صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں دعا کرنا کہ ”اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے سب گناہ بخش دے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ : " رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي ، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ ، وَعَمْدِي ، وَجَهْلِي ، وَهَزْلِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ ، وَمَا أَخَّرْتُ ، وَمَا أَسْرَرْتُ ، وَمَا أَعْلَنْتُ ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن صباح نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے ابن ابی موسیٰ نے ، ان سے ان کے والد نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے «رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله ، وما أنت أعلم به مني ، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي ، وكل ذلك عندي ، اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت ، أنت المقدم ، وأنت المؤخر ، وأنت على كل شىء قدير» ” میرے رب ! میری خطا ، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے ۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر ، میری خطاؤں میں ، میرے بالا ارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں ۔ اے اللہ ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کر چکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے ، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ “ اور عبیداللہ بن معاذ ( جو امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں ) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منبری رحمۃ اللہ علیہ اپنی مکاتیب میں فرماتے ہیں وہ پاک پروردگار ایسا مستغنی اور بے پرواہ ہے کہ اگر چاہے تو ہر روز حضرت ابراہیم اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح لاکھوں آدمیوں کو پیدا کر دے اور اگر چاہے تو دم بھر میں جتنے مقرب بندے ہیں ان سب کو راندئہ درگاہ بنا دے۔
جل جلالہ۔
یہاں مشیت کا ذکر ہو رہا ہے، مشیت اور چیز ہے اورقانون اورچیز ہے۔
قوانین الٰہی کے بارے میں صاف ارشاد ہے۔
﴿فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا﴾ (فاطر: 43)
صدق اللہ تبارك وتعالیٰ۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ''امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود پر فائز کرے۔
'' (بنی اسرائیل: 79)
نیز فرمایا: ''آپ کی آخرت، اس دنیا سے کہیں بلند مرتبہ ہو گی اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر نوازے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے۔
'' (الضحیٰ 4-
5)
چونکہ دعا ایک عبادت بلکہ روح عبادت ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی دعائیں مانگی ہیں۔
پھر آپ نے اظہار عبادیت یا امت کو تعلیم دینے کے لیے مذکورہ دعائیں کی ہیں۔
یہ دعائیں اس بنا پر نہیں ہیں کہ واقعی آپ گناہ گار یا خطا کار تھے۔
بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گناہوں سے معصوم اور نافرمانی سے مبرا تھے جیسا کہ خود قرآن کریم نے اس کی صراحت کی ہے۔
(الفتح: 9) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں دوران نماز میں سلام سے پہلے پڑھتے تھے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے بعد پڑھتے تھے۔
ان روایات کے پیش نظر اس امر کا قوی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام سے پہلے اور بعد دونوں مواقع پر یہ دعائیں پڑھتے ہوں۔
(فتح الباري: 236/11)
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرمایا کرتے تھے «اللهم اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري وما أنت أعلم به مني اللهم اغفر لي جدي وهزلي وخطئي وعمدي وكل ذلك عندي اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت أعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر وأنت على كل شيء قدير» ’’ الٰہی! میری خطا معاف فرما دے۔ نیز میری نادانی و جہالت کے کاموں کو بخش دے۔ میرے کام میں مجھ سے جو زیادتیاں سرزد ہوئیں ان کو بھی اور جو کچھ میرے بارے میں تیرے علم میں ہے ان سب کو بھی معاف فرما دے۔ اے اللہ! مجھ سے ارادۃ یا غیر ارادی طور پر جو کچھ صادر ہوا اس کی مغفرت فرما دے۔ خواہ وہ میرے لغزش ہو یا ارادے سے ہو یہ سب میرے ہی جانب سے ہوا ہے۔ اے اللہ! جو کچھ میں کر چکا ہوں یا جو آئندہ کروں گا اور جو میرا پوشیدہ ہے یا جو مجھ سے ظاہر ہوا ہے اور جو کچھ بھی میرے متعلق تیرے علم میں ہے وہ سب بخش دے۔ تو ہی پہلے ہے اور تو ہی بعد میں اور تو ہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “ (بخاری و مسلم)۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) «بلوغ المرام/حدیث: 1354»
«أخرجه البخاري، الدعوات، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: ((اللّٰهم! اغفرلي...))، حديث:6398، ومسلم، الذكر والدعاء، باب التعوذ من شر ما عمل...، حديث:2719.»
تشریح: 1.اس قسم کی جتنی دعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں یہ آپ نے امتثال امر کے لیے مانگی ہیں کیونکہ آپ تو معصوم عن الخطا تھے‘ یا امت کو تعلیم دینے کی غرض سے مانگی ہیں۔
2.بعض روایات میں ہے کہ یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشہد کے آخر میں پڑھتے اور بعض میں ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد۔
عین ممکن ہے کہ دونوں طرح آپ نے یہ دعا پڑھی ہو‘ کبھی سلام سے پہلے کبھی سلام کے بعد۔