صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ: باب: زبان کی (غلط باتوں سے) حفاظت کرنا۔
حدیث نمبر: 6475
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " .مولانا داود راز
´مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔“
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6475
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6018 | صحيح البخاري: 6136 | صحيح البخاري: 6138 | صحيح مسلم: 47 | سنن ترمذي: 2500 | سنن ابي داود: 3749 | سنن ابي داود: 5154 | سنن ابن ماجه: 3971
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6475. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کا اللہ پر ایمان اور قیامت پر یقین ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو کوئی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جس شخص کا اللہ اور یوم آخرت پر ایمان ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:6475]
حدیث حاشیہ: قسطلانی نے کہا اللہ کی رضامندی کی بات یہ ہے کہ کسی مسلمان کی بھلائی کی بات کہے جس سے اس کو فائدہ پہنچے اور ناراضی کی بات یہ ہے کہ مثلاً ظالم بادشاہ یا حاکم سے مسلمان بھائی کی برائی کرے اس نیت سے کہ اس کو ضرر پہنچے۔
ابن عبد البر سے ایساہی منقول ہے۔
ابن عبد السلام نے کہا ناراضی کی بات سے وہ بات مراد ہے جس کا حسن اور قبح معلوم نہ ہو ایسی بات منہ سے نکالنا حرام ہے۔
تمام حکمت اور اخلاق کا خلاصہ اور اصل الاصول یہ ہے کہ آدمی سوچ کر بات کہے بن سوچے جو منہ پرآئے کہہ دینا نادانوں کا کام ہے بہت لوگ ایسے ہیں کہ بات جان کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے اور ٹر ٹر بے فائدہ باتیں کئے جاتے ہیں ایسا علم بغیر عمل کے کیا فائدہ دے گا۔
ابن عبد البر سے ایساہی منقول ہے۔
ابن عبد السلام نے کہا ناراضی کی بات سے وہ بات مراد ہے جس کا حسن اور قبح معلوم نہ ہو ایسی بات منہ سے نکالنا حرام ہے۔
تمام حکمت اور اخلاق کا خلاصہ اور اصل الاصول یہ ہے کہ آدمی سوچ کر بات کہے بن سوچے جو منہ پرآئے کہہ دینا نادانوں کا کام ہے بہت لوگ ایسے ہیں کہ بات جان کر بھی اس پر عمل نہیں کرتے اور ٹر ٹر بے فائدہ باتیں کئے جاتے ہیں ایسا علم بغیر عمل کے کیا فائدہ دے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6475 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6018 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6018. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے۔ جو شخص اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور کوئی اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6018]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ ایمان کا تقاضا ہے کہ پڑوسی کو دکھ نہ دیا جائے۔
مہمان کی عزت کی جائے، زبان کو قابو میں رکھا جائے، ورنہ ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
مہمان کی عزت کی جائے، زبان کو قابو میں رکھا جائے، ورنہ ایمان کی خیر منانی چاہیئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6018 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6138 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6138. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چایئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ اور جو اللہ پر ایمان اور قیامت رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6138]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں جو صفات حسنہ مذکور ہوئی ہیں وہ اتنی اہم ہیں کہ ان سے محروم رہنے والے آدمی کو ایمان سے محروم کہا جا سکتا ہے۔
مہمان کا اکرام کرنا، صلہ رحمی کرنا، زبان قابو میں رکھنا یہ بڑی ہی اونچی خوبیاں ہیں جو ہر مسلمان کے اندر ہونی ضروری ہیں، ورنہ خالی نماز روزہ بے وزن ہوکر رہ جائیں گے۔
آج کل کتنے ہی نمازی مدعیان دین ہیں جو محض لفافہ ہیں اندر کچھ نہیں ہے۔
بے مغز بے کار محض ہوتی ہے، کتنے نام نہاد علماء وحفاظ بھی ایسے ہوتے ہیں جو محض ریا ونمود کے طلب گار ہوتے ہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
مہمان کا اکرام کرنا، صلہ رحمی کرنا، زبان قابو میں رکھنا یہ بڑی ہی اونچی خوبیاں ہیں جو ہر مسلمان کے اندر ہونی ضروری ہیں، ورنہ خالی نماز روزہ بے وزن ہوکر رہ جائیں گے۔
آج کل کتنے ہی نمازی مدعیان دین ہیں جو محض لفافہ ہیں اندر کچھ نہیں ہے۔
بے مغز بے کار محض ہوتی ہے، کتنے نام نہاد علماء وحفاظ بھی ایسے ہوتے ہیں جو محض ریا ونمود کے طلب گار ہوتے ہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6138 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6138 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6138. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چایئے کہ وہ صلہ رحمی کرے۔ اور جو اللہ پر ایمان اور قیامت رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6138]
حدیث حاشیہ:
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ میزبانی وصول کرنے کا حکم ابتدائے اسلام میں عربوں کے ہاں رائج دستور کے مطابق تھا کہ مہمان، میزبان سے اپنا حق چھین لے۔
آج کل ہوٹلوں کا دور ہے، مسافر کو کھانے پینے کے معاملے میں کسی قسم کی وقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ مہمانوں کی خبر گیری کی جائے اور ایسا کرنا اہل اسلام کے لیے ضروری ہے۔
(2)
مذکورہ بالا حدیث کے مطابق اگر مہمان نوازی نہ کی جائے تو مہمان کو اپنا حق چھین لینے کی اجازت ہے، اس کے عدم وجوب پر جو تاویل پیش کی گئی ہے اس کی کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
واللہ أعلم
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ میزبانی وصول کرنے کا حکم ابتدائے اسلام میں عربوں کے ہاں رائج دستور کے مطابق تھا کہ مہمان، میزبان سے اپنا حق چھین لے۔
آج کل ہوٹلوں کا دور ہے، مسافر کو کھانے پینے کے معاملے میں کسی قسم کی وقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ مہمانوں کی خبر گیری کی جائے اور ایسا کرنا اہل اسلام کے لیے ضروری ہے۔
(2)
مذکورہ بالا حدیث کے مطابق اگر مہمان نوازی نہ کی جائے تو مہمان کو اپنا حق چھین لینے کی اجازت ہے، اس کے عدم وجوب پر جو تاویل پیش کی گئی ہے اس کی کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6138 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6136 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6136. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہووہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔ جو شخص اللہ پر ایمان اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ ہر ایمان اور آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر چپ رہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6136]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ میزبان کو اپنے خاص عطیے سے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! عطیے سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ایک دن اور ایک رات اور مہمان نوازی تین دن تک، اس سے زائد صدقہ ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، اللقطة، حدیث: 4513(48)
ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’مہمان کی ایک رات ضیافت تو ہر مسلمان پر واجب ہے۔
اگر اس نے محرومی کی حالت میں اس کے ہاں صبح کی تو اس کے لیے میزبان پر قرض ہو گا، اگر چاہے تو اس سے مطالبہ کر لے اور اگر چاہے تو اسے چھوڑ دے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأدب، حدیث: 3677) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق چند وجوہات کی بنا پر مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے: ٭ ضیافت کو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان کی فرع قرار دیا گیا ہے۔
٭ تین دن سے زائد صدقہ ہے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے واجب ہے۔
٭ مذکورہ بالا ابن ماجہ کی روایت میں اس کے واجب ہونے کی صراحت ہے۔
(1)
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ میزبان کو اپنے خاص عطیے سے مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! عطیے سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ایک دن اور ایک رات اور مہمان نوازی تین دن تک، اس سے زائد صدقہ ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، اللقطة، حدیث: 4513(48)
ایک دوسری حدیث میں ہے: ’’مہمان کی ایک رات ضیافت تو ہر مسلمان پر واجب ہے۔
اگر اس نے محرومی کی حالت میں اس کے ہاں صبح کی تو اس کے لیے میزبان پر قرض ہو گا، اگر چاہے تو اس سے مطالبہ کر لے اور اگر چاہے تو اسے چھوڑ دے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأدب، حدیث: 3677) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق چند وجوہات کی بنا پر مہمان کی ضیافت کرنا واجب ہے: ٭ ضیافت کو اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان کی فرع قرار دیا گیا ہے۔
٭ تین دن سے زائد صدقہ ہے کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے واجب ہے۔
٭ مذکورہ بالا ابن ماجہ کی روایت میں اس کے واجب ہونے کی صراحت ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6136 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2500 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2500]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہ بھلی بات کہے یا خاموش رہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2500]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ بولنے سے پہلے بولنے والا خوب سوچ سمجھ لے تب بولے، یا پھر خاموش ہی رہے تو بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بھلی بات بھی الٹے نقصان دہ ہوجائے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ بولنے سے پہلے بولنے والا خوب سوچ سمجھ لے تب بولے، یا پھر خاموش ہی رہے تو بہتر ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ بھلی بات بھی الٹے نقصان دہ ہوجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2500 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3971 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3971]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3971]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بری بات کہنے سے اجتناب ایمان کا تقاضہ ہے۔
(2)
فضول باتیں کرنے سے اجتناب کرنا اور خاموش رہنا اچھی عادت ہے۔
(3)
بے فائدہ باتوں میں مشغول رہنے سے ذکر الہی اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہنا بہت ہی بہتر ہے۔
اس کی وجہ سے گناہ سے حفاظت ہوتی ہے اور نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
بری بات کہنے سے اجتناب ایمان کا تقاضہ ہے۔
(2)
فضول باتیں کرنے سے اجتناب کرنا اور خاموش رہنا اچھی عادت ہے۔
(3)
بے فائدہ باتوں میں مشغول رہنے سے ذکر الہی اور تلاوت وغیرہ میں مشغول رہنا بہت ہی بہتر ہے۔
اس کی وجہ سے گناہ سے حفاظت ہوتی ہے اور نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3971 سے ماخوذ ہے۔