صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ رَحْمَةِ النَّاسِ وَالْبَهَائِمِ: باب: انسانوں اور جانوروں سب پر رحم کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، ان سے عامر نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں
اس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت، ان کی معاونت اور ایک دوسرے پر ان کی شفقت کا پتا چلتا ہے کہ وہ جسد واحد (ایک جسم)
کی طرح ہیں، یعنی تکلیف و راحت میں جسم کے تمام اعضاء آپس میں موافقت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیے کہ کسی ایک مسلمان کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر تڑپ جائیں اور اس کی مدد کے لیے بےقرار ہو جائیں لیکن دور حاضر میں یہ گوہر نایاب ہے۔
واللہ Eعلم