صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ: باب: مشرکوں کی ہجو کرنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْهَيْثَمَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ فِي قَصَصِهِ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ ، يَعْنِي بِذَاكَ ابْنَ رَوَاحَةَ " ، قَالَ : وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، الزُّبَيْدِيُّ : عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَالْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .´ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ` انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی ۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا ” اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے ۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا ۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا ۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں ۔ “ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک پیغمبر خدا کا پڑھتا ہے اس کی کتاب اور سناتا ہے ہمیں جب صبح کی پوپھٹتی ہے ہم تو اندھے تھے اسی نے راستہ بتلایا دیا بات ہے یقینی دل میں جا کر کھیتی ہے رات کو رکھتا ہے پہلو اپنے بستر سے الگ کافروں کی خواب گاہ کو نیند بھاری کرتی ہے پہلے شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی طرف اشارہ ہے اورتیسرے میں آپ کے عمل کی طرف اشارہ ہے پس آپ علم اور عمل ہر لحاظ سے کامل ومکمل ہیں۔
مشرکین کے خلاف زبان سے جہاد کرنے کی عملی صورت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی شعر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور مشرکین کی مذمت فرمائی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں شعر گوئی پر بہت دسترس اور قدرت حاصل تھی۔
سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے پہلے شعر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی حالت کو بیان کیا ہے کہ آپ کو کتاب اللہ سے بہت دلچسپی ہے جبکہ تیسرے شعر میں آپ کی عملی کیفیت کا ذکر ہے کہ آپ رات کو اٹھ کر اپنے رب کے حضور راز و نیاز کرتے ہیں۔
دوسرے شعر میں یہ اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو بھی کامل کرتے ہیں، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم و عمل میں کامل اور دوسروں کو مکمل کرنے والے ہیں۔