صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ، فَإِنَّهُ لاَ مُكْرِهَ لَهُ: باب: اللہ پاک سے اپنا مقصد قطعی طور سے مانگے اس لیے کہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 6338
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلْيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، وَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِنِي ، فَإِنَّهُ لَا مُسْتَكْرِهَ لَهُ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالعزیز بن صہیب نے خبر دی ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7464 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7464. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم اللہ سے دعا کرو تو عزم کے ساتھ کرو۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اگر تو چاہے تو مجھے عطا کر دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔" [صحيح بخاري، حديث نمبر:7464]
حدیث حاشیہ: دعا پورے وثوق اور بھروسے کے ساتھ ہونی ضروری ہے۔
اس عقیدہ کےساتھ کہ اللہ تعالیٰ ضرور وہ دعا قبول کرے گا۔
جلدی یا تاخیر ممکن ہے مگر دعا ضرور رنگ لا کر رہےگی جیسا کہ روز مرہ کے مجربات ہیں۔
اس عقیدہ کےساتھ کہ اللہ تعالیٰ ضرور وہ دعا قبول کرے گا۔
جلدی یا تاخیر ممکن ہے مگر دعا ضرور رنگ لا کر رہےگی جیسا کہ روز مرہ کے مجربات ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7464 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7464 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7464. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تم اللہ سے دعا کرو تو عزم کے ساتھ کرو۔ اور تم میں سے کوئی یوں نہ کہے: اگر تو چاہے تو مجھے عطا کر دے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا۔" [صحيح بخاري، حديث نمبر:7464]
حدیث حاشیہ:
بندہ مسلم کو چاہیے کہ وہ دعا پورے وثوق اور یقین سے مانگے۔
اس عقیدے کے ساتھ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول کرے گا۔
جلدی یا دیر ممکن ہے لیکن اندھیر نہیں دعا اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔
دعا کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلق نہ کیا جائے۔
یعنی یوں نہ کہا جائے کہ اگر تو چاہتا ہے تو قبول کر لے۔
ایسا کرنے سے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ مشیت کے بغیر اس کا عطا کرنا ممکن ہے حالانکہ مشیت کے بغیر تو جبر ہی ہے اور اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر نہیں کر سکتا۔
مشیت کا استعمال وہاں ہوتا ہے جسے کسی کام پر مجبور کیا جا سکتا ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا کرتے وقت یوں نہ کہا جائے اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما دے۔
انسان کو چاہیے کہ پورے عزم وثوق کے ساتھ دعا کرے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
اسے کوئی بھی کسی کام پر مجبور نہیں کر سکتا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6813۔
(2679)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح کی مشروط دعا اس لیے نا پسند ہے کہ اس میں دعا کرنے والے کی اپنی مطلوبہ چیز بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے بے پروائی کی بو آتی ہے۔
(فتح الباري: 557/13)
بندہ مسلم کو چاہیے کہ وہ دعا پورے وثوق اور یقین سے مانگے۔
اس عقیدے کے ساتھ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے ضرور قبول کرے گا۔
جلدی یا دیر ممکن ہے لیکن اندھیر نہیں دعا اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے۔
دعا کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے معلق نہ کیا جائے۔
یعنی یوں نہ کہا جائے کہ اگر تو چاہتا ہے تو قبول کر لے۔
ایسا کرنے سے یہ وہم ہو سکتا ہے کہ مشیت کے بغیر اس کا عطا کرنا ممکن ہے حالانکہ مشیت کے بغیر تو جبر ہی ہے اور اللہ تعالیٰ پر کوئی جبر نہیں کر سکتا۔
مشیت کا استعمال وہاں ہوتا ہے جسے کسی کام پر مجبور کیا جا سکتا ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔
حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا کرتے وقت یوں نہ کہا جائے اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کر دے اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما دے۔
انسان کو چاہیے کہ پورے عزم وثوق کے ساتھ دعا کرے اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
اسے کوئی بھی کسی کام پر مجبور نہیں کر سکتا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 6813۔
(2679)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرح کی مشروط دعا اس لیے نا پسند ہے کہ اس میں دعا کرنے والے کی اپنی مطلوبہ چیز بلکہ خود اللہ تعالیٰ سے بے پروائی کی بو آتی ہے۔
(فتح الباري: 557/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7464 سے ماخوذ ہے۔