صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ كَيْفَ الْحَشْرُ: باب: حشر کی کیفیت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وهيب ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى ثَلَاثِ طَرَائِقَ رَاغِبِينَ رَاهِبِينَ ، وَاثْنَانِ عَلَى بَعِيرٍ ، وَثَلَاثَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَأَرْبَعَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَعَشَرَةٌ عَلَى بَعِيرٍ ، وَيَحْشُرُ بَقِيَّتَهُمُ النَّارُ ، تَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا ، وَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا ، وَتُصْبِحُ مَعَهُمْ حَيْثُ أَصْبَحُوا ، وَتُمْسِي مَعَهُمْ حَيْثُ أَمْسَوْا " .´ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے والد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں کا حشر تین فرقوں میں ہو گا ( ایک فرقہ والے ) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے ۔ ( دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے ، کسی اونٹ پر چار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے ۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ( اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا ) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
باقی اصل حقیقت اللہ کو ہی معلوم ہے۔
ہمارا ایمان ہے کہ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم۔
میدان محشر میں جمع کیے جانے والے لوگ تین قسموں پر مشتمل ہوں گے جیسا کہ حدیث میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے اور یہ حشر قیامت سے پہلے دنیا کے آخر میں ہو گا کیونکہ آئندہ حدیث میں وضاحت ہے کہ تم لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم، پیدل چلتے ہوئے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے، نیز یہ بھی وضاحت ہے کہ کافر اس دن منہ کے بل چلیں گے۔
اس وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ حشر قیامت سے تھوڑا سا پہلے ہو گا۔
واللہ أعلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگ قیامت کے دن تین گروہ میں جمع کیے جائیں گے، کچھ جنت کی رغبت رکھنے والے اور جہنم سے ڈرنے والے ہوں گے ۱؎، اور کچھ لوگ ایک اونٹ پر دو سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر تین سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر چار سوار ہوں گے، ایک اونٹ پر دس سوار ہوں گے، اور بقیہ لوگوں کو آگ ۱؎ اکٹھا کرے گی، ان کے ساتھ وہ بھی قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے، رات گزارے گی جہاں وہ رات گزاریں گے، صبح کرے [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2087]
(2) ”تین حالتوں میں“ یعنی کچھ خالص نیک، کچھ ملے جلے کاموں والے، کچھ خالص کافر۔ یا حشر کی تین حالتیں مراد ہیں: کچھ لوگ تو وقت ہی پر رغبت اور رہبت کے زیر اثر اپنے آپ محشر میں پہنچ جائیں گے۔ کچھ لوگ تنگ وقت میں بھاگیں گے جب سواریوں کی کمی ہوگی، پھر دو دو، تین تین، چار چار بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اونٹ پر سوار ہوکر بڑی تنگی کے ساتھ پہنچیں گے۔ کچھ لوگ آگ کے ساتھ زبردستی اکٹھے کیے جائیں گے۔
(3) یہ آگ قیامت سے قبل عدن کے ساحل سے نکلے گی۔ (صحیح مسلم، باب في الآیات التي تكون قبل الساعة، حدیث: 2901) بعض لوگوں نے اس آگ سے حقیقی آگ کے بجائے فتنہ مراد لیا ہے اور مجازاً فتنے کو بھی آگ کہہ لیا جاتا ہے لیکن پہلی بات ہی درست ہے۔ واللہ أعلم۔