صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ تَحْوِيلِ الاِسْمِ إِلَى اسْمٍ أَحْسَنَ مِنْهُ: باب: کسی برے نام کو بدل کر اچھا نام رکھنا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ : " أُتِيَ بِالْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ ، فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ وَأَبُو أُسَيْدٍ جَالِسٌ ، فَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمَرَ أَبُو أُسَيْدٍ بِابْنِهِ ، فَاحْتُمِلَ مِنْ فَخِذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَفَاقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الصَّبِيُّ " ، فَقَالَ أَبُو أُسَيْدٍ : قَلَبْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : فُلَانٌ . قَالَ : وَلَكِنْ أَسْمِهِ الْمُنْذِرَ ، فَسَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ الْمُنْذِرَ " .´ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` منذر بن ابی اسید رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو اپنی ران پر رکھ لیا ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز میں جو سامنے تھی مصروف ہو گئے ( اور بچہ کی طرف توجہ ہٹ گئی ) ۔ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بچہ کے متعلق حکم دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے اٹھا لیا گیا ۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ بچہ کہاں ہے ؟ ابواسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے گھر بھیج دیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اس کا نام کیا ہے ؟ عرض کیا کہ فلاں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بلکہ اس کا نام منذر ہے ۔ چنانچہ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہی نام منذر رکھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فالی کے طور پر بچے کا نام منذر رکھا تاکہ اللہ تعالیٰ اسے علم کی دولت عطا فرمائے اور وہ اپنی قوم کو برے انجام سے آگاہ کرے۔
(2)
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بئر معونہ میں اس کے خاندان کے ایک بزرگ منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تھے تو انہی کے نام پر ان کا نام رکھ دیا گیا تھا۔
(صحیح البخاري،المغازي، حدیث: 4093)
(1)
لهي بشئي: آپ کسی چیز میں مشغول ہوگئے اور آپ کی سہولت کی خاطر بچے کو آپ کی ران سے اٹھا لیا گیا اور کسی دوسرے وقت گھٹی دلوانے کی نیت پر واپس بھیج دیا گیا۔
(2)
استفاق: آپ اپنی سوچ اور فکر سے بیدار ہوئے تو بچہ کو دیکھا اور اس کے بارے میں پوچھا۔
فوائد ومسائل: بچے کے باپ کا چچا زاد منذر بن عمرو، بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہو چکا تھا، اس لیے آپ نے نیک شگون کے لیے بچہ کا نام منذر رکھا، تاکہ وہ بھی شہید ہونے والے منذر کے نقش قدم پر چلے، یا اس کو انذار کے لیے علم نصیب ہو۔