صحيح البخاري
كتاب الاستئذان— کتاب: اجازت لینے کے بیان میں
بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَقَالَ عِنْدَهُمْ: باب: اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ : مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ " ، شَكَّ إِسْحَاقُ ، قُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ " ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ " ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے ، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے ۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے ( خواب میں ) پیش کئے گئے ، جو اس سمندر کے اوپر ( کشتیوں میں ) سوار ہوں گے ( جنت میں وہ ایسے نظر آئے ) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں ، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر ۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا ( ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر ۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں ) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
پہلی روایت میں آپ کے خوشبودار پسینے کا ذکر ہے صد بار قابل تعریف ہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ جن کو یہ بہترین خوشبو نصیب ہوئی۔
دوسری روایت میں حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا کے متعلق ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حرف بہ حرف صحیح ہوئی۔
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا اس جنگ میں واپسی کے وقت اپنی سواری سے گر کر شہید ہو گئی تھیں۔
اس طرح پیش گوئی پوری ہوئی۔
اس سے سمندری سفر کا جائز ہونا بھی ثابت ہوا، پر آج کل تو سمندری سفر بہت ضروری اور آسان بھی ہوگیا ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے۔
(1)
اس حدیث میں بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے تو وہیں قیلولہ فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود اس حدیث کے بیان کرنے سے ہی ہے۔
(2)
حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔
ہجرت کے بیسویں سال حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ایک لشکر کے ساتھ نکل گئیں تو سمندر سے باہر نکلتے وقت سواری سے گر کر فوت ہوئیں۔
اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
اس حدیث سے سمندری سفر کرنا جائز ثابت ہوا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں قیلولہ کرتے تھے۔
(فتح الباري: 93/11)
واللہ أعلم
شاید انہوں نے طلاق دے دی ہوگی‘ بعد میں ان سے نکاح ثانی کیا ہوگا۔
یہ اس جنگ کا ذکر ہے جس میں حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں رجب ۲۸ھ میں سب سے پہلا سمندری بیڑہ حضرت معاویہ ؓنے امیر المؤمنین کی اجازت سے تیار کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی بحری جنگ تھی جس میں ام حرام ؓ جو کہ نبی اکرمﷺ کی عزیزہ تھیں‘ شریک ہوئیں اور شہادت بھی پائی۔
حضرت معاویہ ؓ کی بیوی کا نام فاختہ تھا اور وہ بھی آپ کے ساتھ اس میں شریک تھیں۔
1۔
حضرت عثمان ؓکے دور حکومت میں حضرت امیر معاویہ ؓ کی زیر نگرانی مسلمانوں نے پہلا سمندری سفر کیا اور قبرص پر چڑھائی کی۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق حضرت اُم حرام ؓ بھی شریک ہوئیں اور شہادت پائی۔
حضرت امیر معاویہ ؓ کی زوجہ محترمہ بنت قرظہ بھی آپ کے ہمراہ تھیں۔
2۔
اس حدیث سے امام بخاری ؓ نے عورتوں کے لیے جہاد میں شرکت کو ثابت کیا ہے خواہ انھیں بحری سفر ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان ؓ رسول اللہ ﷺ کی رضاعى خالہ تھیں اس لیے آپ کا ان کے گھر آناجانا تھا۔
واللہ أعلم۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قباء جاتے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے یہاں بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں۔ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر کی جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں۔ آپ سو گئے، پھر جب اٹھے تو ہنستے ہوئے اٹھے، کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3173]