صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ: باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا ، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا .´ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا ، کہا ان سے قتادہ نے ، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک صحابی نے کہا ، اے اللہ کے نبی ! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلا دے ۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے ، ہمارے رب کی عزت کی قسم ، بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’قیامت کے دن ہم ان (کافروں)
کو اوندھے منہ، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے۔
ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
‘‘ (بني إسرائیل: 97/17)
اس آیت کے پیش نظر صحابی نے سوال کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا۔
(2)
بہرحال قانون جزا و سزا اور اعمال انسان میں مماثلت پائی جاتی ہے، جیسے کوئی شخص دنیا میں اللہ تعالیٰ کو بھولا رہا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بھلا دے گا، جس نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے آنکھیں بند کر لیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اندھا کر کے اٹھائے گا۔
اسی طرح کافر جب دنیا میں اللہ کو سجدہ نہیں کرتا تھا تو اس کی ذلت و رسوائی کو ظاہر کرنے کے لیے قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلایا جائے گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حکمت کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 465/11)
اللھم لا تجعلنا منھم آمین!
1۔
وہ کافر جو دنیا میں اللہ کے حضور جھکتے نہیں تھے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انھیں ذلیل و خوار کرنے کے لیے اوندھے منہ چلنے پر مجبور کردے گا۔
دنیا میں جس طرح انسان اپنے پاؤں کے ذریعے سے راستے کی اذیت سے بچتا ہے قیامت کے دن وہ منہ کے ذریعے سے بچنے کی کوشش کرے گا۔
(فتح الباري: 465/11)
2۔
قرآن کریم میں صراط مستقیم سے ہٹ کر دوسرا راستہ اختیار کرنا اس کے لیے ان الفاظ کو بطور تمثیل بھی بیان کیا گیا ہےجیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’کیا وہ شخص زیادہ ہدایت والا ہے جو اپنے منہ کے بل اوندھا ہو کر چلتا ہے یا وہ جو سیدھا راہ راست پر چلتا ہے۔
‘‘ (الملك: 22)
منہ کے بل اوندھا چلنے والے کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے کچھ نظر نہیں آتا نہ وہ ٹھوکروں ہی سے محفوظ ہوتا ہے کیا ایسا شخص اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکتا ہے؟ یقیناً نہیں پہنچ سکتا۔