حدیث نمبر: 6504
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ اور ابوالتیاح نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں اور قیامت ان دونوں ( انگلیوں ) کی طرح ( نزدیک نزدیک ) بھیجے گئے ہیں ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6504
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2951 | سنن ترمذي: 2214

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ زبیر علی زئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا بیان ایک حدیث سے
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بعثت أنا والساعة كهاتين»
میں اور قیامت ان دونوں (انگلیوں) کی طرح (نزدیک نزدیک) بھیجے گئے ہیں۔ [صحيح بخاري: 6504، صحيح مسلم: 2951، دارالسلام: 7404]

دو انگلیوں سے مراد سبابہ اور درمیانی انگلی ہیں۔ دیکھئے: [صحيح مسلم: 7405]

اس حدیث کی تشریح میں حافظ ابن حبان نے فرمایا: «أراد به أني بعثت والساعة كالسبابة والوسطي من غير أن يكون بيننانبي آخر، لأني آخر الأنبياء و علٰي أمتي تقوم الساعة .»

اس حدیث سے آپ کی مراد یہ ہے کہ میں اور قیامت اس طرح مبعوث کئے گئے ہیں جس طرح سبابہ (شہادت والی انگلی) اور درمیانی انگلی ہیں، ہمارے درمیان دوسرا کوئی نبی نہیں، کیونکہ میں آخری نبی ہوں اور میری اُمت پر ہی قیامت قائم ہو گی۔ [صحيح ابن حبان، الاحسان 15/ 13 ح 6640، پر ان انسخه: 6606]

. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 100 صفحہ 22 تا 47
درج بالا اقتباس ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔