حدیث نمبر: 6272
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابراہیم بن المنذر حزامی نے خبر دی ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ نے ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاستئذان / حدیث: 6272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6272. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کے صحن میں دیکھا کہ آپ اپنے سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانوں کو شکم مبارک سے ملائے ہوئے پھر اپنے ہاتھوں سے پنڈلیاں پکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6272]
حدیث حاشیہ:
(1)
احتباء اور قرفصاء دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔
یہ بیٹھنے کا ایک انداز ہے۔
اس میں تواضع وانکسار اور خشوع وعاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔
حضرت قیلہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خشوع اور انکسار کی اس کیفیت میں دیکھا تو خوف سے کانپ اٹھی۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4847)
ان کی یہ کیفیت اس وجہ سے تھی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کا ظاہری بیٹھنا اس قدر خشوع اور انکسار کا مظہر ہے تو باطنی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا کیفیت ہوگی لیکن ہم لوگ اس نعمت سے کس قدر محروم ہیں۔
(2)
لیکن خطبۂ جمعہ میں اس طرح بیٹھنا ممنوع ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 1110)
کیونکہ اس طرح بیٹھنا بے پروائی اور عدم توجہ کی علامت خیال کی جاتی ہے، نیز اس سے نیند بھی آنا شروع ہوجاتی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6272 سے ماخوذ ہے۔