حدیث نمبر: 5983
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : مَا لَهُ مَا لَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَرَبٌ مَا لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ " ذَرْهَا قَالَ : كَأَنَّهُ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ .
مولانا داود راز

´( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا ، ان سے بہز بن اسد بصریٰ نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا کہ` انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا اور انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ ایک صاحب نے کہا : یا رسول اللہ ! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں لے جائے ۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اسے کیا ہو گیا ہے ، اسے کیا ہو گیا ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں ہو کیا گیا ہے ؟ اجی اس کو ضرورت ہے بیچارہ اس لیے پوچھتا ہے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کر ، نماز قائم کر ، زکوٰۃ دیتے رہو اور صلہ رحمی کرتے رہو ۔ ( بس یہ اعمال تجھ کو جنت میں لے جائیں گے ) چل اب نکیل چھوڑ دے ۔ راوی نے کہا شاید اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأدب / حدیث: 5983
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1396 | صحيح مسلم: 13 | سنن نسائي: 469

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
5983. حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ لوگوں نے کہا: اسے کیا ہو گیا ہے اسے کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ضرورت مند ہے اور اسے کیا ہوا ہے۔ نبی ﷺ نے (اسے) فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرتے رہو، اب اسے (میری اونٹنی) کو چھوڑ دو۔ گویا آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5983]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ جنت حاصل کرنے کے لیے حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے ورنہ جنت کا خواب دیکھنے والوں کے لیے جنت ہی ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5983 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
5983. حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کی: اللہ کے رسول! کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ لوگوں نے کہا: اسے کیا ہو گیا ہے اسے کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ضرورت مند ہے اور اسے کیا ہوا ہے۔ نبی ﷺ نے (اسے) فرمایا: اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرتے رہو، اب اسے (میری اونٹنی) کو چھوڑ دو۔ گویا آپ اس وقت اپنی سواری پر تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5983]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صلہ رحمی جنت میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کی مدد صلہ رحمی کرنے والے کے شامل حال رہتی ہے، چنانچہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے چند ایک رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ اس رشتے کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہوں لیکن وہ اس کا بدتمیزی کے ساتھ بدلہ دیتے ہیں۔
میں ان کی زیادتی کو ٹھنڈے دل سے برداشت کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو صحیح کہتا ہے تو گویا ان کے منہ میں گرم راکھ ڈال رہا ہے۔
جب تک تو اپنے عمل کو قائم رکھے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہوگا۔
‘‘ (صحیح مسلم، البروالصلة، حدیث: 6525(2558) (2)
اللہ تعالیٰ کے ہاں صلہ رحمی کا مطلوبہ معیار حسب ذیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے: ’’کسی کام کا بدلہ دینا صلہ رحمی نہیں صلہ رحمی یہ ہے کہ جب اس سے رشتے داری توڑی جائے تو وہ اسے ملائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 5991)
رشتے داروں کے ساتھ معاملہ کرنے کے تین مراتب حسب ذیل ہیں: ٭ صلہ رحمی: رشتے دار تعلقات ختم کر دیں تو ان سے میل ملاپ رکھے۔
٭مکافات: رشتے دار اچھا سلوک کریں تو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
٭قطع رحمی، اپنے رشتے داروں سے قطع تعلق کرے۔
یہ آخری مرتبہ انتہائی بدترین درجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5983 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1396 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
1396. حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ کسی نے کہا: اسے کیا ہو گیا ہے؟ اسے کیا ہو گیا ہے؟ نبی ﷺ نےفرمایا: ’’صاحب حاجت ہے اور اسے کیا ہوا ہے؟ اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا، نماز پڑھ، زکاۃ دے اور صلہ رحمی کا رویہ اختیار کر۔‘‘ (راوی حدیث) بہز نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہمیں محمد بن عثمان اور ان کے والد عثمان بن عبد اللہ نے بتایا، ان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا، انھوں نے ابو ایوب سے اور وہ نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری ؓ فرماتے ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ سند میں محمد بن عثمان کے متعلق شعبہ کو وہم ہو گیا ہو دراصل صحیح عمرو بن عثمان ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:1396]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ وجوب زکاۃ کے لیے اس حدیث کی دلالت بہت الجھن کا باعث ہے، پھر خود ہی چند ایک جواب دیے ہیں، مثلا: اس حدیث سے فرضیت زکاۃ بایں طور ثابت ہوتی ہے کہ جنت میں جانا ادائیگی زکاۃ پر منحصر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جو زکاۃ نہیں دے گا وہ جہنم میں جائے گا اور جہنم میں جانا ایک ایسی چیز کے ترک سے ہوتا ہے جو واجب ہو۔
اس طرح اس حدیث سے فرضیت زکاۃ ثابت ہوتی ہے۔
(2)
واقعاتی طور پر دو احادیث کے مضامین میں گہری مماثلت اور یکسانیت ہو تو امام بخاری ؒ کی عادت ہے کہ وہ ایک حدیث کے ذریعے سے دوسری حدیث کی تفسیر کرتے ہیں۔
اس مقام پر بھی حدیث ابو ایوب اور بعد میں آنے والی حدیث ابو ہریرہ میں بہت مماثلت ہے، اس لیے دوسری حدیث کو مذکورہ حدیث کے لیے تفسیر قرار دیا ہے۔
چونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ فرض زکاۃ ادا کرو، اس لیے حدیث مذکورہ میں بھی فرض زکاۃ ہی مراد ہے۔
(فتح الباري: 333/3)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1396 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 469 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نماز قائم کرنے والے کے ثواب کا بیان۔`
ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کرے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو، اسے چھوڑ دو گویا آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 469]
469۔ اردو حاشیہ: ➊ «ذَرْهَا» میں اس چیز کی طرف اشارہ تھا کہ تیرے سوال کا جواب پورا ہو گیا ہے اب اس کو چھوڑ دے۔ اس نے سوال کرنے سے پہلے آپ کی اونٹنی کی مہار پکڑلی تھی۔
➋اس حدیث میں ارکانِ اسلام مذکور ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 469 سے ماخوذ ہے۔