حدیث نمبر: 6568
وَقَالَ : " غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ ، أَوْ مَوْضِعُ قَدَمٍ مِنَ الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الْأَرْضِ ، لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَنَصِيفُهَا ، يَعْنِي : الْخِمَارَ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا داود راز

´اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ` اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام سفر کرنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، سے بڑھ کر ہے اور جنت میں تمہاری ایک کمان کے برابر جگہ یا ایک قدم کے فاصلے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ، سے بہتر ہے اور اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت روئے زمین کی طرف جھانک کر دیکھ لے تو آسمان سے لے کر زمین تک منور کر دے اور ان تمام کو خوشبو سے بھر دے اور اس کا دوپٹہ «دنيا وما فيها‏)‏‏.‏» سے بڑھ کر ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6568
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2792 | صحيح البخاري: 2796 | صحيح مسلم: 1880 | سنن ترمذي: 1651 | سنن ابن ماجه: 2757 | سنن ابن ماجه: 2775

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6568. اور آپ ﷺ نے مزید فرمایا: اللہ کے رسول کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ جنت میں ایک قوس یا قدم رکھنے کی جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے اور اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو آسمان سے لے کر زمین تک روشن کر دے اور اسے خوشبو سے بھر دے، اس عورت کا دوپٹا دنیاو مافیہا سے بہتر ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6568]
حدیث حاشیہ: دوسری روایت میں یوں ہے کہ سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑ جائے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ اس کی اوڑھنی کے سامنے سورج کی روشنی ایسی ماند پڑ جائے جیسے بتی کی روشنی سورج کے سامنے ماند پڑجاتی ہے۔
اگر اپنی ہتھیلی دکھائے تو ساری خلقت اس کے حسن کی شیدا ہو جائے۔
بعض ملحدوں نے اس قسم کی احادیث پر یہ شبہ کیا ہے کہ جب حور کی روشنی سورج سے بھی زیادہ ہے یا وہ اتنی معطر ہے کہ زمین سے لے کر آسمان تک اس کی خوشبو پہنچتی ہے تو بہشتی لوگ اس کے پاس کیوں کر جا سکیں گے اور اتنی خوشبودار اور روشنی کی تاب کیوں کر لاسکیں گے۔
ان کا جواب یہ ہے کہ بہشت میں ہم لوگوں کی زندگی اور طاقت اور قسم کی ہوگی جو ان سب باتوں کا تحمل کر سکیں گے۔
جیسے دوسری آیتوں اور احادیث میں دوزخیوں کے ایسے ایسے عذاب بیان ہوئے ہیں کہ اگر دنیا میں اس کا دسواں حصہ بھی عذاب دیا جائے تو فوراً مر جائے لیکن دوزخی ان عذابوں کا تحمل کر سکیں گے اور زندہ رہیں گے۔
بہرحال آخرت کے حالات کو دنیا کے حالات پر قیاس کرنا اور ہرایک بات میں استبعاد کرنا صریح نادانی ہے۔
روایت میں مذکور حارثہ بن سراقہ بن حارث بن عدی مراد ہیں۔
ان کی والدہ کا نام ربیع بنت نضر ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6568 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6568. اور آپ ﷺ نے مزید فرمایا: اللہ کے رسول کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ جنت میں ایک قوس یا قدم رکھنے کی جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہے اور اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو آسمان سے لے کر زمین تک روشن کر دے اور اسے خوشبو سے بھر دے، اس عورت کا دوپٹا دنیاو مافیہا سے بہتر ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6568]
حدیث حاشیہ:
یہ حارثہ بن سراقہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان کی والدہ کا نام حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا تھا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔
حضرت حارثہ رضی اللہ عنہا جنگ بدر میں ایک نامعلوم طرف سے آنے والے تیر سے شہید ہوئے تو ماں کی مامتا پریشان ہو گئی کہ میرا بیٹا شہید ہے یا نہیں، ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کے تیر سے موت واقع ہوئی ہو، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پیش ہو کر عرض گزار ہوئیں۔
جب تسلی ہو گئی تو خوشی خوشی واپس چلی گئیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6568 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2796 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2796. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے جنت کی دو ہاتھ زمین یاکوڑے کی مقدار جگہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف ایک نظر دیکھے تو جنت اور زمین کے درمیان سب کچھ کو روشن کردے اور خوشبو سے معطر کردے، نیز اس کے سرکا دوپٹہ بھی دنیا ومافیھا سے بڑھ کر ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2796]
حدیث حاشیہ: : بعض ملحدین بے دین حوروں کے نور اور خوشبو پر استبعاد پیش کرتے ہیں‘ ان کا جواب یہ ہے کہ بہشت کا قیاس دنیا پر نہیں ہوسکتا نہ بہشت کی زندگی دنیا کی زندگی کی طرح ہے۔
بہت سی چیزیں ہم دنیا میں دیکھ نہیں سکتے مگر آخرت میں ان کو دیکھیں گے‘ دوزخ کا ہلکے سے ہلکا عذاب آدمی کبھی نہیں اٹھا سکتا پر آخرت میں آدمی کو ایسی طاقت دی جائے گی کہ وہ دوزخ کے عذابوں کا تحمل کرے گا اور پھر زندہ رہے گا۔
الغرض اخروی امور کو دنیاوی حالات پر قیاس کرنے والے خود فہم و فراست سے محروم ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2796 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2796 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2796. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام گزارنا دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور تمہارے لیے جنت کی دو ہاتھ زمین یاکوڑے کی مقدار جگہ دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔ اور اگر جنت کی کوئی عورت زمین کی طرف ایک نظر دیکھے تو جنت اور زمین کے درمیان سب کچھ کو روشن کردے اور خوشبو سے معطر کردے، نیز اس کے سرکا دوپٹہ بھی دنیا ومافیھا سے بڑھ کر ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2796]
حدیث حاشیہ:

حوروں کی صفات کے متعلق جتنی بھی احادیث کتب حدیث میں مروی ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جنت کی حوریں انتہائی خوبصورت اور پاکیزہ ہیں۔
دنیا کی عورتوں کی طرح میل کچیل،طبیعت کی سختی، بداخلاقی اور بے صبری سے پاک ہیں۔

بعض ملحدین حوروں کی صفات کا انکار کرتے ہیں کہ ایسا ہونا عقل کے اعتبار سے محال ہے۔
انھیں علم ہونا چاہیے کہ جنت کو دنیا پر قیاس نہیں کیا جاسکتا اور نہ جنت کی زندگی ہی دنیا کی زندگی کی طرح ہے۔
بہت سی چیزیں ہم دنیا میں نہیں دیکھ سکتے مگر آخرت میں ہماری آنکھیں انھیں دیکھنے کے قابل ہوجائیں گی۔
الغرض اخروی امور کو دنیاوی حالات پر قیاس کرنے والے خود فہم وفراست اورعقل وشعور سے محروم ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2796 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1880 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یقینا ایک صبح یا ایک شام اللہ کی راہ میں نکلنا دنیا و مافیھا سے بہتر ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4873]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: دنیا و مافیہا کا کسی کو مل جانا دنیا میں ممکن نہیں ہے، اس کے عہدے اور مناصب، اس کا مال و دولت، اس کی کوٹھیاں اور بنگلے، دنیا کی ہر قسم کی آسائشیں اور سہولتیں، تمام انسانوں میں تقسیم ہیں، لیکن اگر کوئی ایمان دار انسان خلوص نیت سے صبح و شام کے اوقات میں سے کوئی وقت اللہ کی راہ میں صرف کر دیتا ہے تو یہ اس کے لیے دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، یا دنیا و مافیہا خرچ کر کے پھر بھی اتنا اجر و ثواب حاصل نہیں ہو سکتا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1880 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1651 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جہاد میں گزرنے والے صبح و شام کی فضیلت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۱؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب فضائل الجهاد/حدیث: 1651]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر کسی کو دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں حاصل ہوجائیں، پھر وہ انہیں اطاعت الٰہی میں رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے خرچ کردے، اس خرچ کے نتیجہ میں اسے جو ثواب حاصل ہوگا اس سے مجاہد فی سبیل اللہ کا ثواب کہیں زیادہ بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1651 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2775 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عام اعلان جہاد کے وقت فوراً نکلنے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک شام بھی اللہ کی راہ میں چلا، تو جتنا غبار اس پر پڑا قیامت کے دن اس کے لیے اتنی ہی مشک ہو گی۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2775]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
راہ جہاد کی مشکلات قیامت کے دن عزت افزائی کا باعث ہوں گی۔

(2)
گردوغبار کے مطابق کستوری قیامت کے دن مجاہدوں کو دوسروں سے ممتاز کرے گی جس سے میدان حشر کے سب لوگوں کو پتہ چل جائے گا کہ یہ شخص مجاہد ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2775 سے ماخوذ ہے۔