صحيح البخاري
كتاب الرقاق— کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
بَابُ مَا يُحْذَرُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَالتَّنَافُسِ فِيهَا: باب: دنیا کی بہار اور رونق اور اس کی ریجھ کرنے سے ڈرنا۔
حدیث نمبر: 6431
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَبَّابًا : وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے کہا کہ` میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو گزر گئے دنیا نے ان کے نیک اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہم کو اتنا پیسہ ملا کہ ہم اس کو کہاں خرچ کریں بس اس مٹی اور پانی یعنی عمارت میں ہم کو اسے خرچ کا موقع ملا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6431. حضرت قیس سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں حضرت خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا جبکہ وہ اپنے مکان کی دیوار بنا رہے تھے، انھوں نے فرمایا: ہمارے ساتھی جو گزر گئے ہیں، دنیا نے ان کے نیک اعمال میں کچھ بھی کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہمیں اس قدر دولت ملی کہ ہمیں خرچ کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ملتی، سوائے مٹی کے، یعنی عمارات بنانے میں اسے خرچ کر رہے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6431]
حدیث حاشیہ: یعنی بے ضرورت عمارتیں بنوائیں۔
محض دنیا وی نام ونمو ونمائش کے لئے عمارتوں کا بنوانا امر محمود نہیں ہے۔
ہاں ضرورت کے تحت جیسے کھانا ضروری ہے اسی طرح سردی گرمی برسات سے بچنے کے لئے مکان بھی ضروری ہے۔
محض دنیا وی نام ونمو ونمائش کے لئے عمارتوں کا بنوانا امر محمود نہیں ہے۔
ہاں ضرورت کے تحت جیسے کھانا ضروری ہے اسی طرح سردی گرمی برسات سے بچنے کے لئے مکان بھی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6431 سے ماخوذ ہے۔