صحيح البخاري
كتاب مواقيت الصلاة— کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
بَابُ السَّمَرِ مَعَ الضَّيْفِ وَالأَهْلِ: باب: اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو (عشاء کے بعد) گفتگو کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ ، قَالَ : فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي ، فَلَا أَدْرِي ، قَالَ : وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ ، قَالَ : أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ ، قَالَتْ : أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ ، فَقَالَ : يَا غُنْثَرُ ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ ، وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا ، قَالَ : يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ ، مَا هَذَا ؟ قَالَتْ : لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي ، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ : إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً ، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ " .´ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے ، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ` اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے ( اصحاب صفہ میں سے کسی ) کو اپنے ساتھ لیتا جائے ۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے ۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ ، ماں اور میں تھا ۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے ۔ خیر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ٹھہر گئے ۔ ( اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا ۔ صورت یہ ہوئی کہ ) نماز عشاء تک وہیں رہے ۔ پھر ( مسجد سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھانا کھا لیا ۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی ( ام رومان ) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی ، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی ۔ آپ نے پوچھا ، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا ۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا ۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پکارا اے غنثر ! ( یعنی او پاجی ) آپ نے برا بھلا کہا اور کوسنے دئیے ۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو ! اللہ کی قسم ! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا ۔ ( آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا ) ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا ) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہو جاتا تھا ۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہو گئے ۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا ۔ اپنی بیوی سے بولے ۔ بنوفراس کی بہن ! یہ کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے ۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا ۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا ۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا ۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہو چکی تھی ۔ ( اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا ) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا ۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا ہی کہا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ . . . .»
”. . . عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمی اپنے ساتھ لائے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ/بَابُ السَّمَرِ مَعَ الضَّيْفِ وَالأَهْلِ:: 602]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مہمانوں کو گھر بھیج دیا تھا اور گھر والوں کو کہلوا بھیجا تھا کہ مہمانوں کو کھانا کھلا دیں۔ لیکن مہمان یہ چاہتے تھے کہ آپ ہی کے ساتھ کھانا کھائیں۔ ادھر آپ مطمئن تھے۔ اس لیے یہ صورت پیش آئی۔ پھر آپ کے آنے پر انھوں نے کھانا کھایا۔ دوسری روایتوں میں یہ بھی ہے کہ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھا لیا۔ اور اس کے بعد بھی کھانے میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی کرامت تھی۔ کرامت اولیاء برحق ہے۔ مگر اہل بدعت نے جو جھوٹی کرامتیں گھڑ لی ہیں۔ وہ محض لایعنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت دے۔
(1)
دن کے اوقات میں کاروباری مصروفیات اور دیگر مشاغل کی وجہ سے انسان گھریلو ضروریات کے متعلق اہل خانہ سے تبادلۂ خیالات اور باہمی مشاورت کےلیے فرصت نہیں پاسکتا، اس لیے رات کے وقت کھانے وغیرہ سے فراغت کے بعد بیوی بچوں سے بات چیت کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے، نیز مہمان کی آمد کا کوئی طے شدہ وقت نہیں ہوتا، وہ کسی بھی وقت حاضر ہوسکتا ہے۔
عشاء کے بعد اس کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پیش آسکتی ہے، اس لیے شریعت نے ایسی ہنگامی ضروریات کا خیال رکھا ہے۔
امام بخاری ؒ اللہ چونکہ بندوں کی ضروریات کے ساتھ نصوص پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں، اس لیے آپ نے قائم کردہ عنوان کو درج بالا حدیث سے ثابت کیا ہے۔
(2)
اس حدیث سے درج ذیل مسائل کا اثبات ہوتا ہے: ٭جب لوگوں پر رزق کی تنگی ہوتو حاکم وقت ان کی کفالت بقدر وسعت دوسرے لوگوں پر ڈال سکتا ہے۔
٭رئیس قوم کے ساتھ کھانا تناول کرنے کی گنجائش ہے، اگرچہ گھر میں مہمان موجود ہوں۔
٭صاحب منزل کی طرح دیگر افراد کو بھی چاہیے کہ وہ مہمانوں کا پورا پورا خیال رکھیں۔
٭مہمانوں کو چاہیے کہ وہ صاحب منزل کے احترام کے پیش نطر کھانے کے لیے اس کا انتطار کریں۔
٭کوئی بابرکت چیز گھر میں آئے تو اہل علم اور صاحبان فضل کوبھی اس میں شریک کرنا چاہیے۔
٭اولیاء کی کرامات برحق ہیں، لیکن اہل بدعت نے اس آڑ میں جو شاخسانہ کھڑا کیا ہے وہ خود ساختہ ہے۔
٭کسی کوتاہی پر خوف اور ڈر کے پیش نظر اپنے والد یا بڑے کی نگاہوں سے اوجھل ہوجانا جائز ہے۔
٭اولاد کو کسی کوتاہی کی وجہ سے ڈانٹ پلانا اور اسے برا بھلا کہنا درست ہے۔
٭اگر کسی ناروابات پر قسم اٹھالی جائے تو اسے توڑا جاسکتا ہے۔
٭اگر ضرورت سے زائد کھانا موجود ہو تو اگلے دن کےلیے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔
٭اگر صاحب منزل نے ہدایت کردی ہو تو مہمان کو اس کی عدم موجودگی میں کھانا کھالینا چاہیے۔
(عمدة القاري: 142/4) (3)
چونکہ کتاب المواقیت کا اختتام ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے حسب عادت براعت اختتام کا پوراپورا خیال رکھا ہے۔
اس حدیث میں (مضى الأجل)
کے الفاظ ہیں۔
ان سے موت کی طرف اشارہ ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت موت کی تیاری میں رہے۔
دنیا کی مہلت کسی بھی وقت ختم ہوسکتی ہے۔
والله المستعان.
ام رومان فراس بن غنم بن مالک بن کنانہ کی اولاد میں سے تھیں عرب کے محاورہ میں جو کوئی کسی قبیلے سے ہوتا ہے اس کو اس کا بھائی کہتے ہیں۔
اس حدیث میں بھی آپ کے ایک عظیم معجزہ کا ذکر ہے۔
یہی مطابقت باب ہے، اس حدیث کے ذیل میں مولانا وحید الزماں مرحوم لکھتے ہیں، ہوا یہ ہوگا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے شام کو کھانا آنحضرت ﷺ کے گھر کھالیا ہوگا مگر آنحضرت ﷺ نے نہ کھایا ہوگا۔
عشاءکے بعد آپ نے کھایاہوگا۔
اس حدیث کے ترجمہ میں بہت اشکال ہے اور بڑی مشکل سے معنی جمتے ہیں ورنہ تکرار بے فائدہ لازم آتی ہے اور ممکن ہے راوی نے الفاظ میں غلطی کی ہو۔
چنانچہ مسلم کی روایت میں دوسرے لفظ تعشی کے بدل حتی نعس ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے پاس اتنا ٹھہرے کہ آپ اونگھنے لگے۔
قاضی عیاض نے کہا یہی ٹھیک ہے۔
بعض راویوں نے فتفرقنا اثنا عشر رجلا نقل کیا ہے، جس کے مطابق یہاں ترجمہ کیا گیا اور بعض نسخوں میں ففرقنا یعنی ہماری بارہ ٹکڑیاں ہوگئیں۔
ہرٹکڑی ایک آدمی کے تحت میں تھی۔
بعض نسخوں میں یوں ہے کہ بارہ آدمیوں کو مسلمانوں نے نقیب بنایا۔
بعض میں فقرینا ہے۔
یعنی ہم نے بارہ آدمیوں کی ضیافت کی۔
ہر آدمی کے ساتھ کتنے آدمی تھے یہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔
اس حدیث شریف میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی کرامت مذکور ہے مگر اولیاءاللہ کی کرامت ان کے پیغمبروں کا معجزہ ہے کیونکہ پیغمبرہی کی تابعداری کی برکت سے انکو یہ درجہ ملاہے۔
اس لیے باب کا مطلب حاصل ہوگیا۔
یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے۔
(وحیدی)
1۔
اصحاب صفہ مسجد کے آخری حصے میں رہا کرتے تھے جونادار لوگوں کے لیے تیار کیا گیا تھا جن کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ یا مکان نہ تھا اور ان کا وہاں اہل و عیال بھی نہ ہوتا تھا ان میں سے کسی کی شادی ہو جانے فوت ہو جانے یا سفر پر جانے کی صورت میں یہ حضرات کم و بیش ہوتے رہتے تھے وہ لوگوں کے مہمان تھے اور رسول اللہ ﷺ سے علمی فائدہ حاصل کرتے تھے۔
2۔
اس حدیث میں حضرت ابو بکر ؓ کی کرامت کا ذکر ہے مگر اولیاء کی کرامت بھی داصل ان کے پیغمبر کا معجزہ ہوتی ہے کیونکہ رسول کی فرمانبرداری کے نتیجے میں انھیں کرامت کا اعزاز ملتا ہے عنوان معجزات اور کرامات دونوں کو شامل ہے بعض شارحین نے اعتراض کیا ہے کہ عنوان علامات نبوت کا ہے جبکہ اس حدیث میں حضرت ابو بکر ؓ کی کرامت کا ذکر ہے اس لیے یہ حدیث عنوان کے مطابق نہیں لیکن اس عتراض کی کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اس کھانے میں پوری برکت تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کے بعد ہوئی اس لیے اس کھانے کو تمام لشکر نے کھایا اور سب اس سے سیر ہو گئے اگرچہ اس برکت کی ابتدا حضرت ابو بکر ؓ کے گھر سے ہوئی تھی۔
اس طرح یہ حدیث معجزہ اور کرامت دونوں پر مشتمل ہے۔
(1)
يا عنثر: اے نادان، جاہل، کمینے، کیونکہ انہوں نے سمجھا عبدالرحمٰن نے مہمانوں کو کھانا کھلانے میں کوتاہی کی ہے، اس لیے، انہیں برا بھلا کہا اور ناک کٹنے کی بات کی۔
(2)
لاهنئيا: تم نے گھر والوں کو پریشان کیا اور بیٹے کی بجائے باپ کی حاضری پر اصرار کیا، اس لیے کھانا تمہارے لیے خوش گوار نہ ہو، یا کھانا پڑے پڑے ٹھنڈا ہوگیا، اس لیے خوش گوار نہیں ہے۔
فوائد ومسائل: اصحاب صفہ، طالب علم تھے، جو گھر بار چھوڑ کر تعلیم کے لیے آپ کے پاس آتے تھے اور مسجد کے چھپر میں ہی رہتے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے کھانے کا انتظام فرماتے اور وہ خود بھی اس کے لیے کوشش کرتے اور آپ نے لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے ہمدردی اور خیرخواہی کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ایک دن ساتھیوں سے فرمایا، ہر آدمی اپنی وسعت و گنجائش کے مطابق ان میں سے ایک یا دو کو لے جائے اور دوسروں کو ترغیب دینے کے لیے خود اپنے گھر کے افراد کی تعداد کے مطابق دس آدمیوں کو لے گئے، اس طرح آپ نے آغاز اپنے گھر سے کیا اور سب سے زیادہ جودوسخا کا مظاہرہ فرمایا اور یہ اسوہ حسنہ ہی دراصل لوگوں کو حوصلہ دلاتا ہے اور ان کے اندر کام کرنے کی رغبت پیدا کرتا ہے، جو بدقسمتی سے آج مفقود ہے، کوئی دینی و دنیوی لیڈر دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بنتا صرف زبانی کلامی نعروں سے لوگوں کا پیٹ بھرتا ہے، آج یہ لوگ اپنی تجوریوں کا منہ کھول دیں تو لوگ بھی یقینا ان کی اقتدا میں اپنا مال فقراء اور مساکین کو دینے کے لیے تیار ہو جائیں اور غربت کا علاج ہو جائے اور اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قلبی تعلق اور ربط بھی واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنے مہمان اپنے بیٹے کے سپرد کر کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے گئے اور رات گئے تک، جب تک آپ سونے نہیں گئے، گھر واپس نہیں آئے اور پھر مہمانوں کی خدمت میں کوتاہی کا مرتکب خیال کر کے اپنے شادی شدہ بیٹے کو بھی برا بھلا کہا اور وہ ڈر کے مارے چھپ گیا، جس سے معلوم ہوا وہ دوسروں کے لیے تو بہت نرم اور شفیق تھے، لیکن بیٹوں کا سخت محاسبہ کرتے تھے اور انہوں نے مہمانوں کے بیجا اصرار پر غصہ کا اظہار فرماتے ہوئے، کھانا کھانے سے انکار کیا اور قسم اٹھا دی، لیکن جب مہمانوں نے بھی قسم اٹھا دی تو اپنی قسم کو توڑ ڈالا تاکہ مہمان بھوکے نہ رہیں اور اس کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے ان کی کرامت ظاہر کر دی کہ کھانے میں برکت ڈال دی، جس کو دیکھ کر انہوں نے دوبارہ لقمہ لیا اور پھر کھانا آپ کو پیش کر دیا، جس میں آپ کی کرامت کا ظہور ہوا کہ وہ کھانا بارہ افراد کے ماتحت افراد کے لیے کافی ہو گیا۔