صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ مَا يُتَّقَى مِنْ فِتْنَةِ الْمَالِ: باب: مال کے فتنے سے ڈرتے رہنا۔
حدیث نمبر: 6440
وَقَالَ لَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ : كُنَّا نَرَى هَذَا مِنَ الْقُرْآنِ حَتَّى نَزَلَتْ : أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ .مولانا داود راز
´اور ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، ان سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہ` ہم اسے قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے یہاں تک کہ آیت «ألهاكم التكاثر» نازل ہوئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6440. حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اسے قرآن سے خیال کرتے تھے حتیٰ کہ آیت: "أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ" نازل ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6440]
حدیث حاشیہ: الفاظ حدیث (لو أن لابنِ آدمَ واديا مِن ذَهب)
کو بعض صحابہ قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے۔
مگر سورة ألھکم التکاثر سے ان کو معلوم ہوا کہ یہ قرآنی الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ حدیث نبوی ہے جس کا مضمون قرآن پاک کی سورة ألھکم التکاثر میں ادا کیا گیا ہے۔
یہ سورت بہت ہی رقت انگیز ہے مگر حضور قلب کے ساتھ تلاوت کی ضرورت ہے۔
وفقنا اللہ۔
آمین۔
کو بعض صحابہ قرآن ہی میں سے سمجھتے تھے۔
مگر سورة ألھکم التکاثر سے ان کو معلوم ہوا کہ یہ قرآنی الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ حدیث نبوی ہے جس کا مضمون قرآن پاک کی سورة ألھکم التکاثر میں ادا کیا گیا ہے۔
یہ سورت بہت ہی رقت انگیز ہے مگر حضور قلب کے ساتھ تلاوت کی ضرورت ہے۔
وفقنا اللہ۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6440 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6440. حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اسے قرآن سے خیال کرتے تھے حتیٰ کہ آیت: "أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ" نازل ہوئی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6440]
حدیث حاشیہ:
(1)
الفاظ حدیث (لو أن لابنِ آدمَ واديا مِن ذَهب)
کو کچھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن ہی میں سے خیال کرتے تھے لیکن جب سورۃ التکاثر نازل ہوئی تو راز کھلا کہ یہ قرآن کے الفاظ نہیں بلکہ یہ حدیث نبوی ہے جس کا مضمون سورۃ التکاثر میں ادا کیا گیا ہے کیونکہ آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں: ’’تمہیں مال کی کثرت نے یاد الٰہی سے غافل کر دیا حتی کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
‘‘ (التکاثر: 1/102، 2) (2)
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوتے تھے، جب وحی نازل ہوتی تو آپ ہمیں بیان کرتے۔
ایک دن آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہم نے مال اس لیے دیا ہے تاکہ تم نماز قائم کرو اور زکاۃ دو۔
اگر ابن آدم کے لیے ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی تلاش میں رہتا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 219/5)
(1)
الفاظ حدیث (لو أن لابنِ آدمَ واديا مِن ذَهب)
کو کچھ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم قرآن ہی میں سے خیال کرتے تھے لیکن جب سورۃ التکاثر نازل ہوئی تو راز کھلا کہ یہ قرآن کے الفاظ نہیں بلکہ یہ حدیث نبوی ہے جس کا مضمون سورۃ التکاثر میں ادا کیا گیا ہے کیونکہ آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں: ’’تمہیں مال کی کثرت نے یاد الٰہی سے غافل کر دیا حتی کہ تم قبروں میں جا پہنچے۔
‘‘ (التکاثر: 1/102، 2) (2)
حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوتے تھے، جب وحی نازل ہوتی تو آپ ہمیں بیان کرتے۔
ایک دن آپ نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہم نے مال اس لیے دیا ہے تاکہ تم نماز قائم کرو اور زکاۃ دو۔
اگر ابن آدم کے لیے ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی تلاش میں رہتا ہے۔
‘‘ (مسند أحمد: 219/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6440 سے ماخوذ ہے۔