صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبِنَاءِ: باب: عمارت بنانا کیسا ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : " وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ ، وَلَا غَرَسْتُ نَخْلَةً مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : فَذَكَرْتُهُ لِبَعْضِ أَهْلِهِ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ بَنَى ، قَالَ سُفْيَانُ : قُلْتُ : فَلَعَلَّهُ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوسفیان ثوری نے ، ان سے عمرو بن نشار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ` واللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نہ میں نے کوئی اینٹ کسی اینٹ پر رکھی اور نہ کوئی باغ لگایا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ جب میں نے اس کا ذکر ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بعض گھرانوں کے سامنے کیا تو انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم انہوں نے گھر بنایا تھا ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے کہا پھر یہ بات ابن عمر رضی اللہ عنہما نے گھر بنانے سے پہلے کہی ہو گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ضرورت سے زیادہ مکان بنانا وبال جان ہے جیسا کہ آج کل لوگوں نے عمارات مشید ہ بنابنا کر کھڑی کر دی ہیں۔
باغ لگانا افادہ کے لئے بہتر ہے۔
(1)
ہر قسم کی تعمیر اور باغبانی قابل مذمت نہیں بلکہ حدیث میں ایسی فضول تعمیرات کا باعث وبال ہونا بیان کیا گیا ہے جو ضرورت کے علاوہ محض فخروریا کے لیے ہوں جیسا کہ آج کل لوگوں نے بڑی بڑی اور اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کر رکھی ہیں۔
باغات کا بھی یہی حال ہے، البتہ وہ عمارتیں یا باغ جو کسی فائدے کے لیے ہو وہ باعث اجرو ثواب ہوگا۔
(2)
واضح رہے کہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ کی بیان کردہ تطبیق وتوجیہ بالکل مناسب معلوم ہوتی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہماکی مذکورہ بات گھر بنانے سے پہلے کی ہے، بعد میں انھوں نے اپنا گھر بنایا جیسا کہ خود ان کے اہل خانہ کا بیان ہے۔
واللہ أعلم و علمه أتم