حدیث نمبر: 6350
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَبَّابًا وَقَدِ اكْتَوَى سَبْعًا فِي بَطْنِهِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْعُوَ بِالْمَوْتِ لَدَعَوْتُ بِهِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، کہا کہ` میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوا رکھے تھے ، میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی ضرور دعا کر لیتا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الدعوات / حدیث: 6350
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6350. حضرت قیس ؓ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا: حضرت خباب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوا رکھے تھے میں نے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر نبی ﷺ نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو آج میں ضرور اس کی دعا کرتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6350]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اس وقت سخت تکلیف میں مبتلا تھے۔
شدت تکلیف کی وجہ سے انہوں نے ایسا فرمایا۔
بہرحال موت کی دعا کرنا منع ہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے ایسی لمبی عمر کی دعا کرنی چاہیے جس سے سعادت دارین حاصل ہو۔
یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن لمبی عمر والے نیک حضرات درجات کے اعتبار سے شہداء سے آگے ہوں گے۔
(2)
موت کی دعا کرنا اس لیے منع ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا پہلو نکلتا ہے بلکہ قضا و قدر سے تنگی کا اظہار ہے جو ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
اگر دین و ایمان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو موت کی تمنا کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ آئندہ حدیث سے معلوم ہو گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6350 سے ماخوذ ہے۔