حدیث نمبر: 6480
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يُسِيءُ الظَّنَّ بِعَمَلِهِ ، فَقَالَ لِأَهْلِهِ : إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي ، فَذَرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَفَعَلُوا بِهِ ، فَجَمَعَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ ، قَالَ : مَا حَمَلَنِي إِلَّا مَخَافَتُكَ فَغَفَرَ لَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پچھلی امتوں میں کا ، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈر تھا ۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤں تو میری لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا ۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6480
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2082

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2082 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´مومنوں کی روحوں کا بیان۔`
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں کا ایک آدمی اپنے اعمال کے سلسلہ میں بدگمان تھا، چنانچہ جب موت (کا وقت) آپ پہنچا، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر پیس ڈالنا، پھر مجھے دریا میں اڑا دینا، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر قادر ہو گا تو وہ مجھے بخشے گا نہیں، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تو وہ اس کی روح کو پکڑ کر لائے، اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا:۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2082]
اردو حاشہ: دفن کے بعد روح کا جسم سے اتنا تعلق ہو جاتا ہے کہ سوال و جواب ہوسکیں، مگر یہ دنیوی زندگی سے یکسر مختلف ہے، پھر روح کو (علیین) اور (سجین) میں بھیجا جاتا ہے۔ (علیین) اللہ تعالیٰ کے عرش کے پاس ایک مقام ہے اور (سجین) زمین کے نیچے جہنم کے قریب، لیکن اس کا تعلق اپنے جسم، خواہ وہ کسی حال میں ہو، سے ایک حد تک قائم رہتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے دن دوبارہ ارواح اجسام میں داخل ہو جائیں گی۔ یاد رہے روح اور جسم کا تعلق (برزخی زندگی میں) ہماری سمجھ میں آنے والی چیز نہیں۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے نہ ہمارے دماغ ایسی چیزیں سمجھنے کے لیے بنائے گئے ہیں، جیسے بھینس ریاضی نہیں سمجھ سکتی، اگرچہ دو اور دو چار ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2082 سے ماخوذ ہے۔