صحيح البخاري
كتاب الأدب— کتاب: اخلاق کے بیان میں
بَابُ مَنْ وَصَلَ وَصَلَهُ اللَّهُ: باب: جو شخص ناطہٰ جوڑے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاپ رکھے گا۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمِّي سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ خَلْقِهِ قَالَتْ : الرَّحِمُ هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِكَ مِنَ الْقَطِيعَةِ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : بَلَى يَا رَبِّ ، قَالَ فَهُوَ لَكِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ سورة محمد آية 22 " .´مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو معاویہ بن ابی مزرد نے خبر دی ، کہا کہ میں نے اپنے چچا سعید بن یسار سے سنا ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی اور جب اس سے فراغت ہوئی تو رحم نے عرض کیا کہ یہ اس شخص کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے تیری پناہ مانگے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہاں کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میں اس سے جوڑوں گا جو تم سے اپنے آپ کو جوڑے اور اس سے توڑ لوں گا جو تم سے اپنے آپ کو توڑ لے ؟ رحم نے کہا کیوں نہیں ، اے رب ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پس یہ تجھ کو دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «فهل عسيتم إن توليتم أن تفسدوا في الأرض وتقطعوا أرحامكم» یعنی ” کچھ عجیب نہیں کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کرو اور رشتے ناطے توڑ ڈالو ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
دوسری روایت میں ہے کہ اللہ نے ناطہ سے فصیح بلیغ زبان میں یہ گفتگو کی۔
ترجمہ باب سے اس سے نکلا کہ اللہ تعالی نے ناطہ سے کلام فرمایا۔
آیت میں یہ بھی بتلایا گیا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار ودولت ملنے پر فساد وقطع رحمی ضرور کرتےہیں۔
إلا ماشاء اللہ۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےتائید کے طور پر یہ آیت کریمہ خود تلاوت فرمائی تاکہ صلہ رحمی کی اہمیت اُجاگر ہو۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4831)
2۔
اس حدیث کے مطابق اللہ سبحانہ وتعالیٰ خود رحم سے ہم کلام ہو اور اس سے خطاب کیا، اس کلام کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے مبنی برحقیقت تسلیم کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کے خطابات اس کی نازل کی ہوئی کتابوں میں محصور نہیں ہیں۔
اس کے خطابات ایسی صفات ہیں جو اس کی مشیت سے متعلق ہیں۔
مخلوق کے ساتھ کسی بھی انداز سے ان کی مشابہت نہیں ہے۔
آیت کریمہ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اکثر لوگ دنیاوی اقتدار اور مال ودولت ملنے پر اپنے رشتے داروں سے فساد اور قطع رحمی کا ارتکاب کرتے ہیں۔
العیاذ باللہ۔
اس لیے جو صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتہ داروں اور قرابت کے حقوق ادا کرے گا اور ان سے حسن سلوک سے پیش آئے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے وابستہ کر لے گا اور اپنا بنا لے گا اور جو قطع رحمی کا رویہ اختیار کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سے کاٹ دے گا اور اس کو دور اور بے تعلق کر دے گا اور ایسا انسان اللہ کے لطف و کرم اور اس کے احسان و اکرام سے محروم ہو گا۔