صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ وُجُوبِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ: باب: جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابوالزناد سے خبر دی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں ۔ پھر نماز کے لیے کہوں ، اس کے لیے اذان دی جائے پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں ( جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے ) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انہیں مسجد میں ایک اچھے قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی یا دو عمدہ کھر ہی مل جائیں گے تو یہ عشاء کی جماعت کے لیے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں
تشریح، فوائد و مسائل
اسی لیے جن علماء نے نماز کو جماعت کے ساتھ فرض قرار دیا ہے، یہ حدیث ان کی اہم دلیل ہے۔
علامہ شوکانی فرماتے ہیں: والحدیث استدل به القائلون بوجوب صلوٰة الجماعة لأنها لوکانت سنة لم یهدد تارکها بالتحریق۔
یعنی اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل پکڑی ہے جو نماز باجماعت کو واجب قراردیتے ہیں۔
اگریہ محض سنت ہوتی تواس کے چھوڑنے والے کو آگ میں جلانے کی دھمکی نہ دی جاتی۔
بعض علماء کہتے ہیں کہ اگرنماز باجماعت ہی فرض ہوتی توآپ ﷺ ان کو بغیر جلائے نہ چھوڑتے۔
آپ کا اس سے رک جانا اس امر کی دلیل ہے کہ یہ فرض نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے۔
نیل الاوطار میں تفصیل سے ان مباحت کو لکھا گیاہے۔
من شاء فلیرجع إلیه۔
1۔
نماز باجماعت کے متعلق مندرجہ ذیل متعدد اقوال ہیں: فرض عین، فرض کفایہ، سنت مؤکدہ، مستحب، صحت نماز کےلیے شرط۔
اگر ترک جماعت پر وعید کی احادیث کو دیکھا جائے تو اس کے متعلق فرض ہونے کا درجہ سمجھ میں آتا ہے اور اگر ان احادیث کو دیکھا جائے جن میں بظاہر معمولی عذر کی وجہ سے ترک جماعت کی گنجائش نکلتی ہے تو اس کے متعلق سنت ہونے کا گمان ہوتا ہے، مثلا: بارش، سخت، سردی، سخت گرمی، کھانے پینے یا انسانی ضرورت کی حاجت وغیرہ۔
البتہ امام بخاری ؒ نے نماز باجماعت کے متعلق فرض عین ہونے کا موقف اختیار کیا ہے، کیونکہ اگر باجماعت نماز پڑھنا سنت ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اس کے تارک کو جلا دینے کی دھمکی نہ دیتے، لیکن آپ نے اس دھمکی کو عملی شکل اس لیے نہیں دی کہ ایسا کرنے سے ان لوگوں کونقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا جن پر نماز باجماعت فرض نہیں ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر ان کے گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں ضرور ان کے گھروں کو جلا دیتا۔
‘‘ (مسند أحمد: 367/2) (2)
امام بخاری ؒ کے موقف کی درج ذیل احادیث سے بھی تائید ہوتی ہے: ٭حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک نابینے نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر نماز ادا کرنے کی اجازت کی تو آپ نے پوچھا: ’’کیا تم اذان سنتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا: ہاں۔
آپ نے فرمایا: ’’پھر اس کا جواب دو، یعنی مسجد میں حاضر ہوکرنماز باجماعت ادا کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1486(653)
٭حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اذان سنے،پھر نماز باجماعت ادا نہ کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں الایہ کہ کوئی عذر حائل ہو‘‘ (سنن ابن ماجة، المساجد والجماعات، حدیث: 793)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: نماز باجماعت سے صرف ایسا منافق ہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا یا کوئی بے چارہ مریض ہوتا تھا حتیٰ کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر چلتا اور باجماعت نماز میں شریک ہوتا۔
(مسند أحمد: 382/1)
٭حضرت مالک بن حویرث ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی اذان کہے اور جو تم میں سے بڑا ہو،وہ امامت کرائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 628)
٭ حضرت ابو درداء سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کسی بھی بستی یاد یہات میں تین آدمی ہوں اور وہ باجماعت نماز ادا نہ کریں تو شیطان ان پر حملہ کردیتا ہے،اس لیے جماعت کو لازم پکڑو کیونکہ بھیڑیا اس بکری کو اپنا لقمہ بنالیتا ہے جو ریوڑ سے دور رہتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 547)
اس کے علاوہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ﴾ ’’اور تم رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
‘‘ (البقرة 2: 43)
اور مذکورہ امر وجوب کے لیے ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں بھی بحالت خوف نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
(النساء 4: 102)
جب ایسے حالات میں نماز باجماعت ادا کرنے کا حکم ہے تو حالت امن میں تو بالاولی اسے واجب ہونا چاہیے۔
مذکورہ احادیث وآیات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت ادا کرنا فرض عین ہے۔
والله أعلم.
اور امام حسن بصری نے کہا کہ اگر کسی شخص کی ماں اس کو محبت کی بنا پر عشاء کی نماز باجماعت کے لیے مسجد میں جانے سے روک دے تو اس شخص کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ماں کی بات نہ مانے۔
فائدہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے حسین بن حسن مروزی کی ”کتاب الصیام“ میں صحیح سند کے ساتھ حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ اثر دیکھا ہے کہ ”انھوں نے اس شخص کے بارے میں جو نفل روزہ رکھتا ہے تو اس کی ماں اسے روزہ کھولنے کا حکم دیتی ہے، کہا کہ وہ روزہ کھول دے اور اس کے ذمے کوئی قضا نہیں ہے اور اسے روزے کا اجر اور ماں سے حسن سلوک کا اجر ملے گا۔ پوچھا گیا: اگر وہ اسے جماعت کے ساتھ عشاء پڑھنے سے منع کرے، تو کہا: اسے یہ حق نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک فرض ہے۔“ امام بخاری رحمہ اللہ نے حسن بصری رحمہ اللہ کا یہ اثر اس بات کی تائید کے لیے ذکر کیا ہے کہ با جماعت نماز فرض ہے۔
فوائد:
۱؎ امام بخاری رحمہ اللہ نے جزم و یقین کے ساتھ جماعت واجب ہونے کا باب قائم فرمایا ہے، کیونکہ اس کے دلائل بہت مضبوط ہیں۔ یاد رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ اور محدثین کے نزدیک واجب اور فرض ایک ہی چیز کا نام ہے۔ اہلِ علم میں سے کچھ لوگ جماعت کو سنتِ مؤکدہ کہتے ہیں، بعض فرضِِ کفایہ اور بعض فرضِِ عین۔ بعض جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کو شرط قرار دیتے ہیں کہ اگر بلا عذر اکیلا فرض نماز پڑھے تو وہ ادا ہی نہیں ہوتی۔ صرف فرض عین قرار دیں تو اکیلے کی نماز ہو جائے گی، مگر ترکِ واجب کا گنہگار ہو گا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے باب سے ظاہر ہے کہ وہ اسے فرضِِ عین سمجھتے ہیں، کیونکہ اگر باجماعت نماز صرف سنت ہوتی تو آپ اس کے ترک کرنے والوں کو گھروں سمیت جلانے کا کبھی ارادہ نہ کرتے، بلکہ اس سے جماعت ہی نہیں مسجد میں آ کر باجماعت نماز پڑھنا فرض ثابت ہو رہا ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث سے الٹا مطلب نکالا ہے کہ یہ دلیل ہے کہ جماعت فرض نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا ہے، عمل تو نہیں کیا، حالانکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس ارادے پر اس لیے عمل نہیں کیا کہ گھروں میں عورتیں اور بچے بھی ہوتے ہیں، جن پر جماعت کے لیے آنا فرض نہیں۔ تعجب ہوتا ہے کہ آدمی اپنے طے کردہ مذہب کو درست ثابت کرنے کے لیے کیا کیا اجتہاد کر گزرتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غلط کام کا ارادہ کر سکتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ نماز باجماعت کی فرضیت قرآن، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔ قرآن مجید کے دلائل یہ ہیں: ➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكوة وَارْكَعُوا مَعَ الركعِينَ» [البقرة: 43] ”اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ اس آیت سے رکوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر رکوع کرنے کے حکم سے جماعت کا وجوب ثابت ہو رہا ہے۔ ایک حضرت صاحب نے اس کی عجیب تاویل کی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں رکوع سے مراد خشوع ہے، اس لیے اس سے جماعت کا وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ بندہ پوچھے آپ خشوع کرنے والوں کے ساتھ مل کر خشوع کی صورت بھی بیان فرما دیں کہ وہ کیا ہو گی؟
➋ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلوةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَابِكهر» [النساء: 102] ”اور جب تو ان میں موجود ہو، پس ان کے لیے نماز کھڑی کرے تو لازم ہے کہ ان میں سے ایک جماعت تیرے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیار پکڑے رکھیں، پھر جب وہ سجدہ کر چکیں تو تمھارے پیچھے ہو جائیں۔“ جب حالتِ خوف میں باجماعت نماز کا حکم ہے تو حالتِ امن میں تو وہ بالا ولٰی واجب ہے۔
حدیث میں بھی نماز باجماعت فرض ہونے کے بہت سے دلائل ہیں: ➊ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا آدمی آیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرا کوئی قائد نہیں جو مجھے لے کر مسجد میں جائے اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ آپ اسے گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت دے دیں۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، پھر جب وہ جانے لگا تو اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: ”پھر اسے قبول کرو۔“ [مسلم: 653]
➋ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ سَمِعَ النَّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُدْرٍ» [ابن ماجه: 793، صحيح] ”جوشخص اذان سنے پھر اس کی طرف نہ آئے تو اس کی نماز نہیں، مگر عذر سے۔“
➌ مالک بن حویرت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنُ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَؤْمَكُمْ أَكْبَرُكُمْ» [بخاري: 628] ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور جو تم میں سے بڑا ہے وہ جماعت کرائے۔“
➍ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: «مَا مِنْ ثَلَاثَةٍ فِي قَرْيَةٍ وَلَا بَدْوِ لَا تُقَامُ فِيهِمُ الصَّلَاةُ إِلَّا قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِم الشَّيْطَانُ، فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذَّنْبُ الْقَاصِيَةَ» [أبو داود: 547، حسن] ”کوئی بھی تین آدمی کسی بستی میں ہوں یا بادیہ میں، جن میں نماز قائم نہ کی جاتی ہو مگر ان پر شیطان غالب آ چکا ہوتا ہے، اس لیے جماعت کو لازم پکڑ، کیونکہ بھیڑیا دور جانے والی ہی کو پکڑتا ہے۔“
رہا اجماع تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے باجماعت نماز پر صحابہ کا اجماع ذکر فرمایا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں: «مَنْ سَرَّهُ أَن يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظُ عَلى هَؤُلاَءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي المُتَخَلَّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ يَخْطُوْهَا حَسَنَةٌ، وَيَرْفَعُهُ بِهَا دَرَجَةً، وَيَحُطُ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ، مَعْلُوْمُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّف» [مسلم: 654/257] ”جس شخص کو پسند ہو کہ کل اللہ تعالیٰ سے مسلم ہونے کی حالت میں ملے وہ ان نمازوں کو وہاں ادا کرنے کی پابندی کرے جہاں ان کے لیے اذان کہی جاتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر فرما دیے ہیں اور یہ (باجماعت نمازیں) ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اور اگر تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو جیسے فلاں گھر میں بیٹھا رہنے والا پڑھتا ہے تو تم اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کا طریقہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ کوئی آدمی جو پاکیزگی حاصل کرتا ہے (وضو کرتا ہے) اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کا رخ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے جو وہ اٹھاتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کے سبب اس کا ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور اس کا ایک گناہ کم کردیتا ہے اور میں نے دیکھا کہ ہم (صحابہ) میں سے اس (جماعت) سے ایسے منافق کے سوا کوئی پیچھے نہیں رہتا تھا جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا تھا اور آدمی کو اس حال میں بھی مسجد میں لایا جاتا تھا کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارے سے لایا جا رہا ہوتا حتی کہ اسے صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔“
۲؎ «عَرْقًا» (عین کے فتحہ اور راء کے سکون کے ساتھ) ہڈی جس کے ساتھ کچھ گوشت ہو۔ «مزمَاةٌ» بکرے کی کھری کے درمیان کا گوشت۔ عشاء کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ اس وقت جماعت سے غیر حاضر زیادہ ہوتے ہیں، ورنہ ہر نماز کا یہی معاملہ ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے متعلق یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کھانے پینے کی طمع اور لالچ میں نماز پڑھتے تھے۔
وہ تو پتھر باندھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے تھے، البتہ یہ منافقین کا کردار ہے جیساکہ قرآن میں ہے: ’’جب وہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
‘‘ (النساء 142)
دنیاوی مفادات کی طمع اور لالچ میں عبادت کرنا ان منافقین کی عادت تھی۔
2۔
اس حدیث کا عنوان سے اس طرح تعلق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز باجماعت ترک کرنے والوں کو زندہ جلا دینے کا ارادہ کیا۔
حدیث میں مزید وضاحت ہے کہ اگر گھر میں بچے اور عورتین نہ ہوں تو ضرور ایسے معصیت پیشہ لوگوں کو جلا دیا جاتا۔
واللہ أعلم۔
خصوصاً نماز باجماعت میں تساہل برتنا اتنی بڑی غلطی ہے جس کے ارتکاب کرنے والوں پر آپ ﷺ نے اپنے انتہائی غیظ و غضب کا اظہار فرمایا۔
اسی سے باب کا مقصد ثابت ہوا۔
تشریح: حدیث میں لفظ فأحرق علیهم سے ترجمہ باب نکلتا ہے کیوں کہ جب گھر جلائے جائیں گے تو وہ نکل بھاگیں گے۔
پس گھر سے نکالنا جائز ہوا۔
ہمارے شیخ امام ابن قیم نے اس حدیث سے اور کئی حدیثوں سے دلیل لی ہے۔
کہ شریعت میں تعزیر بالمال درست ہے یعنی حاکم اسلام کسی جرم کی سزا میں مجرم کو مالی تاوان کر سکتا ہے۔
پچھلے باب میں مدعی اور مدعی علیہ کے باہمی ناروا کلام کے بارے میں کچھ نرمی تھی۔
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری ؒ نے یہ باب منعقد فرما کر اشارہ کیا کہ اگر حد سے باہر کوئی حرکت ہو تو ان پر سخت گرفت بھی ہوسکتی ہے۔
ان کو عدالت سے باہر نکالا جاسکتا ہے۔
حضرت امام نے حضرت عمر ؓ کے اس اقدام سے استدلال فرمایا کہ انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کی وفات پر خود ان کی بہن ام فروہ ؓ کو جب نوحہ کرتے دیکھا تو ان کو گھر سے نکلوا دیا۔
بلکہ بعض دوسری نوحہ کرنے والی عورتوں کو درے مار مار کر گھر سے باہر نکالا۔
فثبتت مشروعیة الاقتصار علی إخراج أهل المعصیة من باب الولي و محل إخراج الخصوم إذا وقع منهم من المراء واللدد ما یقتضي ذلك (فتح الباري)
(1)
رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے خلاف اپنے قہر و غضب کا اظہار کیا ہے جو نماز کا وقت ہونے پر اذان سنتے ہیں لیکن مشاغل ترک کر کے نماز باجماعت ادا نہیں کرتے۔
آپ نے فرمایا: میں ایسے لوگوں کے گھروں میں آگ لگا دینا چاہتا ہوں کیونکہ جب ان کے گھر جلائے جائیں گے تو وہ خود نکل کر بھاگ جائیں گے، اس بنا پر اہل معاصی کا گھروں سے نکالنا ثابت ہوا۔
(2)
اس سے پہلے عنوان میں مدعی اور مدعا علیہ کے درمیان ناروا گفتگو کے متعلق کچھ نرمی تھی، اب اشارہ کیا کہ حد سے بڑھ کر کوئی حرکت ہو تو ان پر سخت گرفت بھی ہو سکتی ہے، انہیں عدالت سے باہر نکالا جا سکتا ہے، اس اعتبار سے یہ حدیث عنوان کے مطابق ہے۔
(1)
أُخَالِفُ إِلٰي رِجَال: ان لوگوں کی طرف جاؤں۔
(2)
عَظْمًا سَمِيْنًا: موٹی تازی ہڈی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اپنے جوانوں کو لکڑیوں کے گٹھر جمع کرنے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جو بغیر کسی عذر کے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جاؤں اور ان کے گھروں کو ان کے سمیت آگ لگا دوں۔“ یزید بن یزید کہتے ہیں: میں نے یزید بن اصم سے پوچھا: ابوعوف! کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد جمعہ ہے، یا اور وقتوں کی نماز؟ فرمایا: میرے کان بہرے ہو جائیں اگر میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، انہوں نے نہ جمعہ کا ذکر کیا، نہ کسی اور دن کا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 549]
مندرجہ بالا دونوں احادیث کے الفاظ تو ایسے ہیں، جو نماز کے لئے ”جماعت“ کے فرض عین کا اشارہ دیتے ہیں۔ اگر یہ عام سی سنت ہوتی تو اس کے ترک پر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگائے جانے کی شدید ترین وعید نہ سنائی جاتی۔ نماز باجماعت آئمہ امت، عطا، اوزاعی، احمد، ابوداؤد، ابن خزیمہ، ابن منذر اور ابن حبان کے نزدیک فرض عین ہے۔ داؤد ظاہری نے جماعت کو صحت صلاۃ کے لئے شرط کہا ہے۔ تمام طرح کے دلائل کی روشنی میں امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو باب وجوب الجماعۃ کے ذیل میں لائے ہیں۔ اور شیخ شوکانی نے اسے سنت موکدہ لکھا ہے۔
➋ جب صرف جماعت چھوڑنے پر اس قدر سخت وعید ہے، تو جو لوگ نماز ہی نہیں پڑھتے وہ کتنی بڑی سزا کے مستحق ہوں گے۔ بلاشبہ ان کا دین اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
➌ ملی اور اجتماعی امور میں رخنہ اندازی یا ان سے پیچھے رہنا بہت بڑا جر م ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارادے کے اظہار سے واضح ہے کہ میں ان کے گھر کو آگ لگا دوں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے (مسجد میں) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 849]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 791]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردوں کے لیے نماز باجماعت میں حاضری ضروری ہے کیونکہ نفلی نیکی ادا نہ کرنے پر سزا نہیں دی جاتی۔
(2)
مجرموں پر اچانک چھاپہ مارنا اور انھیں گھر سے نکلنے پر مجبور کرنا جائز ہے۔
(3)
یہ سختی ان لوگوں کے لیے ہے جو بلا عذر جماعت ترک کرتے ہیں کیونکہ بارش وغیرہ کے موقع پر خود رسول اللہﷺ نے مؤذن سے کہلوایا تھا: (اَلَاصَلُّوا فَي الرِّحَالِ)
’’اپنے خیموں یا گھروں میں نماز پڑھ لو۔‘‘ (صحیح البخاری، الأذان، باب الرخصة فی المعطر والعلة ان يصلي في الرحلة، حديث: 666)
(4)
رسول اللہ ﷺ نے اس ارادے پر اس لیے عمل نہیں فرمایا کہ گھروں میں عورتیں اور بچے بھی ہوتے ہیں جن پر نماز باجماعت میں حاضری ضروری نہیں۔
(5)
اگرچہ نماز با جماعت سے بلا عذر پیچھے رہنا سخت گناہ ہے تاہم جو شخص عذر کی وجہ سے یا بلاعذر پیچھے رہ جائے اس کی نماز اکیلے ہوجائے گی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم نہیں دیا کہ ایسا شخص ضرور کسی اور شخص کو ساتھ ملا کر جماعت سے نماز ادا کرے البتہ اگر وہ کسی کے ساتھ مل کر باجماعت نماز ادا کرے تو اکیلے نماز پڑھنے کی نسبت زیادہ ثواب ہوگا۔
«. . . 325- وبه: أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ”والذي نفسي بيده، لقد هممت أن آمر بحطب فيحطب، ثم آمر بالصلاة فيؤذن لها، ثم آمر رجلا فيؤم الناس، ثم أخالف إلى رجال فأحرق عليهم بيوتهم، والذي نفسي بيده، لو يعلم أحدهم أنه يجد عظما سمينا أو مرماتين حسنتين لشهد العشاء.“ . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں تو لکڑیاں اکٹھی کی جائیں، پھر میں نماز کے لیے اذان کا حکم دوں، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر (نماز نہ پڑھنے والے) لوگوں کو ان کی لاعلمی میں جا پکڑوں اور ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر ان (باجماعت نماز نہ پڑھنے والے) لوگوں میں سے کسی کو معلوم ہو جائے کہ اسے موٹی ہڈی یا بکری کے دو اچھے کھر ملیں تو وہ ضرور عشاء کی نماز میں حاضر ہوں . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 102]
[وأخرجه البخاري 644، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ نماز باجماعت واجب ہے اِلا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو۔
➋ کتاب و سنت کے مخالفین کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جا سکتی ہے۔
➌ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمھارا گھروں میں نماز پڑھنا افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ [الموطا 130/1 ح289 وسنده صحيح]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس ذات گرامی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ارادہ کیا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں پھر نماز کے لئے اذان کا حکم دوں پھر کسی کو نماز پڑھانے کے لئے کہوں پھر میں خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے ان کے گھروں میں موجود ہونے کی صورت میں ان کے گھروں کو ان پر آگ لگا کر جلا دوں۔ قسم اس ذات گرامی کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ان میں سے کسی کو اگر یہ علم ہو جائے کہ اس کو گوشت سے پر موٹی ہڈی مل جائے گی یا دو پائے مل جائیں گے تو نماز عشاء میں لپک کر شامل ہو جائے گا۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 315»
«أخرجه البخاري، الأذان، باب وجوب صلاة الجماعة، حديث:644، ومسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة، حديث:651.»
تشریح: اس حدیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا فرض عین ہے‘ فرض کفایہ یا سنت مؤکدہ نہیں ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ فرض عین نہ ہوتی تو تارکین جماعت کے لیے اتنی سخت اور شدید وعید اور دھمکی نہ دی جاتی۔
ظاہریہ‘ عطاء‘ اوزاعی‘ امام احمد‘ ابوثور‘ ابن خزیمہ‘ ابن منذر اور ابن حبان رحمہم اللہ وغیرہ کا یہی موقف ہے کہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا فرض ہے۔
مگر امام شافعی رحمہ اللہ فرض کفایہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اگر جماعت کے ساتھ ادا کر لیں تو باقی لوگوں سے باجماعت عدم ادائیگی کی باز پرس نہیں کی جائے گی۔
متقدمین شافعیہ ‘ بعض احناف اور مالکیہ کا بھی یہی قول ہے‘ البتہ صاحبین اور امام ابوحنیفہ رحمہم اللہ کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے۔
فرض کفایہ اس لیے نہیں ہے کہ جب کچھ لوگ جماعت میں شامل ہوگئے پھر شامل نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دینے کی کیا ضرورت تھی؟ فرض کفایہ تو چند لوگوں کے ادا کرنے سے پورا ہو جاتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اور نماز ادا نہ کرنے والوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے ہیں، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان لالچی ہے۔