حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ فَرَآهَا النَّاسُ ، آمَنُوا أَجْمَعُونَ فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يَلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَحَدُكُمْ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا ۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے ، یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا جس نے ایمان کے بعد عمل خیر نہ کیا ہو ۔ پس قیامت آ جائے گی اور دو آدمی کپڑا درمیان میں ( خرید و فروخت کے لیے ) پھیلائے ہوئے ہوں گے ۔ ابھی خرید و فروخت بھی نہیں ہوئی ہو گی اور نہ انہوں نے اسے لپیٹا ہی ہو گا ( کہ قیامت قائم ہو جائے گی ) اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہو گا اور اسے پی بھی نہیں سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کرا رہا ہو گا اور اس کا پانی بھی نہ پی پائے گا ۔ قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اسے کھانے بھی نہ پائے گا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’‘جب تین چیزوں کا ظہور ہو جائے گا تو اس وقت کسی کے لیے اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا جس نے ایمان کے بعد عمل خیر نہیں کمایا ہو گا، ان میں سے ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرا دجال کا آ جانا اور تیسرا دابۃ الارض کا برآمد ہو جانا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 398 (158) (2)
مغرب کی جانب سے طلوع سورج کے بعد کافر کا ایمان اسے کوئی نفع نہیں دے گا کیونکہ اس وقت ایمان لانا جب قیامت کے آثار ظاہر ہونے لگیں موت کے وقت ایمان لانے کی طرح ہے اور غرغرہ کے وقت ایمان لانا مفید نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’بندے کی توبہ اس وقت تک قبول ہے جب تک وہ غرغرہ میں مبتلا نہ ہو، جب یہ کیفیت شروع ہو جائے تو ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الزھد، حدیث: 4253)
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جب انہوں نے اللہ کا عذاب دیکھ لیا تو ان کے ایمان لانے نے انہیں کچھ نفع نہ دیا۔
‘‘ (المؤمن: 85) (3)
جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو اسی وقت خروج دابہ ہو گا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس کی حکمت یہ بیان کرتے ہیں کہ مغرب سے طلوع سورج کے وقت توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا تو دابہ کا ظہور ہو گا جو مومن کو کافر سے ممتاز کر دے گا تاکہ اس مقصد کی تکمیل ہو جائے جو توبہ کا دروازہ بند کر دینے سے مقصود ہے۔
(فتح الباري: 429/11) (4)
واضح رہے کہ غرغرہ سے مراد نزع کا وقت ہے جب قبض روح کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
جب موت کے فرشتے ظاہر ہو جاتے ہیں تو عالم آخرت سے تعلق قائم ہو جاتا ہے، اس لیے توبہ کی مہلت ختم ہو جاتی ہے۔
1۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین علامتیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جبکہ وہ پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس نے اپنے ایمان کی حالت میں اچھے کام نہیں کیے ہوں گے۔
ان میں سےایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرا دجال کا ظاہر ہونا اور تیسرا دابۃ الارض کا نکلنا ہے۔
" (صحیح المسلم، الإیمان، حدیث: 398(158)
2۔
ان علامات میں سے ظہور دجال اور دابة الأرض کا خروج قرب قیامت کی دلیل ہے اور مغرب سے آفتاب کا نکلنا وجود قیامت کی دلیل ہوگی اور اسی وقت سے توبہ کا دروازہ بند کردیا جائے گا۔
وجود قیامت سے پہلے اللہ رب العالمین علامات قیامت ظاہر فرمائے گا جنھیں اشراط الساعة کہا جاتا ہے تاکہ بندے تائب ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں، پھر جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے آفتاب مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا، اس سے یہ اشارہ ہوگا کہ جو قوانین قدرت دنیا کے موجودہ نظام میں کار فرما ہیں، ان کی میعاد ختم ہونے کا وقت آپہنچا ہے۔
پھر جب قرب قیامت کے تمام نشانات کا مجموعہ متحقق ہوگا تو وجود قیامت کا آغاز ہوگا، اس کے بعد ہر چیز کے مشاہدے کا آغاز ہوگا تو توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
واللہ المستعان۔
1۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تین علامتیں ایسی ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوں گی تو کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جبکہ وہ پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس نے ا پنے ایمان کی حالت میں اچھے کام نہیں کیے ہوں گے۔
ان میں سےایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرا دجال کا ظاہر ہونا اور تیسرا دابۃ الارض کا نکلنا ہے۔
" (صحیح المسلم، الإیمان، حدیث: 398(158)
2۔
ان علامات میں سے ظہور دجال اور دابة الارض کا خروج قرب قیامت کی دلیل ہے اور مغرب سے آفتاب کا نکلنا وجود قیامت کی دلیل ہوگی اور اسی وقت سے توبہ کا دروازہ بند کردیاجائے گا۔
وجود قیامت سے پہلے اللہ رب العالمین علامات قیامت ظاہر فرمائے گا جنھیں اشراط الساعة کہا جاتا ہے تاکہ بندے تائب ہوکر اللہ کی طرف رجوع کریں، پھر جب اللہ تعالیٰ قیامت برپا کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے آفتاب مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا، اس سے یہ اشارہ ہوگا کہ جو قوانین قدرت دنیا کے موجودہ نظام میں کار فرما ہیں، ان کی میعاد ختم ہونے کا وقت آپہنچا ہے۔
پھر جب قرب قیامت کے تمام نشانات کا مجموعہ متحقق ہوگا تو وجود قیامت کا آغاز ہوگا، اس کے بعد ہر چیز کے مشاہدے کا آغاز ہوگا تو توبہ کا دروازہ بند کر دیا جائے گا۔
واللہ المستعان۔
وہ ایمان مقبول ومعتبر ہے جو بالغیب ہو(بن دیکھے ہو)
، جب قیامت کا وقوع یقینی ہوگیا اور اس کے وقوع کی نشانیاں ظاہر ہوگئیں، تو ایسے وقت کا ایمان معتبر نہیں ہے، جیسا کہ غرغرہ کی حالت میں مقبول نہیں ہے، ہاں قرب قیامت کی علامات کے ظہور کے وقت کا ایمان معتبر ہے۔
سورج کا مغرب سے نکلنا اور دابۃ الارض (زمین سے ایک عجیب وغریب جانور)
کا نکلنا، جس کی تفصیلات کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، یہ وقوع قیامت کی علامت ہے۔
دجال اور عیسی علیہ السلام کا ظہور قیامت کے قرب کی علامات ہیں، اس لیے ان کے وقت کا ایمان معتبر ہے، اس وقت تک غیبی حقائق کا انکشاف نہیں ہوا ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکل آئے، تو جب سورج نکلے گا اور لوگ اس کو دیکھ لیں گے تو جو بھی روئے زمین پر ہو گا ایمان لے آئے گا، لیکن یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو بھی جو اس سے پہلے ایمان نہ لے آیا ہو اور اپنے ایمان میں خیر نہ کما لیا ہو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4312]
ایمان وہی مفید اور مقبول ہے جو بالغیب ہو حقائق آخرت کا مشاہدہ کر لینے کے بعد ایمان کسی طور مفید نہیں ہو گا۔
آخرت میں بھی کفار یہی کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہمیں واپس لوٹا دے تو نیک عمل کریں گے ہم نے یقین کر لیا ہے۔
السجدہ 12، لیکن دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہی ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی جب تک سورج پچھم سے نہ نکلے گا، جب سورج کو پچھم سے نکلتے دیکھیں گے تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آئیں گے، لیکن یہ ایسا وقت ہو گا کہ اس وقت جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتے تھے، ان کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہ دے گا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4068]
فوائد و مسائل:
(1)
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا آسمان کے نظام میں تبدیلی اور اس کے خاتمے کے قریب آنے کا واضح اشارہ ہے۔
(2)
اس نشانی کے ظاہر ہونے کے بعد کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی، البتہ مومنوں کے نیک اعمال باقی رہیں گے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو گا۔ (پھر اس کے بعد) جب وہ طلوع ہو گا تو لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان لے آئیں گے، مگر یہ ایسا مرحلہ ہو گا جب کسی نفس کے لیے اس کا ایمان قبول کر لینا سود مند نہ ہو گا۔ کیونکہ اس سے پہلے نہ تو اس نے ایمان قبول کیا تھا اور نہ ہی اپنے ایمان سے (کسی) اچھائی کو حاصل کیا تھا۔“ [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 26]
سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ اس سے متعلق سیدنا ابوذر رضی الله عنہ سے مروی ایک حدیث ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟“ صحابه كرام رضى الله عنهم اجمعين نے عرض كيا: الله اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں. فرمایا: ”یہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر عرش کے تلے آتا ہے وہاں سجدہ میں گرتا ہے (اس سجدہ کا مفہوم الله تعالیٰ ہی جانتا ہے) پھر اسی حال میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو حکم ہوتا ہے اونچا ہو جا اور جا جہاں سے آیا ہے، وہ لوٹ آتا ہے اور اپنے نکلنے کی جگہ سے نکلتا ہے۔ پھر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ عرش تلے آتا ہے اور سجدہ کرتا ہے پھر اسی حال میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اس سے کہا جاتا ہے اونچا ہو جا اور لوٹ جا جہاں سے آیا ہے۔ وہ نکلتا ہے اپنے نکلنے کی جگہ سے پھر چلتا ہے اسی طرح ایک بار اسی طرح چلے گا اور لوگوں کو کوئی فرق اس کی چال میں معلوم نہ ہو گا یہاں تک کہ اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر آئے گا عرش کے تلے اس وقت اس سے کہا جائے گا اونچا ہو جا اور نکل جا پچھّم کی طرف سے جدھر تو ڈوبتا ہے وہ نکلے گا پچھّم کی طرف سے۔“ پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو یہ کب ہو گا (یعنی آفتاب کا پچھّم کی طرف سے نکلنا) یہ اس وقت ہو گا جب کسی کو ایمان لانا فائدہ نہ دے گا، جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو اس نے نیک کام نہ کئے ہوں اپنے ایمان میں۔“ [صحيح مسلم، كتاب الايمان، رقم: 399 - شرح السنة، باب قتال الترك والروم: 39/15، رقم: 4244]
اسی طرح ایک دوسری روایت بھی ہے، جس کے راوی سیدنا ابو ہریرة رضی الله عنہ ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے سے فائدہ نہ ہو گا اس کو جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا نیک کام نہیں کیا۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں: 1_ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔
2_ دجال کا ظاہر ہونا۔
3_ زمین سے جانور کا نکلنا۔
اس طرح مغرب سے آفتاب کا طلوع ہونا، ارشاد ربانی میں بھی بطورِ علامت قیامت بتایا گیا ہے۔
«يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ۗ» [الانعام: 158]
"جس روز آپ کے رب کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی، کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے سے ایمان نہیں رکھتا۔ یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔ " [صحيح مسلم، رقم: 396]
اسی طرح جو شخص اس علامت کے ظہور سے پہلے فوت ہو جائے، تو اس کے لیے بھی ایک وقت مؤجل ہے، جس کے بعد اس کا ایمان اور اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ .» [سنن ترمذي، كتاب الدعوات، رقم: 3537 - سنن ابن ماجه: 4653]
البانی رحمه الله نے اسے "حسن" کہا ہے۔
"الله اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک کہ (موت کے وقت) اس کے گلے سے خر خر کی آواز نہ آنے لگے“
معلوم ہوا کہ یہ مواقع ایسے ہیں جن کے بعد کسی متنفس کا ایمان اور اس کی توبہ قابلِ قبول نہ ہوگی۔ "
جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا، تو سب لوگ اسے دیکھتے ہی ایمان قبول کر لیں گے:
اس علامت کے ظہور کے بعد لوگ الله کی طرف پلٹیں گے، اس سے پہلے ان کو نہ تو ایمان کی فکر ہوگی، اور نہ ہی توبہ کا تصور، مگر اس خلاف معمول عمل کو دیکھ کر فوری طور پر الله کی طرف رجوع کریں گے۔ لیکن اس وقت ان کا ایمان ان کے لیے نفع بخش ثابت نہ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ اِتمام حجت کے بعد ایمان لانا بے سود ہوگا۔ اس وقت مہلتِ ایمان اختتام کو پہنچ چکی ہوگی اور لوگوں کے مرنے کی گھڑی قریب تر ہوگی۔