صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ مَا يَكُونُ مِنَ الظَّنِّ: باب: گمان سے کوئی بات کہنا۔
حدیث نمبر: 6067
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِينِنَا شَيْئًا " قَالَ اللَّيْثُ : كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِينَ .مولانا داود راز
´ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں گمان کرتا ہوں کہ فلاں اور فلاں ہمارے دین کی کوئی بات نہیں جانتے ہیں ۔ “ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ یہ دونوں آدمی منافق تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6067. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں فلاں فلاں شخص کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین کے بارے میں کچھ معلومات رکھتے ہوں۔ “ (راوی حدیث) نے کہا: وہ دو آدمی منافق تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6067]
حدیث حاشیہ: حافظ نے کہا کہ ان دونوں کے نام مجھ کو معلوم نہیں ہوئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6067 سے ماخوذ ہے۔