صحيح البخاري
كتاب الدعوات— کتاب: دعاؤں کے بیان میں
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا نَامَ: باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھنی چاہئے۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ : بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا قَامَ قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .´ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹتے تو یہ کہتے «باسمك أموت وأحيا» ” تیرے ہی نام کے ساتھ میں مردہ اور زندہ رہتا ہوں “ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ” اسی اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے ہمیں زندہ کیا ۔ اس کے بعد کہ اس نے موت طاری کر دی تھی اور اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ “ قرآن شریف میں جو لفظ «ننشرها» ہے اس کا بھی یہی معنی ہے کہ ہم اس کو نکال کر اٹھاتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
بدن سے روح کا تعلق ختم ہونے کا نام موت ہے۔
یہ انقطاع کبھی صرف ظاہری طور پر ہوتا ہے جیسا کہ نیند کی حالت، اسی مناسبت کی وجہ سے نیند کوموت کا ساتھی کہا جاتا ہے اور کبھی یہ انقطاع ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے ہوتا ہے، یہ معروف موت ہے۔
مذکورہ حدیث میں موت کا اطلاق نیند کی حالت پر کیا گیا ہے۔
(فتح الباري: 137/11) (2)
حدیث کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے نشور کی مناسبت سے قرآن کریم کے ایک لفظ کی لغوی تشریح کی ہے۔