صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ: باب: «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَقَبَةٍ ، أَوْ قَالَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ : فَلَمَّا عَلَا عَلَيْهَا رَجُلٌ نَادَى ، فَرَفَعَ صَوْتَهُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا مُوسَى أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .´ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو سلیمان بن طرخان تیمی نے خبر دی ، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی یا درے پر چڑھنے لگے ۔ بیان کیا کہ جب ایک اور صحابی بھی اس پر چڑھ گئے تو انہوں نے بلند آواز سے «لا إله إلا الله والله أكبر.» کہا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ۔ پھر فرمایا ، ابوموسیٰ یا تو یوں ( فرمایا ) اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔ میں نے عرض کیا ، ضرور ارشاد فرمائیں ، فرمایا کہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وہی انسان کے ہر حال کا مالک اور مختار ہے۔
اس کلمہ میں اللہ پاک کی عظمت وشان کا بیان ایک خاص اندازا سے کیا گیا ہے۔
اسی لئے یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے اسے جو بھی پڑھے گا اور دل میں جگہ دے گا وہ یقیناجنتی ہوگا۔
جعلنا اللہ منهم (آمین)
(1)
یہ غزوۂ خیبر کا واقعہ ہے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے آہستہ آہستہ «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پڑھ رہا تھا تو آپ نے مذکورہ ارشاد فرمایا۔
(2)
واقعی اس کلمے میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان ایک خاص انداز سے بیان کی گئی ہے۔
اسے جنت کے خزانوں سے ایک خزانہ اس لیے کہا گیا ہے کہ اس کے پڑھنے سے آخرت میں بہت زیادہ منافع کی توقع ہے، گویا یہ کلمہ ہی بہت نفیس اور عمدہ خزانہ ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی ایک حدیث مروی ہے، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتاؤں جو عرش کے نیچے کا خزانہ ہے اور وہ «لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کلمہ کہنے والے میرے بندے نے میری اطاعت اختیار کر لی اور اس نے خود کو میرے حوالے کر دیا۔
‘‘ (المستدرك للحاکم: 71/1)
لہٰذا جو شخص بھی اللہ پاک پر ایسا پختہ عقیدہ رکھے گا وہ یقینا جنتی ہوگا۔
مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
دعا میں حد سے زیادہ چلانا بھی کوئی امر مستحسن نہیں ہے۔
﴿ ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
(1)
ایک روایت میں ہے کہ لوگ جب کسی اونچے ٹیلے پر چرھتے تو بآواز الله أكبر، الله أكبر لا إله إلا الله، کہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مذکورہ تنبیہ فرمائی۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4202)
اس سلسلے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم اپنے پروردگار کو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے پکارو۔
بےشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
‘‘ (الأعراف: 55/7) (2)
بہرحال اللہ تعالیٰ کو پکارتے وقت عجز و انکسار اور نیاز مندی کا اظہار ہونا چاہیے، حد سے زیادہ چِلانا اچھا امر نہیں ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تنبیہ فرمائی۔
واللہ أعلم
انہوں نے کہا یا رسول اللہ! جب ایسی محنت اور کوشش کرنے والا دوزخی ہے تو پھر ہمارا حال کیا ہونا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ یہ شخص دوزخی ہے اپنا نفاق چھپاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ ظاہری اعمال پر حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
جب تک اندرونی حالات کی درستگی نہ ہو۔
اللہ سب کو نفاق سے بچائے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا قول جو شبیب عن یونس کے طریق سے روایت کیا گیا ہے اصل یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ کے پاس اس وقت آئے تھے جب جنگ خیبر ختم ہو چکی تھی۔
اس لیے شبیب اور معمر کی روایت میں جو خیبر کا لفظ ہے اس میں شبہ رہتا ہے تو امام بخاری ؒ نے شبیب اور ابن مبارک کی روایتوں سے یہ ثابت کیا کہ ان میں بجائے خیبر کے حنین کا لفظ مذکور ہے۔
صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہاں خیبر کا لفظ مذکور ہے بعض نے کہا وہی صحیح ہے۔
1۔
اس حدیث سے ظاہر ہے کہ لوگوں کو اپنے اعمال پر غرور نہیں کرنا چاہیے اور کسی کے ظاہری حال سے اس کی آخرت کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
ظاہری اعمال پر حکم نہیں لگانا چاہیے جب تک اندرونی حالات کی درستی کاعلم نہ ہو۔
2۔
اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو کوئی خودکشی کرے اسے ضرور دوزخی کہا جائے گا بلکہ مراد یہ ہے کہ اس فعل کے سبب انسان سزا اور دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے یا مذکورہ گناہ کی سزا پاکر بالآخر وہ جنت میں پہنچ جائے جیسا کہ عام گناہ گار اہل ایمان کے ساتھ معاملہ ہوگا۔
3۔
طبرانی کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو دوزخی قراردیا تولوگوں کو بہت گراں گزرا، انھوں نے عرض کی: اللہ کے رسول ﷺ! جب ایسی محنت اور کوشش کرنے والا انسان دوزخی ہے تو پھر ہمارا کیا حال ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ’’بلاشبہ یہ دوزخی ہے اور اس نے اپنے نفاق کو چھپا رکھا تھا۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی: 296/1، 297)
4۔
اس حدیث میں جس آدمی کا ذکر ہوا ہے اس سے ملتا جلتا واقعہ آگے آنے والی حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت میں ہے۔
اس میں اختلاف ہے کہ دونوں واقعات ایک شخص سے متعلق ہیں یا الگ الگ۔
بعض شارحین نے ان واقعات کو الگ الگ قراردیا ہے کیونکہ حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت میں ہے کہ اس نے تلوار کی دھار پر سینہ رکھ کر خود کشی کی جبکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ اس نے تیر سے خود کو ہلاک کرڈالا، نیز سہل بن سعد ؓ کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعے کا علم ہواتو آپ نے بلال ؓ کو اعلان کرکے بھیجا جبکہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں خاتمے اور انجام کا بیان ہے۔
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق ایک ہی واقعے کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں، نیز ممکن ہے کہ اس نے پہلے تیر سے کوشش کی ہو، پھر اس کے لیے تلوار استعمال کی ہو۔
امام بخاری ؒ کا رجحان بھی یہی ہے کہ دونوں واقعات ایک ہیں اور ان میں مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 589/7)
واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ غائب نہیں ہے۔
اس کا یہ معنی ہے کہ وہ ہر جگہ ہر چیز کو ہر آواز کو دیکھ اور سن رہا ہے۔
آواز کیا چیز ہے وہ تو دلوں تک کی بات جانتا ہے۔
یہ جو کہا کرتے ہیں اللہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے اس کا بھی یہی معنی ہے کہ کوئی چیز اس کا علم اور سمع اور بصرہ سے پوشیدہ نہیں ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے جیسے جہمیہ ملاعنہ سمجھتے ہے کہ اللہ اپنی ذات قدسی صفات سے ہر مکان یا ہر جگہ میں موجود ہے‘ ذات مقدس تو اس کی بالائے عرش ہے مگر اس کا علم اور سمع اور بصر ہر جگہ ہے‘ حضور کا یہی معنی ہے۔
خود امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں اللہ آسمان پر ہے زمین میں نہیں ہے یعنی اس کی ذات مقدس بالائے آسمان اپنے عرش پر ہے اور دین کے کل اماموں کا یہی مذہب ہے جیسے اوپر بیان ہو چکا ہے۔
یہ کلمہ لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ عجب پر اثر کلمہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کلمے میں یہ اثر رکھا ہے کہ جو کوئی اس کو ہمیشہ پڑھا کرے وہ ہر شر سے محفوظ رہتا ہے۔
ہمارے پیرو مرشد حضرت مجدد کا ختم روزانہ یہی تھا کہ سو سو بار اول وآخر درود شریف پڑھتے اور پانچ سو مرتبہ لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اور دنیا اور آخرت کے تمام مہمات اور مقاصد حاصل ہونے کے لیے یہ بارہ کلمے میں نے تجربہ کئے ہیں جو کوئی ان کو ہر وقت جب فرصت ہو بلا قید عدد پڑھتا رہے ان شاءاللہ تعالیٰ اس کی کل مرادیں پوری ہوں گی۔
”سبحانَ اللہ وبحمدِہ سبحانَ اللہ العظیمِ۔
اَستغفرُ اللہ، لا اله الا اللہ لا حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ یا رافع یا مُعِز یاغنی یا حی یا قیوم برحمتك أِستغیثُ یا أرحمَ الراحمین لا إله الا انت سبحانكَ إني کنتُ مِنَ الظلمینَ حسبنا اللہ ونعم والوکیل نعم المولیٰ ونعم النصیر۔
ایسا ہوا کہ ایک ملحد بے دین شخص اہل حدیث اور اہل علم کا بڑا دشمن تھا اور اس قدر طاقت ور ہو گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔
ہر شخص کو خصوصاً دین داروں کو اس کے شر سے اپنی عزت وآبرو سنبھالنا دشوار ہو گیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انہی کلموں کے طفیل سے اس کا قلع قمع کر دیا اور اپنے بندوں کو راحت دی۔
جب اس کے فی النار والسقر ہونے کی خبر آئی تو دفعتاً یہ مادہ تاریخ دل میں گزرا: چونکہ بو جہل رفت ازدنیا گشتہ تاریخ او بما ذمہ رائے بیروں کن وبیگر حدیث مات فرعون ھذہ الامہ۔
1۔
اللہ تعالیٰ غائب نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر جگہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہرآواز کو سن رہا ہے۔
وہ اس قدر دور نہیں کہ اسے بآواز بلند پکارنے کی ضرورت پیش آئے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم!)
جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو (انھیں کہہ دو کہ)
میں قریب ہوں۔
پکارنے والی کی دعا قبول کرتا ہوں وہ جب بھی مجھے پکارے۔
‘‘ (البقرہ: 186)
آواز کیا چیز ہے وہ تو دل کی بات اور آنکھ کی خیانت کو جانتا ہے اسی لیے فرمایا: تم سب کچھ سننے والے دیکھنے والے اور انتہائی قریب رہنے والے کو پکارتے ہو۔
بندہ بھی ان صفات سے متصف ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’ہم نے اسے (انسان کو)
خوب سننے والا دیکھنے والا بنایا ہے۔
‘‘ (الدہر76۔
2)
لیکن بندے کے سمع اور بصر ناقص ہیں جو دور سے سن نہیں سکتا بلکہ قریب بھی اگر پردہ یا اوٹ حائل ہو تو اس کی سماعت و بصارت کام نہیں آتی لیکن اللہ تعالیٰ کامل پر ان صفات سے متصف ہے اس کی سمع سے کوئی حرکت فوت نہیں ہوتی خواہ وہ کتنی پوشیدہ ہو۔
وہ رات کے اندھیرے میں سفید پتھر پر چلنے والی چیونٹی کے قدموں کی آہٹ کو سنتا ہے بلکہ اس سے بھی مخفی چیزوں کو سنتا ہے۔
سانس کی آمدو رفت سے جو آواز پیدا ہوتی ہے وہ اسے بھی سنتا ہے جبکہ خود انسان اسے نہیں سن سکتا۔
اس کی بصر کائنات کی تمام حرکات و سکنات کو دیکھتی ہے۔
اتنا انسان کسی انسان کے قریب نہیں جتنا اللہ تعالیٰ اس کے قریب ہے: ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
’’ہم تو اس کی شاہ رگ (رگ جان)
سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
‘‘ (ق: 50۔
16)
2۔
واضح رہے کہ یہ قرب علم اور قدرت کے اعتبار سے ہے ورنہ ذات باری تعالیٰ مستوی علی العرش ہے۔
بعض جہلاء نے اس قسم کی آیات سے یہ فلسفہ کشید کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ بذات خود موجود ہے پھر انھوں نے وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود جیسی ناپاک اصطلاحات بنا ڈالیں۔
کچھ لوگوں نے ایک قدم آگے بڑھا دیا کہ حضرات ا نبیاء علیہم السلام خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بلکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہر جگہ موجود ہیں اور لوگوں نے اپنے پیروں اور مرشدوں کے ہر جگہ ہونے کی صراحت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ ان سب باتوں سے پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے کے متعلق ہم آئندہ تفصیل سے بحث کریں گے۔
3۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی مذکورہ صفات کے پیش نظر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فرمایا: تم اپنے آپ پر رحم کرو اور ترس کھاؤ۔
نعرہ تکبیرکہتے وقت اپنی آوازوں کو اس قدر اونچا کرنے کا تکلف نہ کرو۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جس ذات کی تم کبریائی اورتسبیح بیان کرتے ہو وہ سمیع اور بصیرہے۔
وہ اللہ پوشیدہ آواز کو بھی اسی طرح سنتا ہے جس طرح اونچی آواز کو سنتا ہے اور مخفی اشیاء کو اس طرح دیکھتا ہے جس طرح سر عام پڑی چیز کو دیکھتا ہے۔
اس پر زمین و آسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 191/1)
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے جب ہم لوٹے اور ہمیں مدینہ دکھائی دینے لگا تو لوگوں نے تکبیر کہی اور بلند آواز سے تکبیر کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا رب بہرہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ غائب و غیر حاضر ہے، وہ تمہارے درمیان موجود ہے، وہ تمہارے کجاؤں اور سواریوں کے درمیان (یعنی بہت قریب) ہے پھر آپ نے فرمایا: ” عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ «لا حول ولا قوة إلا بالله» (جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3374]
وضاحت:
1؎:
یعنی: جو اس کلمے کا ورد کرے گا وہ جنت کے خزانوں میں ایک خزانے کا مالک ہو جائے گا، کیونکہ اس کلمے کا مطلب ہے ’’برائی سے پھرنے اور نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں‘‘۔
جب بندہ اس کا بار باراظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بے انتہا خوش ہوتا ہے، بندے کی طرف سے اس طرح کی عاجزی کا اظہار تو عبادت حاصل ہے۔
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «لا حول ولا قوة إلا بالله» ” گناہوں سے دوری اور عبادات و طاعت کی قوت صرف اللہ رب العزت کی طرف سے ہے “ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ” عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں وہ کلمہ نہ بتلاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک حزانہ ہے “؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3824]
فوائد و مسائل: (1)
یہ جملہ اللہ کے ذکر میں اہم جملہ ہےکیو نکہ اس میں اس بات کا اقرار ہےکہ ہر قوت کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے۔
(2)
اس میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد و توکل کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے عاجزی اورمسکینی کا اظہار ہے، اور عبودیت کا یہ اظہار اللہ تعالٰی کو پسند ہے۔
(3)
نیکی کا کام انجام دے کر یا گناہ سے اجتناب کر کے دل میں فخر کے جذبات پیدا ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘ کی کیفیت پیش آ سکتی ہے، اس سے بچاؤ کے لیے اس بات کی یاد دہانی کی ضرورت ہے کہ یہ سب میری کوشش اور بہادری سے نہیں بلکہ محض اللہ کی توفیق اور اس کے احسان سے ہے۔
(4)
اس سوچ کے ساتھ یہ الفاظ پڑھنے سےیقینا جنت کی عظیم نعمتیں اور بلند درجات حاصل ہوں گے، اس لیے اسے ’’جنت کا خزانہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
(5)
اللہ کا ذکر سری طور پر کرنا بہتر ہے کیونکہ اس میں ریا کاری نہیں ہوتی، البتہ جن مقامات پر ذکر بلند آواز کرنا مسنون ہے، وہاں بلند آواز ہی سے کرنا چاہیے۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہو کر کہا ’’ اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تجھے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ جو یہ ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہ برائی سے منہ موڑنا اور نیکی پر زور سوائے اللہ کی مدد کے ممکن نہیں ہے۔ “ (بخاری و مسلم) اور نسائی میں اتنا اضافہ ہے «ولا ملجأ من الله إلا إليه» کہ ’’ اللہ کے سوا کہیں پناہ نہیں۔ “ «بلوغ المرام/حدیث: 1341»
«أخرجه البخاري، الدعوات، باب الدعاء إذا علا عقبة، حديث:6384، ومسلم، الذكر والدعاء، باب استحباب خفض الصوت بالذكر...، حديث:2704، والنسائي في الكبرٰي:6 /97، حديث:10190.»
تشریح: اس حدیث میں بھی لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کی فضیلت کا بیان ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ چیز جس قدر نفیس اور قیمتی ہوتی ہے اس کی حفاظت اور دیکھ بھال بھی اسی طرح بہت اہتمام سے کی جاتی ہے۔
اسے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
اور یہ کلمات تو جنت کا خزانہ ہیں‘ اس لیے ان کی بھی محافظت کرنی چاہیے اور انھیں کثرت سے پڑھنا چاہیے۔