حدیث نمبر: 6353
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُقَيْلٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ بِهِ جَدُّهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامٍ مِنَ السُّوقِ ، أَوْ إِلَى السُّوقِ ، فَيَشْتَرِي الطَّعَامَ ، فَيَلْقَاهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عُمَرَ ، فَيَقُولَانِ : أَشْرِكْنَا فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ ، فَيُشْرِكُهُمْ فَرُبَّمَا أَصَابَ الرَّاحِلَةَ كَمَا هِيَ ، فَيَبْعَثُ بِهَا إِلَى الْمَنْزِلِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابوعقیل ( زہرہ بن معبد ) نے کہ` انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ساتھ لے کر بازار سے نکلتے یا بازار جاتے اور کھانے کی کوئی چیز خریدتے ، پھر اگر عبداللہ بن زبیر یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ان سے ملاقات ہو جاتی تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس میں شریک کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے برکت کی دعا فرمائی تھی ۔ بعض دفعہ تو ایک اونٹ کے بوجھ کا پورا غلہ نفع میں آ جاتا اور وہ اسے گھر بھیج دیتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6353
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6353. حضرت ابو عقیل سے روایت ہے کہ ان کے دادا حضرت عبداللہ بن ہشام ؓ انہیں بازار لے جاتے اور غلہ خریدتے ان سے حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ملتے تو انہیں کہتے: ہمیں بھی (اپنے ساتھ تجارت میں) شریک کر لیں کیونکہ نبی ﷺ نے آپ کے لیے برکت کی دعا کی تھی، چنانچہ وہ انہیں تجارت کے مال میں شریک کر لیتے تو بسا اوقات انہیں سواری کا بوجھ غلہ نفع ہو جاتا اور وہ اسے اپنے گھر بھیج دیتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6353]
حدیث حاشیہ: ابو عقیل زہرہ بن معبد کے حق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا ئے برکت فرمائی تھی اسی کا یہ ثمرہ تھا جو یہاں بیان ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6353 سے ماخوذ ہے۔