حدیث نمبر: 6553
قَالَ أَبُو حَازِمٍ : فَحَدَّثْتُ بِهِ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادَ الْمُضَمَّرَ السَّرِيعَ مِائَةَ عَامٍ مَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا داود راز

´ابوحازم نے بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جنت میں ایک درخت ہو گا جس کے سایہ میں عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا اور پھر بھی اسے طے نہ کر سکے گا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6553
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6553. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: بلاشبہ جنت میں ایسا درخت ہے جس کے سائے میں گھوڑ دوڑ کے لیے تیار کردہ تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا لیکن پھر بھی اسے طے نہ کرسکے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6553]
حدیث حاشیہ: یا اللہ! یہ جنت ہر بخاری شریف پڑھنے والے بھائی بہن کو عطا فرمائیو آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6553 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6553. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا: بلاشبہ جنت میں ایسا درخت ہے جس کے سائے میں گھوڑ دوڑ کے لیے تیار کردہ تیز رفتار گھوڑے پر سوار شخص سو سال تک چلتا رہے گا لیکن پھر بھی اسے طے نہ کرسکے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6553]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس طرح کی ایک حدیث کے آخر میں ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس کی تصدیق چاہتے ہو تو قرآن کریم کی اس آیت کو پڑھو: ’’اور لمبے لمبے سائے۔
‘‘ (الواقعة: 30/56 و صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3252) (2)
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اس کی ٹہنیوں کے سائے میں سوار سو سال تک چلتا رہے گا یا سو سال تک اس کے سائے میں رہے گا۔
‘‘ (جامع الترمذي، صفة الجنة، حدیث: 2541) (3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ بخاری کی پیش کردہ حدیث میں درخت سے مراد سدرۃ المنتہیٰ ہے جیسا کہ ترمذی کی حدیث سے پتا چلتا ہے۔
(فتح الباري: 517/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6553 سے ماخوذ ہے۔