حدیث نمبر: 6419
حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً " ، تَابَعَهُ أَبُو حَازِمٍ ، وَابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ .
مولانا داود راز

´ہم سے عبدالسلام بن مطہر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن علی بن عطاء نے بیان کیا ، ان سے معن بن محمد غفاری نے ، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے سلسلے میں حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا ۔ “ اس روایت کی متابعت ابوحازم اور ابن عجلان نے مقبری سے کی ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الرقاق / حدیث: 6419
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6419. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے متعلق حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔‘‘ ابوحازم اور ابن عجلان نے سعید مقبری سے روایت کرنے میں معن بن یزید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6419]
حدیث حاشیہ: یا اللہ! میں ستر سال کا پہنچ رہا ہوں، یا اللہ! موت کے بعد مجھ کو ذلت وخواری سے بچائیو اور میرے سارے ہمدردان کرام کو بھی۔
آمین یارب العالمین۔
(راز)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6419 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6419. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کے عذر کے متعلق حجت تمام کر دی جس کی موت کو مؤخر کیا یہاں تک کہ وہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گیا۔‘‘ ابوحازم اور ابن عجلان نے سعید مقبری سے روایت کرنے میں معن بن یزید کی متابعت کی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6419]
حدیث حاشیہ:
انسانی عمر کے چار حصے ہیں: ٭ سن طفولیت، جب تک وہ بالغ نہیں ہوتا۔
٭ سن شباب، جب وہ جوان ہوتا ہے۔
٭ سن کہولت، جب وہ ساٹھ برس کا ہو جائے۔
٭ سن شیخوخت، جب اس سے اوپر چلا جائے۔
اس عمر میں انسان کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے اور وہ انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔
موت بھی اس کے سر پر منڈلانے لگتی ہے۔
جب انسان ساٹھ برس کا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام عذر مسترد کر دیتا ہے۔
انسان کا اس وقت یہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا کہ اسے توبہ و استغفار کے لیے تھوڑی عمر ملی ہے کیونکہ سن بلوغ سے ساٹھ سال تک کافی وقت ہے جس میں انسان سوچ بچار کر کے صحیح راستہ اختیار کر سکتا ہے۔
ایک آرزو٭ اے اللہ! میری اہلیہ کی وفات کے بعد میرا دل دنیا اور اہل دنیا سے اچاٹ ہو چکا ہے۔
اس وقت میری عمر ساٹھ سال سے دو سال کم ہے۔
میری خواہش ہے کہ عمر نبوت تریسٹھ سال سے پہلے تفسیر قرآن اور صحیحین کا ترجمہ اور فوائد مکمل ہو جائیں۔
میری اس خواہش کو پورا کر کے اپنے حضور میرا صدقۂ جاریہ قبول فرما۔
٭ اے اللہ! یہ بھی آرزو ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے اپنی رحمت کے علاوہ کسی کا محتاج نہ کر۔
موت کے بعد بھی مجھے ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھنا۔
٭ میری یہ بھی تمنا ہے کہ قیامت کے دن مجھے، میرے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دوست احباب سمیت جنت الفدوس میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6419 سے ماخوذ ہے۔