں۔
‘‘ کا یہی مطلب ہے۔
(المؤمنون: 10/23، و سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4341) (2)
ہر مرنے والے کو یہ دونوں گھر اس وقت دکھائے جاتے ہیں جب وہ قبر میں پہنچتا ہے جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قبر میں اسے جہنمی ٹھکاناہ دکھاتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے: ’’دیکھو اللہ تعالیٰ نے تجھے کس چیز سے بچا لیا ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4268)
اس سے اللہ تعالیٰ کے بے مثال عدل اور اس کی انتہائی رحمت کا پتا چلتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6569 سے ماخوذ ہے۔