صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ: باب: جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس کو دبائے اس کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ ؟ " ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " حَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ : أَنْ يَعْبُدُوهُ ، وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : " يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ " ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوهُ ؟ " ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .´ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن حارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک ، یا رسول اللہ ! پھر تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! پھر تھوڑی دیر مزید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ۔ پھر فرمایا ، اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! فرمایا ، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا ، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا ، اے معاذ بن جبل ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! فرمایا ، تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بار بار آواز دی تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اہم بات بیان کرنے والے ہیں اور اسے سننے کے لیے مکمل طور پر متوجہ ہو جائیں، غفلت نہ کریں۔
(2)
اللہ تعالیٰ کی عبادت کے علاوہ اپنے نفس کو ہر قسم کے شغل سے روکے رکھنا نفس کا مجاہدہ ہے۔
چونکہ حدیث میں عبادت کا استحقاق بیان ہوا ہے، اس بنا پر عنوان اور حدیث میں مطابقت واضح ہے۔
نفس کی عام طور پر دو حالتیں ہیں: ایک تو شہوات میں منہمک ہونا اور دوسری اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گریز کرنا۔
نفس سے مجاہدہ ان دونوں حالات کے پیش نظر ہوتا ہے۔
(3)
نفس کے تین دشمن ہیں، ان کا سردار ابلیس لعین ہے، دوسرا انسان کا نفس اور تیسرا غلط قسم کے لوگ۔
نفس کا مددگار شیطان ہوتا ہے، اس لیے نفس سے جہاد بہت مشکل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا ثواب بھی بہت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’جو انسان اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈر گیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے لگام دی تو اس کا ٹھکانا جنت ہے۔
‘‘ (النازعات: 40) (4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نفس سے جہاد کے چار مراتب ہیں: ٭ اسے امور دین سیکھنے کے لیے آمادہ کرنا اور اس پر لگانا۔
٭ دینی معاملات کے مطابق عمل کرنے اور اس پر ہمیشگی کرنے پر آمادہ کرنا۔
٭ اسے اس بات پر آمادہ کرنا کہ جن لوگوں کو علم نہیں ہے انہیں تعلیم دے۔
٭ توحید کی طرف بلانے اور دین کی مخالفت کرنے والوں سے قتال کرنے پر آمادہ کرنا۔
(فتح الباري: 410/11)
واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے کوئی چیز واجب نہیں۔
حدیث میں ’’بندوں کا اللہ پر حق‘‘ کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے جزا و سزا کا جو وعدہ کیا ہے وہ اس کو پورا کرے گا۔
واللہ أعلم
اس لیے مشرکین پر جنت قطعاً حرام کر دی گئی ہے کتنے نام نہاد مسلمان بھی افعال شرکیہ میں گرفتار ہیں وہ بھی اسی قانون کے تحت ہوں گے۔
(1)
اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ اہل توحید جنت کے حق دار ہیں جبکہ کفر و شرک میں مبتلا لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے یہ ثابت کیا ہے کہ آدمی اپنی سواری پر کسی دوسرے کو اپنے پیچھے بٹھا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا تھا، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں بلکہ رواداری کا تقاضا ہے کہ اگر گنجائش ہو تو ضرور کسی مسافر کے ساتھ اس طرح کی ہمدردی کرے۔
(3)
واضح رہے کہ محدثین کرام نے نام بنام ایسے خوش قسمت حضرات کی نشاندہی کی ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور وہ تیس کے قریب ہیں۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 489/10)
(1)
اس حدیث میں توحید اختیار کرنے پر بہت بڑی بشارت دی گئی اور شرک کرنے کی مذمت کی گئی ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے جواب سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان ثابت کیا ہے۔
(2)
اللہ تعالیٰ پر حق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے فضل وکرم سے اس بات اپنے ذمے لے لیا ہے بصورت دیگر اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں، وہ جو چاہے کر گزرتا ہے۔
اس کی مرضی کے خلاف کسی کو دم مارنے کی جرأت نہیں ہے۔
جو لوگ بحق فلاں بحق فلاں کہہ کر دعا کرتے ہیں، ان کا یہ طریقہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں ہے۔
(1)
لَبَّيْكَ: لب کا تثنیہ ہے اور (ک)
کی طرف مصاف ہے، تکرار اور تاکید و کثرت کے لیے ایسا کرتے ہیں، معنی ہے اجبت لك اجابة بعد اجابة، ’’آپ کے لیے بار بار حاضر ہوں‘‘ یا اقمت علي طاعتك اقامة بعد اقامة، ’’مسلسل آپ کی اطاعت پر قائم ہوں۔
‘‘ (2)
سَعْدَيْكَ: سعد کا تثنیہ ہے اور اس کا مقصد بھی تکرار و کثرت ہے معنی ہے: أنا مسعد طاعتك اسعاد بعد اسعاد، یا اسعدك اسعاد ابعد اسعاد، آپ کی خدمت و طاعت کی سعادت پر قائم ہوں۔
فوائد ومسائل:
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ (ﷺ) کے ساتھ بیٹھنے کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے تاکہ نبی اکرم ﷺ کی جو خاص شفقت اور عنایت حاصل تھی اور بارگاہ نبوی میں جو خاص مقام قرب حاصل تھا، وہ سامعین کے پیش نظر رہے، تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ آپ نے حضرت معاذ کو ایسی بات کیوں فرمائی، جس کی عام اشاعت کی اجازت نہ تھی جیسا کہ آگے ان کی حدیث میں آرہا ہے، نیز لوگوں کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے کہ مجھے یہ حدیث اچھی طرح یاد ہے حتی کہ اس کی جزئی باتیں بھی محفوظ ہیں۔
(2)
رسول اللہ ﷺ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے ساتھ، حضرت معاذ کو تین دفعہ مخاطب کیا، اور پھر تیسری دفعہ بھی بات مکمل نہیں کی، مقصد یہ تھا کہ حضرت معاذ ؓ پوری طرح آپ کی طرف متوجہ ہوں اور ہمہ تن گوش ہو کر پوری رغبت وتوجہ اور غور وتا مل کے ساتھ آپ کی بات سنیں، کیونکہ جب انسان کسی چیز کا منتظر ہوتا ہے، تو اس کی طرف پوری توجہ کرتا ہے او ر کامل انہماک اورشوق سے سنتا ہے اور ا س کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتا ہے۔