صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ كُنْيَةِ الْمُشْرِكِ: باب: مشرک کی کنیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ ؟ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ ، قَالَ : " نَعَمْ ، هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ ، لَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا ، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
ایک روایت میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''امید ہے کہ اسے میری سفارش کی وجہ سے جہنم میں ایسی جگہ پر رکھا جائے جہاں اس کے ٹخنوں تک آگ ہو گی جس سے اس کے دماغ کا مغز جوش مارے گا۔
'' (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6564) (2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان دونوں حدیثوں سے ثابت کیا ہے کہ مشرکین و کفار کو ان کی کنیت سے یاد کیا جا سکتا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں عبداللہ بن ابی کی کنیت ابو حباب اور دوسری حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی کنیت ابو طالب ذکر ہوئی ہے۔
ان کی شہرت اسی کنیت سے تھی، اس لیے انہیں نام کے بجائے کنیت سے یاد کیا گیا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ابو لہب کو اس کی کنیت سے ذکر کیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہو گیا۔
(اللھب: 111: 1)
وہ ابو لہب کی کنیت سے مشہور تھا، اس لیے اس کا ذکر کر دیا گیا۔
ایسا کرنا ان کے احترام یا وقار کی وجہ سے نہیں بلکہ شہرت کی وجہ سے ہے۔
(3)
واضح رہے کہ ابو طالب کا نام عبد مناف اور ابو لہب کا نام عبدالعزیٰ تھا۔
(فتح الباري: 726/10)
دوسری جگہ ہے کہ آپ نے فرمایا، ہاں پہنچایا۔
وہ گھٹنوں تک عذاب میں ہیں اور اگر میری یہ شفاعت نہ ہوتی تو وہ دوزخ کے نیچے والے درجہ میں داخل ہوتا۔
اختصار کے پیش نظر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ذکر نہیں کیا گیا۔
دوسری روایت میں اس کی تفصیل ہے کہ آپ نے اپنے چچا ابو طالب کو کوئی نفع پہنچایا جبکہ وہ آپ کی حفاظت کرتا تھا اور آپ کی خاطر دوسروں سے ناراض ہوتا تھا؟ آپ نے فرمایا: ’’اب جہنم کا عذاب اس کے ٹخنوں تک ہے، اگر میری سفارش نہ ہوتی تو وہ جہنم کے نچلے گڑھے میں ہوتا۔
‘‘ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3883)
ابو طالب کو برادری کی جھوٹی عزت نے تباہ کیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
آمین
«. . . حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِّكَ فَإِنَّهُ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ، قَالَ: " هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ , وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " . . . .»
”. . . عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اپنے چچا (ابوطالب) کے کیا کام آئے کہ وہ آپ کی حمایت کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غصہ ہوتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اسی وجہ سے) وہ صرف ٹخنوں تک جہنم میں ہیں اگر میں ان کی سفارش نہ کرتا تو وہ دوزخ کی تہ میں بالکل نیچے ہوتے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ/بَابُ قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ: 3883]
[125۔ البخاري فى: 63 كتاب مناقب الانصار: 40 باب قصة ابي طالب 3883، مسلم 209]
لغوی توضیح:
«يَحُوْطُكَ» وہ آپ کو بچایا کرتے تھے۔
«الضَّحْضَاح» جو پانی زمین پر بہہ کر ٹخنوں تک پہنچ جائے، یہاں اس مقدار کو «استعارةً» آگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
«الدَّرْك» طبقہ۔
«الْاَسْفَل» سب سے نچلا۔
حضرت عباس ؓ کا رسول اللہ ﷺ سے ابو طالب کے متعلق سوال کرنا اس روایت کے ضعف پر دلالت کرتا ہے جس کا مضمون یہ ہے جب ابو طالب پر موت کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے لا إله إلا اللہ پڑھنے کے متعلق کہا لیکن اس نے انکار کردیا۔
پھر حضرت عباس ؓ نے اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہوئے دیکھے تو اپنے کان اس کی طرف لگائے پھر رسول اللہ ﷺ سے کہا: ’’اے میرے بھتیجے! اس نے وہ کلمہ پڑھ لیا ہے جو آپ نے پیش کیا تھا۔
‘‘ یہ روایت بالکل ناقابل اعتبار ہے جو صحیح بخاری کی حدیث کے معارض پیش نہیں کی جا سکتی۔
اس کے شرک پر مرنے کی یہ بھی دلیل ہے کہ حضرت علی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ان الفاظ میں خبر دی کہ آپ کا چچا جو گمراہ تھا مر گیا ہے تو آپ نے فرمایا: ’’اسے دفن کردو۔
‘‘ حضرت علی ؓ نے کہا وہ بحالت شرک مرا ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’بس اسے دفن کردو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجنائز، حدیث: 3214)
اس حدیث کا واضح مطلب ہے کہ ابو طالب شرک کی حالت میں مرا ہے۔
(فتح الباري: 245/7)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اس وقت تک کسی شخص کو جنت میں نہیں لے کر جائے گی، یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لے، بزرگوں کے عرس میلے منا لینے سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہو جاتے، بلکہ اسلام قبول کر کے اس پرعمل کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتے ہیں۔