صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ: باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ ، فَيَقُولُ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " ، قَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي مَوْتَهُمْ .´مجھ سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی ۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ( قیامت سے) ان کی موت تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
باب سے حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ آپ نے موت کو قیامت قرار دیا اورقیامت میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ میں بھی بے ہوشی ہوتی ہے یہی ترجمہ باب ہے۔
(1)
ہر انسان کی موت اس کے لیے قیامت ہے، یعنی یہ اس کے لیے قیامت صغریٰ ہے اور قیامت کبریٰ وہ ہے جو مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے قائم ہو گی۔
مقصد یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کے متعلق سوال کرنے کو چھوڑو وہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تمہیں اس وقت کے متعلق سوال کرنا چاہیے جس میں تمہارا وقت ختم ہو جائے گا۔
یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ مرنے سے پہلے تم ایسے نیک اعمال کرو جو مرنے کے بعد تمہارے کام آ جائیں۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طور پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو قیامت قرار دیا ہے اور قیامت کے دن سختی کی وجہ سے لوگ بے ہوش ہو رہے ہوں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہو گا۔
‘‘ (الحج: 2)
یعنی قیامت کے دن لوگ بدحواس ہو کر ایک دوسرے پر گریں گے جیسے روشنی پر پتنگے گرتے ہیں۔
«. . . أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . . .»
”. . . ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا موجود تھا جس کو محمد کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ جئیے گا تو شاید بوڑھا نہ ہونے پائے کہ قیامت آ جائے . . .“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ: 7410]
مراد اس قیامت سے وہی قیامت صغریٰ ہے یعنی موت، کیونکہ قیامت کبریٰ کا وقت سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔