حدیث نمبر: 6285
حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ ، قَالَتْ : إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي ، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا : عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي . قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، قَالَتْ : أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ ، " فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، قَالَتْ : فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ ، قَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح نے ، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے ، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` یہ تمام ازواج مطہرات ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں ، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں ۔ اللہ کی قسم ! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی ( بلکہ بہت ہی مشابہ تھی ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا ۔ فرمایا بیٹی ! مرحبا ! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا ۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں ۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ۔ پھر آپ رونے لگیں ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی ۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ” جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے ، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں “ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی ، فرمایا ” فاطمہ بیٹی ! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی ، یا ( فرمایا کہ ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6285
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3624 | صحيح مسلم: 2450

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6285. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات آپ کے پاس تھیں ہم میں ایک بھی غائب نہ تھی۔ اس دوران میں سیدہ فاطمہ ؓ چلتی ہوئیں آئیں اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے الگ نہ تھی۔ جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: میری لخت جگر! خوش آمدید پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں بٹھایا، اس کے بعد ان سے آہستہ کچھ کہا تو وہ بہت روئیں۔ جب رسول اللہ نے ان کا حزن وملال دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان (سیدہ فاطمہ ؓ) سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ہے پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ ﷺ اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ ﷺ نے آپ کے کان میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز افشا نہیں کروں گی۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6285]
حدیث حاشیہ: سرگوشی سے اس لئے منع فرمایا کہ کسی تیسرے آدمی کو سوء ظن نہ پیدا ہو اگر مجلس میں اس خطرے کا احتمال نہ ہو تو سرگوشی جائز بھی ہے جیسا کہ حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سرگوشی کرنا مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6285 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6285. سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی ﷺ کی تمام ازواج مطہرات آپ کے پاس تھیں ہم میں ایک بھی غائب نہ تھی۔ اس دوران میں سیدہ فاطمہ ؓ چلتی ہوئیں آئیں اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال سے الگ نہ تھی۔ جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: میری لخت جگر! خوش آمدید پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں بٹھایا، اس کے بعد ان سے آہستہ کچھ کہا تو وہ بہت روئیں۔ جب رسول اللہ نے ان کا حزن وملال دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی، اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان (سیدہ فاطمہ ؓ) سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی ہے پھر آپ رونے لگیں۔ جب رسول اللہ ﷺ اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا: آپ ﷺ نے آپ کے کان میں کیا فرمایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز افشا نہیں کروں گی۔ پھر جب آپ کی وفات ہوگئی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6285]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دوسری مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے سرگوشی کی تو فرمایا: ’’میرے اہل بیت میں سے تم سب سے پہلے مجھے ملوگی۔
اس پر وہ ہنس پڑیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4433)
اس حدیث سے امام بخاری رحمہ اللہ نے عنوان کے دونوں جز ثابت کیے ہیں۔
ایک تو یہ ہے کہ جماعت کے سامنے سرگوشی کرنا جائز ہے، دوسرا یہ کہ زندگی تک تو راز کو پوشیدہ رکھنا چاہیے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
یہ دونوں باتیں اس حدیث سے ثابت ہوتی ہیں۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6285 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3624 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3624. حضرت فاطمہ ؓنے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے پوشیدہ گفتگو یہ کی تھی: ’’حضرت جبریل ؑ ہر سال میرے ساتھ ایک مرتبہ قرآن مجید کا دور کرتے تھے، البتہ اس سال دو مرتبہ دور کیا ہے۔ میرے خیال کے مطابق میری موت قریب آچکی ہے۔ اور یقیناً تم میرے گھر والوں میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملاقات کرو گی۔‘‘ تو میں رونے لگی۔ پھر آپ نے فرمایا: ’’کیا تمھیں پسند نہیں کہ تم جنت کی عورتوں یا اہل ایمان عورتوں کی سردار ہو۔‘‘ اس وجہ سے میں ہنس پڑی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3624]
حدیث حاشیہ: دوسری روایتوں میں یوں ہے کہ پہلے آپ نے یہ فرمایا کہ میری وفات نزدیک ہے تو حضرت فاطمہ ؓ رونے لگیں پھر یہ فرمایا کہ تم سب سے پہلے مجھ سے ملوگی تو وہ ہنسنے لگیں، اس حدیث سے حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
فی الواقع آپ آنحضرت ﷺ کی لخت جگر، نور نظر ہیں اس لیے ہرفضیلت کی اولین حقدار ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3624 سے ماخوذ ہے۔