حدیث نمبر: 6514
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ : يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ ، وَمَالُهُ ، وَعَمَلُهُ ، فَيَرْجِعُ : أَهْلُهُ وَمَالُهُ ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دو تو واپس آ جاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے ، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6514
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2960 | سنن ترمذي: 2379 | سنن نسائي: 1939 | مسند الحميدي: 1220

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ محمد حسین میمن
´موت کی سختیوں کا بیان`
«. . . سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ، فَيَرْجِعُ اثْنَانِ، وَيَبْقَى مَعَهُ وَاحِدٌ: يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ، وَمَالُهُ، وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ: أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ . . .»
. . . انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دو تو واپس آ جاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6514]

صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 6514 کا باب: «بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ:»
باب اور حدیث میں مناسبت: امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب میں موت کی سختیوں کا ذکر فرمایا ہے جبکہ تحت الباب سات احادیث ذکر فرمائیں، ان ساتوں احادیث میں جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے اس کا باب سے مناسبت ہونا مشکل ہے کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سکرات الموت کے الفاظ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «و مطابقة الحديث للترجمة فى قوله: يتبع الميت لأن كل ميت يقاسي سكرة الموت كما سبق.» (1)
ترجمۃ الباب سے حدیث کی مناسبت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ «يتبع الميت» کیوں کہ ہر میت کے ساتھ سکرات ہے۔
اس کے علاوہ اگر غور کیا جائے تو یہ بات عرب میں معروف تھی کہ وہ وصیت کرتے تھے کہ ہمارے مرنے پر نوحہ وغیرہ کرنا۔ بلوغ الامانی میں عبدالرحمن البناء رحمہ اللہ لکھتے ہیں: «و كان من عادة العرب الوصية بذالك، و منه قول طرفة بن المعبد إذا مت فانعيني بما أنا أهله و شقى على الجيب يا ابنة معبد.» (2)
یعنی عربوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اس طرح کی وصیت کرتے تھے، جیسا کہ طرفہ بن معبد کا قول ہے: جب میں مر جاؤں تو مجھ پر نوحہ کرنا جس کا میں اہل ہوں۔ اور اے معبد کی بیٹی (میرے مرنے پر) اپنا گریبان چاک کرنا۔
بلوغ الامانی کی اس عبارت کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نوحہ اور رسوم جاہلیت کی ادائیگی پر عرب لوگ قبل مرنے سے وصیت کرتے تھے، چنانچہ اب حدیث اور باب میں یوں بھی تطبیق ہو سکتی ہے کہ اگر مرنے والے نے وصیت کی کہ میری میت پر نوحہ کیا جائے اور اس کی وصیت کے مطابق نوحہ کیا گیا اور جنازے کے ساتھ آگ وغیرہ لے جایا گیا تو میت کو عذاب دیا جائے گا، اور یہ عذاب دیا جانا موت کی سختیوں میں سے ہے جسے سکرات سے تعبیر کیا گیا ہے، ہو سکتا ہے یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہو۔ واللہ اعلم
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 228 سے ماخوذ ہے۔

✍️ مولانا داود راز
6514. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں، دو آپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اسکی ساتھ اس کا اہل مال اور عمل چلتا ہے، اس کےاہل خانہ اور اس کا مال تو واپس آ جاتا ہے جبکہ اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6514]
حدیث حاشیہ: دوسری حدیث میں ہے کہ اس کا نیک عمل اچھے خوبصورت شخص کی صورت میں بن کر اس کے پاس آ کر اسے خوشی کی بشارت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔
باب کی مناسبت اس طرح سے ہے کہ میت کے ساتھ لوگ اس وجہ سے جاتے ہیں کہ موت کی سختی اس پر حال ہی میں گزری ہوئی ہے تو اس کی تسکین اور تسلی کے لئے ہمراہ رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6514 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6514. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں، دو آپس آ جاتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اسکی ساتھ اس کا اہل مال اور عمل چلتا ہے، اس کےاہل خانہ اور اس کا مال تو واپس آ جاتا ہے جبکہ اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6514]
حدیث حاشیہ:
(1)
چونکہ میت، مرتے وقت موت کی سختی سے دوچار ہوتی ہے، اس لیے اس کی تسکین و تسلی کے لیے اہل خانہ اس کے ساتھ جاتے ہیں۔
دوسری حدیث میں ہے کہ نیک آدمی کا اچھا کردار خوبصورت شخص کی صورت میں اس کے پاس آ کر اسے بشارت دیتا ہے۔
آدمی کہتا ہے: تو کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میں تیرا نیک عمل ہوں۔
اور کافر کے پاس اس کا عمل انتہائی بدصورت انسان کی شکل میں آتا ہے اور ڈراتا ہے اور رنج و الم سے دوچار کرتا ہے۔
(مسند أحمد: 296/4) (2)
بہرحال انسان کا اچھا یا برا کردار تو اس کے ساتھ رہتا ہے۔
جبکہ بعض اوقات اہل خانہ اور مال و اسباب اس کے ساتھ نہیں جاتے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ آسانی فرمائے۔
آمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6514 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2960 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے اس کے گھر والے،اس کا مال اور اس کا عمل اس کے پیچھے رہ جا تے ہیں،گھر والے اور مال لوٹ آ تے ہیں اور عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7424]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: انسان کے ساتھ اس کے بعض اہل اور کچھ مال، نوکر چاکر، غلام، چار پائی وغیرہ جاتے ہیں، جو درحقیقت اب اس کے نہیں ہیں، اس کے وارثوں کے ہیں، جتے ہیں اور دفن کرنے کے بعد واپس آجاتے ہیں، نیک عمل قبر میں انسان کے پاس ایک خوبرو خوش پوش اور خوشبو دار جوان کی شکل میں آتا ہے اور برا عمل اس کے برعکس آتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2960 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1939 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مردوں کو برا بھلا کہنا منع ہے۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے (کے ساتھ) تین چیزیں (قبرستان تک) جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال، اور اس کا عمل، (پھر) دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال لوٹ آتے ہیں، اور ایک باقی رہ جاتا ہے اور وہ اس کا عمل ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1939]
1939۔ اردو حاشیہ: ➊ ’’اس کا مال ’’ مراد غلام وغیرہ ہیں۔ جاہلیت میں لوگ فخر کے لیے جنازے کے ساتھ اس کے گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ بھی لے جاتے تھے۔
➋ انسان کا عمل اس کے ساتھ رہے گا، اس لیے اعمال صالحہ کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے اور اہل اور مال میں مشغو ل ہو کر اعمال سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
➌ اس حدیث کا باب سے کوئی ظاہری تعلق سمجھ میں نہیں آ رہا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1939 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1220 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1220- سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میت کے ساتھ تین چیزیں اس کی قبر تک جاتی ہیں اس کے اہل خانہ، اس کا مال اور اس کا عمل، دو واپس آجاتے ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتا ہے، اس کے اہل خانہ اور اس کا مال واپس آجاتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1220]
فائدہ:
اس حدیث میں میت کو فائدہ دینے والے اس کے اعمال کا ذکر ہے، میت کا اہل اور مال میت کے ساتھ نہیں رہتے، جن کی خاطر انسان دنیا میں دین سے غافل رہا، اللہ تعالیٰ ہمیں نیک اعمال کی توفیق دے، آمین۔
اے رب العالمین! کتابیں لکھنا ایک نیک عمل ہے، راقم دینی کتب لکھنے کو ایک عبادت سمجھتا ہے، یا رب العالمین! میرے قلم میں برکت عطا فرما، اور میرا سینہ کھول دے، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1218 سے ماخوذ ہے۔