حدیث نمبر: 6154
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا داود راز

´ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو حنظلہ نے خبر دی ، انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6154
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6154. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعروں سے بھرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6154]
حدیث حاشیہ: مراد وہ گندی شاعری ہے۔
جس کا تعلق عشق فسق سے یا کسی بے جا مدح وذم سے ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6154 سے ماخوذ ہے۔