مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 6011
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، ان سے عامر نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے سنا ہے کہ میں نے نعمان بن بشیر سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے ، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔“

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 6011
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2586 | معجم صغير للطبراني: 1161

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6011. حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اہل ایمان کو ایک دوسرے پر رحم کرنے آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شفقت کے ساتھ پیش آنے میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے جس کے ایک عضو کو اگر تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے قرار ہو جاتا ہے اس کی نیند اڑ جاتی ہے اور سارا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6011]
حدیث حاشیہ: مسلمانوں کی یہی شان ہونے چاہیئے مگر آج یہ چیز بالکل نایاب ہے۔
نہیں دستیاب اب دو ایسے مسلماں کہ ہو ایک کو دےکھ کر ایک شاداں
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6011 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6011. حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اہل ایمان کو ایک دوسرے پر رحم کرنے آپس میں محبت کرنے اور ایک دوسرے سے شفقت کے ساتھ پیش آنے میں ایک جسم کی مانند دیکھو گے جس کے ایک عضو کو اگر تکلیف پہنچے تو سارا جسم بے قرار ہو جاتا ہے اس کی نیند اڑ جاتی ہے اور سارا جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6011]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت، ان کی معاونت اور ایک دوسرے پر ان کی شفقت کا پتا چلتا ہے کہ وہ جسد واحد (ایک جسم)
کی طرح ہیں، یعنی تکلیف و راحت میں جسم کے تمام اعضاء آپس میں موافقت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو دکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔
مسلمانوں کی یہی شان ہونی چاہیے کہ کسی ایک مسلمان کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر تڑپ جائیں اور اس کی مدد کے لیے بےقرار ہو جائیں لیکن دور حاضر میں یہ گوہر نایاب ہے۔
واللہ Eعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6011 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2586 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مومنوں کی باہمی محبت کرنے ایک دوسرے پر رحم کرنے اور شفقت و مہربانی کرنے میں تمثیل جسم انسانی کی طرح ہے، جب اس کا کوئی عضو بیمار پڑتا ہے، تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی خاطر سارا جسم بے خوابی اور بخار کو دعوت دیتا ہے۔ یعنی جسم کے باقی حصے بھی بے خوابی اور بخار میں شریک ہو جاتے ہیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6586]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، ایمان والوں میں باہم ایسی محبت و مودت، ایسی رحمت و شفقت اور ہمدردی و خیرخواہی اور ایسا دلی تعلق ہونا چاہیے کہ دیکھنے والی آنکھ ان کو اس حالت میں دیکھے کہ اگر ان میں سے کوئی دکھ، درد یا تکلیف و مشکل میں مبتلا ہے تو سب اس کو اپنا دکھ، درد اور مصیبت خیال کریں اور سب اس کی پریشانی و بے قراری میں مبتلا ہوں اور اس کو اپنے دکھ، درد کی طرح دور کرنے کی کوشش کریں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2586 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔