صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ التَّعَوُّذِ مِنَ الْفِتَنِ: باب: فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگنا۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَحْفَوْهُ الْمَسْأَلَةَ ، فَغَضِبَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَقَالَ : " لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَكُمْ " ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَإِذَا كُلُّ رَجُلٍ لَافٌّ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ يَبْكِي ، فَإِذَا رَجُلٌ كَانَ إِذَا لَاحَى الرِّجَالَ يُدْعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : حُذَافَةُ ، ثُمَّ أَنْشَأَ عُمَرُ ، فَقَالَ : رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا رَأَيْتُ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، إِنَّهُ صُوِّرَتْ لِي الْجَنَّةُ وَالنَّارُ حَتَّى رَأَيْتُهُمَا وَرَاءَ الْحَائِطِ " ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَذْكُرُ عِنْدَ هَذَا الْحَدِيثِ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 .´ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ` صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کئے اور جب بہت زیادہ کئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو بات پوچھو گے میں بتاؤں گا ۔ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ سر اپنے کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے ، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف ( طعنہ کے طور پر ) منسوب کیا جاتا تھا ۔ انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میرے باپ کون ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حذافہ ۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا ہم اللہ سے راضی ہیں کہ ہمارا رب ہے ، اسلام سے کہ وہ دین ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں ، ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آج کی طرح خیر و شر کے معاملہ میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا ، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا ۔ قتادہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت ( سورۃ المائدہ کی ) اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ” اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے متعلق نہ سوال کرو کہ اگر تمہارے سامنے ان کا جواب ظاہر ہو جائے تو تم کو برا لگے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ صحیح فیصلہ کرنے میں حائل نہیں ہوتا تھا کیونکہ آپ کی زبان حق ترجمان سے ہر حال میں حق ہی ظاہر ہوتا تھا جبکہ دوسرے لوگ غصے کی حالت میں صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
(2)
اس حدیث سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بھی پتا چلتا ہے، انہیں عقل و بصیرت سے پتا چلا کہ کثرت سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچتی ہے۔
واللہ أعلم
اس لیے احتیاطاً بیجا سوال کرنے سے منع کیا گیا۔
آپ کو اللہ پاک وحی کے ذریعہ سے آگاہ کر دیتا تھا۔
یہ کوئی غیب دانی کی بات نہیں بلکہ محض اللہ کا عطیہ ہے جو وہ اپنے رسولوں نبیوں کو بخشتا ہے (قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللّـٰهُ ۚ الخ)
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس عنوان کے تحت جو احادیث ذکر کی ہیں، ان کے پیش نظر تین مقاصد ہیں:۔
کثرت سوالات کی ممانعت بیان کرنا۔
۔
لا یعنی اور بے فائدہ تکلفات سے بچنا۔
۔
سورۃ المائدۃ کی آیت: 101 کا پس منظر بیان کرنا۔
ان دونوں احادیث میں آیت کریمہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔
جس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے ٹھکانے کے متعلق سوال کیا تھا وہ منافقین میں سے تھا۔
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے ہولناک واقعات کے رونما ہونے کا ذکر کیا تھا، اس لیے انصار پر خوف طاری ہوا اور وہ بہت روئے۔
2۔
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سوال کو بھی اچھا خیال نہیں کیا گیا کیونکہ خدانخواستہ اگر کسی کا باپ صحیح نہ ہو اور سوال کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حقیقت کو ظاہر کر دیں تو سوال کرنے والے کی کس قدر رسوائی ہوتی، اس لیے بے جا قسم کے سوالات پوچھنے سے منع کر دیا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب دان نہیں تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کےذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا جاتا تھا۔
دعوائے غیب دانی کی نفی خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے۔
«. . . أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُذَافَةَ، فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: أَبُوكَ حُذَافَةُ، ثُمَّ أَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي، فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا"، فَسَكَتَ . . .»
”. . . (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حذافہ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باربار فرمایا کہ مجھ سے پوچھو، تو عمر رضی اللہ عنہ نے دو زانو ہو کر عرض کیا کہ ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں (اور یہ جملہ) تین مرتبہ (دہرایا) پھر (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ: 93]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عرض کرنے کی منشا یہ تھی کہ اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر اب ہمیں مزید کچھ سوالات پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ لوگ عبداللہ بن حذافہ کو کسی اور کا بیٹا کہا کرتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے آپ سے اپنی تشفی حاصل کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دو زانو ہو کر بیٹھنے سے ترجمہ باب نکلا اور ثابت ہوا کہ شاگرد کو استاد کا ادب ہمہ وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہے کیونکہ باادب بانصیب بے ادب بے نصیب، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مؤدبانہ بیان سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ جاتا رہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔
1۔
حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بعض لوگ کسی اور کا بیٹا کہا کرتے تھے، اس لیے انہوں نے تسلی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقت حال کی وضاحت فرمادی۔
اس طرح مجلس میں بہت سے بے تکے سوالات ہوئے جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ بڑھنا شروع ہوگیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے دو چیزیں اختیار کیں۔
ایک کا تعلق قول سے ہے اور دوسری کافعل سے: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ کی ربوبیت، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور اسلام کی حقانیت کا اقرار کیا اور عملاً یہ کیا کہ دوزانو بیٹھنے کی نشست اختیار فرمائی تاکہ اس عاجزانہ اورمؤدبانہ طریقے سے آپ کا غصہ فرو ہو۔
اس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔
2۔
دوزانو بیٹھنا تشہد بیٹھنے کی کیفیت ہے۔
شاید کوئی غیر نماز میں اس طرح بیٹھنے کو ناجائز کہہ دے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ اس طرح بیٹھنا نہ صرف جائز بلکہ پسندیدہ بھی ہے کیونکہ اس میں تواضع ہے، نیز اس طرح بیٹھنا استاد کی توجہات کو بھی کھینچتا ہے، اس لیے تعلیم حاصل کرنے کے لیے یہی نشست موزوں اور مناسب ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شاگرد کو اپنے استاد کا احترام ہمہ وقت ملحوظ رکھنا چاہیے کیونکہ مشہور مقولہ ہے: (با ادب بانصیب، بے ادب بے نصیب)
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے ۱؎ آپ نے فرمایا: ” تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں: پھر یہ آیت نازل ہوئی: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ” اے ایمان والو! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کر دی جائیں تو تم کو برا لگے۔“ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3056]
وضاحت:
1؎:
یہ عبداللہ بن حذافہ سہمی ہیں، سوال اس لیے کرنا پڑا کہ لوگ انہیں غیر باپ کی طرف منسوب کر رہے تھے۔