حدیث نمبر: 6522
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وهيب ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا ، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا " .
مولانا داود راز

´ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے والد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا ( ایک فرقہ والے ) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے ۔ ( دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے ، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے ۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ( اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا ) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6522
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2861 | سنن نسائي: 2087

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6522. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا: ایک یہ لوگ رغبت کرنے اور ڈرنے والے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے، کسی ہر تین ہوں گے کسی پر چار ہوں اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور تیسرا یہ کہ باقی ماندہ لوگوں کو آگ جمع کرے گی۔ جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی، جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان صبح کے وقت وہاں موجود ہوگی، نیز جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6522]
حدیث حاشیہ: علمائے اسلام نے اس آگ سے مراد کئی ناری واقعات کو لیا ہے۔
باقی اصل حقیقت اللہ کو ہی معلوم ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6522 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6522. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہوگا: ایک یہ لوگ رغبت کرنے اور ڈرنے والے ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے، کسی ہر تین ہوں گے کسی پر چار ہوں اور کسی پر دس ہوں گے۔ اور تیسرا یہ کہ باقی ماندہ لوگوں کو آگ جمع کرے گی۔ جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہرے گی، جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان صبح کے وقت وہاں موجود ہوگی، نیز جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہوگی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6522]
حدیث حاشیہ:
میدان محشر میں جمع کیے جانے والے لوگ تین قسموں پر مشتمل ہوں گے جیسا کہ حدیث میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے اور یہ حشر قیامت سے پہلے دنیا کے آخر میں ہو گا کیونکہ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم، پیدل چلتے ہوئے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، نیز یہ بھی وضاحت ہے کہ کافر اس دن منہ کے بل چلیں گے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ حشر قیامت سے تھوڑا سا پہلے ہو گا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6522 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2861 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں کا حشر تین گروہوں یا تین جماعتوں کی شکل میں ہو گا، ایک قسم، رغبت رکھنے والے (اللہ کی رحمت کی)ڈرنے والے (اپنے گناہوں کے مواخذہ سے) دوسری قسم، دو ایک اونٹ پر تین ایک اونٹ پر، چار ایک اونٹ پر حتی کہ دس ایک اونٹ پر، تیسری قسم، باقی لوگ جن کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ رات بسر کریں گے،وہ بھی ان کے ساتھ رات گزارے فی، جہاں وہ قیلولہ کریں گے، وہیں وہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7202]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے مراد، لوگوں کا قیامت کے قریب آگ کے ڈر سے محفوظ جگہ کی طرف جاناہے، یہ آگ قعر عدن سے نکلے گی، لوگ اس سے بچنے کے لیے، محفوظ جگہوں کی طرف بھاگیں گے، خوش حال اور آسودہ لوگ اچھے زاد راہ اور سواریوں کے ساتھ، محفوظ جگہ کی رغبت رکھتے ہوئے اور اپنی جگہ رہنے سے ڈر کر نکلیں گے، دوسرا گروہ سواریوں کی قلت کی بنا پر، دو، دو، تین، تین، حتی کہ، دس ساتھی مل کر ایک اونٹ پر باری باری سوار ہو کر چل پڑیں گے، تیسرے گروہ کو کوئی سواری نہ مل سکے گی، وہ پیدل بھاگ کھڑے ہوں گے، آگ ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی، ہر وقت، ہر جگہ ان کے ساتھ رہے گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2861 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2087 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
اردو حاشہ: (1) قیامت کے دن ظاہر روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حشر قیامت کے دن نہیں بلکہ قیامت سے پہلے ہوگا۔ بہت سے محدثین نے اس قسم کی روایات کو علامات قیامت میں ذکر کیا ہے کیونکہ اس میں اونٹوں، دوپہر، رات، صبح اور شام کا ذکر ہے۔ ظاہر ہے یہ چیزیں دنیا میں ہیں نہ کہ قیامت کے روز۔ اگرچہ بعض اہل علم نے اسے قیامت ہی کے دن پر محمول کیا ہے مگر اس میں بہت تکلف ہے۔ قیامت کے دن سے مراد قرب قیامت بھی ہوسکتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
(2) تین حالتوں میں یعنی کچھ خالص نیک، کچھ ملے جلے کاموں والے، کچھ خالص کافر۔ یا حشر کی تین حالتیں مراد ہیں: کچھ لوگ تو وقت ہی پر رغبت اور رہبت کے زیر اثر اپنے آپ محشر میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ تنگ وقت میں بھاگیں گے جب سواریوں کی کمی ہوگی، پھر دو دو، تین تین، چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر بڑی تنگی کے ساتھ پہنچیں گے۔ کچھ لوگ آگ کے ساتھ زبردستی اکٹھے کیے جائیں گے۔
(3) یہ آگ قیامت سے قبل عدن کے ساحل سے نکلے گی۔ (صحیح مسلم، باب في الآیات التي تكون قبل الساعة، حدیث: 2901) بعض لوگوں نے اس آگ سے حقیقی آگ کے بجائے فتنہ مراد لیا ہے اور مجازاً فتنے کو بھی آگ کہہ لیا جاتا ہے لیکن پہلی بات ہی درست ہے۔ واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2087 سے ماخوذ ہے۔