صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمُّوا بِاسْمِي، وَلاَ تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت نہ رکھو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ ، فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ ، فَقَالُوا لَا نَكْنِيكَ بِأَبِي الْقَاسِمِ ، وَلَا نُنْعِمُكَ عَيْنًا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " أَسْمِ ابْنَكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ " .´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا کہ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` ہم میں سے ایک آدمی کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ۔ صحابہ نے کہا کہ ہم تمہاری کنیت ابوالقاسم نہیں رکھیں گے اور نہ تیری آنکھ اس کنیت سے پکار کر ٹھنڈی کریں گے ۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے لڑکے کا نام عبدالرحمٰن رکھ لو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے پکارا یا ابا القاسم۔
آپ اس پر متوجہ ہو گئے تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا تھا اس وقت آپ نے اشتباہ کو روکنے کے لئے یہ حکم صادر فرمایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ابو القاسم کنیت اختیار کرنا جائز نہ تھا۔
اس ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تھے، ایک شخص نے ابو القاسم کہہ کر آواز دی تو آپ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
آواز دینے والے نے کہا: میں نے آواز آپ کو نہیں دی بلکہ فلاں شخص کو دی ہے۔
اس وقت آپ نے یہ کنیت رکھنے سے منع فرما دیا۔
(صحیح البخاري، البیوع، حدیث: 2121)
رخصت کے متعلق ایک حدیث بھی مروی ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو تو کیا میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام اور کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں رکھ سکتے ہو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4967)