صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ التَّعَوُّذِ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا: باب: دنیا کے فتنوں سے پناہ مانگنا۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ ، : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ " .´ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیدہ بن حمید نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے لکھنا سکھاتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من البخل ، وأعوذ بك من الجبن ، وأعوذ بك أن نرد إلى أرذل العمر ، وأعوذ بك من فتنة الدنيا ، وعذاب القبر".» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ہر دعا کے معانی ومطالب ومقاصد سمجھنے کی ضرورت ہے۔
طوطے کی رٹ نہ ہونی چاہئے۔
یہی فلسفہ دعا ہے۔
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ نے قبل ازیں ضمنی طور پر فتنۂ دنیا سے پناہ کے لیے ایک عنوان قائم کیا تھا: (باب الاستعاذة من أرذل العمر، ومن فتنة الدنيا، ومن فتنة النار)
''ناکارہ عمر، دنیا کی آزمائش اور فتنۂ جہنم سے پناہ مانگنا'' (صحیح البخاري، الدعوات، باب: 44)
لیکن فتنۂ دنیا بہت ہمہ گیر، گھمبیر اور سنگین ہے، اس لیے مستقل طور پر اس کے متعلق عنوان قائم کیا ہے۔
(2)
یہ دعا بہت اہم ہے۔
اس میں ذکر کردہ کمزوریوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کی جائے۔
اس کے معانی و مطالب پر خوب غور کیا جائے، پھر نہایت خلوص اور انہماک سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کی جائے۔
طوطے کی طرح اسے رٹ لینے سے کام نہیں چلے گا۔
واللہ المستعان
بزدلی سے اس لیے پناہ مانگی جاتی ہے کہ یہ آخرت کے عذاب کا سبب بنتی ہے کیونکہ بزدلی کے باعث انسان جہاد سے راہ فرار اختیار کرے گا تو اللہ کی طرف سے سخت سزا کا حق دار ہو گا کیونکہ جو کوئی جہاد سے جی چراتا ہے وہ اللہ کے غضب کا حق دار ہےبعض اوقات ایسا نسان دین اسلام سے بھی پھر جاتا ہے اس لیے انسان کو بزدلی سے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے۔
(عمدة القاري: 134/10)
(1)
اپنی کمائی سے دوسروں پر خرچ کرنا سخاوت اور دوسروں پر خرچ نہ کرنا بخل کہلاتا ہے۔
بخل اور کنجوسی بہت گھٹیا حرکت ہے جبکہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’تم دوسروں پر خرچ کرتے رہو میں تم پر خرچ کرتا رہوں گا۔
‘‘ (صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4684)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخاوت کرنے والے تھے اور آپ کسی سائل کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرتے تھے۔
(2)
بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل سے پناہ مانگی ہے اور اس بری خصلت سے دور رہنے کی امت کو تلقین کی ہے۔
واللہ المستعان
(1)
دنیا و آخرت کا کوئی شر، کوئی فساد، کوئی فتنہ اور کوئی آفت ایسی نہیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ مانگی ہو اور امت کو ان سے پناہ مانگنے کی تلقین نہ کی ہو بلکہ اس حدیث کے مطابق تو آپ نے مطلق طور پر فتنۂ دنیا سے پناہ طلب کی ہے جس میں دنیا کے تمام شر، فساد، تکلیفیں اور پریشانیاں آ جاتی ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا ان الفاظ میں منقول ہے: ''اے اللہ! میری دنیا درست فرما دے جس سے مجھے یہ زندگی گزارنا ہے۔
'' (سنن النسائي، السھو، حدیث: 1347)
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے رزق کی تمام ضروریات حلال اور جائز ذرائع سے پوری ہوتی رہیں۔
(2)
دنیا کا سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ انسان جسم اور روح کا تعلق برقرار رکھنے کے لیے ناجائز ذرائع کا سہارا لے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے تمام دنیاوی فتنوں سے پناہ طلب کی ہے۔
مصعب بن سعد اور عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اپنے بیٹوں کو یہ کلمے ایسے ہی سکھاتے تھے جیسا کہ چھوٹے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے والا معلم سکھاتا ہے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ذریعہ ہر نماز کے اخیر میں اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (وہ کلمے یہ تھے): «اللهم إني أعوذ بك من الجبن وأعوذ بك من البخل وأعوذ بك من أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وعذاب القبر» ” اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3567]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں بزدلی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں کنجوسی سے، اے اللہ! میں تیری پناہ لیتا ہوں ذلیل ترین عمر سے (یعنی اس بڑھاپے سے جس میں عقل و ہوس کچھ نہ رہ جائے) اور پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے۔
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، تو مقام جمع میں انہیں کہتے ہوئے سنا: سنو! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے، فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل والجبن وأعوذ بك من سوء العمر وأعوذ بك من فتنة الصدر وأعوذ بك من عذاب القبر» ” اے اللہ! میں بخیلی و کنجوسی اور کم ہمتی و بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بری (لاچاری کی) عمر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، سینے (دل) کے فتنے سے تیری پناہ م [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5499]
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والهرم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات» ” اے اللہ! میں عاجزی، سستی و کاہلی، بخیلی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5450]