صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ: باب: موت کی سختیوں کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ : إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ أَوْ عُلْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ ، يَشُكُّ عُمَرُ ، فَجَعَلَ يُدْخِلُ يَدَيْهِ فِي الْمَاءِ ، فَيَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ " ، ثُمَّ نَصَبَ يَدَهُ ، فَجَعَلَ يَقُولُ : " فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، حَتَّى قُبِضَ وَمَالَتْ يَدُهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : الْعُلْبَةُ مِنَ الْخَشَبِ ، وَالرَّكْوَةُ مِنَ الْأَدَمِ .´ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ،` انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی وفات کے وقت ) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا ۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے ، پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے «في الرفيق الأعلى» یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی: ’’اے اللہ! موت کی سختیاں برداشت کرنے پر میری مدد فرما۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الجنائز، حدیث: 1623)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب میں نے موت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دیکھی تو کسی کے لیے موت کی شدت مجھے ناگوار نہیں گزرتی تھی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4446)
معلوم ہوا کہ موت کی سختی کوئی بری نشانی نہیں بلکہ نیک بندوں پر موت کی سختی اس لیے ہوتی ہے کہ ان کے درجات بلند ہوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں اعلیٰ مراتب ملیں۔
واللہ المستعان