مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 6511
حَدَّثَنِي صَدَقَةُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْأَعْرَابِ جُفَاةً يَأْتُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْأَلُونَهُ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَكَانَ يَنْظُرُ إِلَى أَصْغَرِهِمْ ، فَيَقُولُ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَا يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " ، قَالَ هِشَامٌ : يَعْنِي مَوْتَهُمْ .
مولانا داود راز

´مجھ سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی ۔ ہشام نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ( قیامت سے) ان کی موت تھی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6511
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2953

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6511. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عرب کے بادیہ نشین سادہ منش لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے اور آپ سے دریافت کرتے: قیامت آئے گی؟ آپ ان میں سے کمسن شخص کو دیکھتے اور فرماتے: اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی۔ (راوی حدیث) ہشام نے کہا: قیامت سے مراد ان کی موت تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6511]
حدیث حاشیہ: آپ کا مطلب یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کا وقت تواللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہر آدمی کی موت اس کی قیامت صغریٰ ہے۔
باب سے حدیث کی مناسبت اس طرح ہے کہ آپ نے موت کو قیامت قرار دیا اورقیامت میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے ﴿فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ﴾ میں بھی بے ہوشی ہوتی ہے یہی ترجمہ باب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6511 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6511. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ عرب کے بادیہ نشین سادہ منش لوگ نبی ﷺ کے پاس آتے اور آپ سے دریافت کرتے: قیامت آئے گی؟ آپ ان میں سے کمسن شخص کو دیکھتے اور فرماتے: اگر یہ زندہ رہا تو اسے بڑھاپا نہیں آئے گا حتیٰ کہ تم پر تمہاری قیامت قائم ہو جائے گی۔ (راوی حدیث) ہشام نے کہا: قیامت سے مراد ان کی موت تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6511]
حدیث حاشیہ:
(1)
ہر انسان کی موت اس کے لیے قیامت ہے، یعنی یہ اس کے لیے قیامت صغریٰ ہے اور قیامت کبریٰ وہ ہے جو مرنے کے بعد حساب کتاب کے لیے قائم ہو گی۔
مقصد یہ تھا کہ قیامت کبریٰ کے متعلق سوال کرنے کو چھوڑو وہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
تمہیں اس وقت کے متعلق سوال کرنا چاہیے جس میں تمہارا وقت ختم ہو جائے گا۔
یہ تمہارے لیے بہتر ہے تاکہ مرنے سے پہلے تم ایسے نیک اعمال کرو جو مرنے کے بعد تمہارے کام آ جائیں۔
(2)
اس حدیث کی عنوان سے مطابقت اس طور پر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو قیامت قرار دیا ہے اور قیامت کے دن سختی کی وجہ سے لوگ بے ہوش ہو رہے ہوں گے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تو لوگوں کو مدہوش دیکھے گا، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت شدید ہو گا۔
‘‘ (الحج: 2)
یعنی قیامت کے دن لوگ بدحواس ہو کر ایک دوسرے پر گریں گے جیسے روشنی پر پتنگے گرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6511 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2953 کی شرح از صحیح مسلم شرح نووی ✍️
´قیامت کا قریب ہونا`
«. . . أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ؟ وَعِنْدَهُ غُلَامٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَعِشْ هَذَا الْغُلَامُ فَعَسَى أَنْ لَا يُدْرِكَهُ الْهَرَمُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ . . .»
. . . ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری لڑکا موجود تھا جس کو محمد کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ جئیے گا تو شاید بوڑھا نہ ہونے پائے کہ قیامت آ جائے . . . [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ: 7410]
تشریح:
مراد اس قیامت سے وہی قیامت صغریٰ ہے یعنی موت، کیونکہ قیامت کبریٰ کا وقت سوا اللہ کے کسی کو معلوم نہیں۔
درج بالا اقتباس مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 2953 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔